رسائی کے لنکس

شدت پسندوں کی تباہی سے متاثرہ ورثے کی تحفظ کے لیے کوشش


ہزاروں سال پرانے شہر نمرود سے حاصل ہونے والے نمونے (فائل فوٹو)

ہزاروں سال پرانے شہر نمرود سے حاصل ہونے والے نمونے (فائل فوٹو)

داعش نے عراق اور شام میں 2014ء میں ایک وسیع علاقے پر قبضے کے بعد یہاں ہزاروں سال پرانے ورثے کو تباہ و برباد کر دیا تھا۔

شدت پسند تنظیم کی طرف سے کیے جانے والے حملوں اور دنیا بھر میں دیگر جنگوں میں تباہ ہونے والے ثقافتی ورثے کے تحفظ کے لیے فرانس کروڑوں ڈالر کے فنڈز جمع کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔

پیر کو پیرس میں لوو میوزیم میں ایک کانفرنس کا اہتمام کیا گیا جس کا مقصد بین لاقوامی سطح پر ایک فنڈ کا قیام ہے تاکہ تاریخی مقامات کو تباہی سے بچانے کے اقدام کیے جا سکیں۔

فرانس کا یہ میوزم دنیا کا سب سے بڑا عجائب گھر اور پیرس کی ایک تاریخی علامت ہے۔

منتظمین یہ بھی چاہتے ہیں کہ عالمی سطح پر ایک ایسا نیٹ ورک تشکیل دیا جائے جو جنگوں سے متاثر ہونے والے نوادرات کو عارضی طور پر کہیں محفوظ رکھے اور جہاں کہیں بھی تاریخی مقامات تباہ ہوئے ہیں ان کی بحالی کے لیے مالی معاونت فراہم کرے۔

ایسی ہی کوششوں کے سلسلے میں گزشتہ دسمبر میں فرانس نے تین کروڑ ڈالر دینے کا وعدہ کرتے ہوئے توقع ظاہر کی تھی کہ اس ضمن میں دس کروڑ ڈالر کا ہدف حاصل کر لیا جائے گا۔

داعش نے عراق اور شام میں 2014ء میں ایک وسیع علاقے پر قبضے کے بعد یہاں ہزاروں سال پرانے ورثے کو تباہ و برباد کر دیا تھا۔

ان میں شام کا تاریخی شہر پالمیرا، عراق میں موصل کا عجائب گھر اور تیرہویں صدی قبل مسیح کا شہر نمرود بھی شامل ہیں۔

شدت پسندوں یہاں تاریخی باقیات کو تباہ کرنے کے علاوہ یہاں سے نادر نوادرات بھی اٹھا کر لے گئے تھے۔

ایسے آثار قدیمہ کی تباہی پر پوری دنیا میں خاص طور پر تاریخ و ثقافت سے دلچسپی رکھنے والوں کی طرف سے شدید غم و غصے کا اظہار کیا گیا تھا۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG