رسائی کے لنکس

نئی تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ بچوں کو یاد رہتا ہے کہ کب ان کے استاد یا والدین نے انھیں جان بوجھ کر معلومات سے آگاہ نہیں کیا تھا۔

بہت سے والدین اس بات کو تسلیم کرتے ہیں کہ بعض اوقات بچوں کے مفاد میں بہت سی باتیں ان سے چھپانی پڑتی ہیں۔

لیکن نئی تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ والدین کی اس حکمت عملی کو بچے نہ صرف بخوبی پہچان سکتے ہیں بلکہ انھیں یاد رہتا ہے کہ کب ان کے استاد یا والدین نے انھیں جان بوجھ کر معلومات سے آگاہ نہیں کیا تھا ۔

'میسا چوسٹس یونیورسٹی انسٹیٹیوٹ آف ٹیکنالوجی' کے ایک نئے مطالعے میں بتایا گیا ہے کہ بچے ادھوری معلومات حاصل ہونے پرجان بوجھ کر چھپائے جانے والی بقیہ معلومات کی کمی کو خود اپنی معلومات سے پر کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔

اس نئی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ بالغان کی جانب سے معلومات چھپانے کے حربے سے آگاہ ہونے کے بعد بچے انہیں دستیاب معلومات سے غیر مطمئن نظر آتے ہیں اور اسے خود سے مکمل کرنے کی کوشش ضرور کرتے ہیں۔

'جرنل کنیکشن' نامی جریدے میں شائع ہونے والی رپورٹ میں مطالعے کے سربراہ ہائی وان گیوان نے کہا ہے کہ کس پر بھروسہ کیا جائے اور کس پر نہ کیا جائے، یہ ایک ایسی مہارت ہے جس سے ہم بچپن میں ہی روشناس ہو جاتے ہیں۔ ان کے بقول اس کی وجہ یہ ہے کہ دنیا کے بارے میں زیادہ تر معلومات ہمیں دوسرے لوگوں سے حاصل ہوتی ہے۔

انھوں نے کہا کہ جب کوئی ہماری معلومات میں اضافہ کرتا ہے تو ہم نہ صرف یہ سیکھتے ہیں کہ ہمیں کیا سکھایا جارہا ہے بلکہ ہمیں معلومات فراہم کرنے والے کے بارے میں بھی بہت کچھ سیکھنے کو ملتا ہے۔ اگر معلومات درست اور مکمل ہو تو مستقبل میں اس شخص پر اعتماد پکا ہو جاتا ہے۔.

لیکن ادھوری یا غلط معلومات فراہم کرنے والا معلومات جان بوجھ کر چھپا کر بچے کے ساتھ اچھا نہیں کرتا ہے، اس طرح بچے کا اعتماد شک وشبہ کا شکار ہو جاتا ہے اور وہ معلومات حاصل کرنے کے دیگر ذرائع ڈھونڈنے کی کوشش کرتا ہے۔

ایک گزشتہ مطالعے میں محققین نے اس بات کی چھان بین کی تھی کہ اگر ایک استاد بچوں کو ایک سے زائد فنکشن رکھنے والے ایک کھلونے کے متعلق جان بوجھ کر ادھوری معلومات دیں تو بچوں کا استاد کے ساتھ کیسا برتاؤ ہوگا؟

اس نئی تحقیق کے سربراہ ڈاکٹرگیوان دریافت کرنا چاہتے تھے کہ جب استاد کی جانب سے بچوں کو جان بوجھ کر کھلونا استعمال کرنے کے لیے صرف ایک ہی فنکشن بتایا گیا تو بچوں نے اس استاد کے بارے میں کیا سوچا ہو گا؟

اس سلسلے میں کئے جانے والے تجربے کے دوران 6 اور 7 برس کے بچوں کو ایک کھلونے سے کھیلنے کے لیے کہا گیا اور انھیں کھلونے کی تمام سرگرمیاں ازخود جاننے کا موقع فراہم کیا ۔

جس کے بعد ایک گروپ کے بچوں کو چار بٹن کے ساتھ چلنے والا کھلونا دیا گیا جو کہ کھلونے کی مختلف سرگرمیوں کے ساتھ منسلک تھے جبکہ دوسرے گروپ کے بچوں کو ایک بٹن سے چلنے والا کھلونا دیا گیا ۔

کھلونےکو استعمال کے حوالے سے ایک پپٹ شو میں استاد نے کھلونوں کے استعمال کا مظاہرہ پیش کیا لیکن دونوں کھلونوں کے استعمال کے لیے استاد نے صرف ایک ہی سرگرمی والے بٹن کے حوالے سے معلومات فراہم کی ۔

تجربے کے پہلے حصے کے اختتام پر بچوں سے کہا گیا کہ کھلونا استعمال کرنے کے لیے استاد کی مدد کس حد تک ان کے لیےمددگار ثابت ہوئی، وہ ایک سے بیس تک درجہ بندی میں استاد کی مدد کو کتنے نمبر دیں گے؟

محققین نے دیکھا کہ جن بچوں کو کھلونے کا استعمال پوری طور پر سمجھ میں آچکا تھا اور جو کھلونے کے بقیہ تین بٹن کی سرگرمیوں کے بارے میں بھی علم رکھتے تھے انھوں نے ایک بٹن سے چلنے والے کھلونا استعمال کرنے والے بچوں کی نسبت استاد کی مدد کو بہت ہی کم نمبر دیے بلکہ انھوں نے اس بات کا بھی مظاہرہ کیا کہ ان کے لیے استاد کی ادھوری معلومات قابلِ اعتماد نہیں۔

ڈاکٹرگیوان نے کہا کہ اس بات سے ظاہر ہوتا ہے کہ بچے نہ صرف اس بات کے بارے میں حساس ہوتے ہیں کہ کون صحیح ہے اور کون غلط؟ بلکہ وہ اس بات کا اندازہ لگا سکتے ہیں کہ انھیں جو معلومات فراہم کی جارہی ہے وہ معلومات کا مکمل خلاصہ ہےاور ان کے لیے کافی ہے یا ناکافی۔

XS
SM
MD
LG