رسائی کے لنکس

قیامت کی پیش گوئی پوری نہ ہوسکی

  • جمیل اختر

ہیرالڈ کیمپنگ کیلی فورنیا میں ایک نیوز کانفرنس کے دوران۔ فائل

ہیرالڈ کیمپنگ کیلی فورنیا میں ایک نیوز کانفرنس کے دوران۔ فائل

21 اکتوبر کا دن خیریت اور سکون سے گذر گیا۔ امریکہ سمیت کئی ملکوں میں بہت سے لوگ اس فکر میں تھے کہ اس روز دنیا ختم ہوسکتی ہے کیونکہ کیلی فورنیا کے ایک عیسائی مبلغ ہیرالڈ کیمپنگ نے پیش گوئی کی تھی کہ 21 اکتوبر کو قیامت آجائے گی۔

کیمپنگ نے اس سے قبل اسی سال 21 مئی کو قیامت آنے کی پیش گوئی کی تھی۔ مگر جب مئی کا وہ دن خیریت سے گذر گیا تو انہوں نے اپنے پیروکاروں سے معذرت کرتے ہوئے کہا کہ ان سے جمع تفریق میں تھوڑی سے گڑبڑ ہوگئی تھی، جسے اب میں نے ٹھیک کرلیا ہے ۔ چنانچہ وہ خود کو اپنے اعمال کے حساب کتاب کے لیے تیار کرلیں ، کیونکہ اب قیامت بہر صورت 21 اکتوبر کو آرہی ہے۔

ہیرالڈ کیمپنگ اپنا ایک ریڈیو نیٹ ورک بھی چلاتے ہیں ، جس کے ذریعے وہ اپنی پیش گوئیاں اور نظریات کاپر چار کرتے رہتے ہیں۔ ان کے پیروکاروں کا ایک اچھا خاصاحلقہ موجود ہے جو پیش گوئیاں غلط ہونے کے باوجود اعتبار کرتا ہے۔

ہیرالڈ کیمپنگ کی پیش گوئی صرف قیامت اور یوم حساب تک ہی محدود نہیں ہیں بلکہ وہ اس سے آگے کے واقعات بھی بیان کرچکے ہیں۔ 21 مئی کوبرپا ہونے والی قیامت سے خبردار کرتے ہوئے انہوں نے یہ پیش گوئی بھی کی تھی کہ اس روز 20 کروڑ افراد اپنی نیکیوں کے صلے میں جنت میں داخل کردیے جائیں گے۔

ستمبر کے مہینے میں نوبیل انعام کی طرز پر ہاروڈ یونیورسٹی ، سائنس کے ایک جریدے کے تعاون سے اگنوبیل ایوارڈ دیتی ہے۔ جن کے لیے ایسے افراد کا انتخاب کیا جاتا ہے جن کی تحقیق مضحاکہ خیز ہوتی ہیں۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ اس سال ریاضی کا اگنوبیل پرائز پانے والوں میں ہیرالڈ کیمپنگ کا نام بھی شامل تھا ۔ لیکن وہ اپنا ایوارڈ وصول کرنے نہیں گئے۔

اگرچہ 21 مئی کی ان کی پیش گوئی ناکام ہوگئی تھی مگر دوسری بار انہیں قیامت آنے کا اتنا پختہ یقین تھا کہ اور انہوں نے ریڈیو پر اپنے پیروکاروں سے کہا تھا کہ کسی کو اس بارے میں رتی بھر شک و شبہ نہیں ہونا چاہیے کہ21 اکتوبر جمعے کا دن قیامت کا دن ہوگا۔

کیمپنگ کا کہناہے کہ انہوں نے قیامت کی پیش گوئی بائیل کی آیات سے کی ہے جس میں 4990 قبل از مسیح کے طوفان نوح کے حوالے سے کہا گیا ہے کہ ایسا واقعہ سات ہزار سال کے بعد دوبارہ وقوع پذیرہوگا۔

کیمپنگ کی پہلی پیش گوئی کی مزید وضاحت کرتے ہوئے ان کے ایک پیروکار رابرٹ فنز پیٹررک نے کہاتھا کہ قیامت شام کے چھ بجے آئی تھی۔

قیامت کی پیش گوئی کرنے والے وہ اکیلے نہیں ہیں۔ مغربی دنیا میں ان سے پہلے بھی کئی لوگ قیامت کی ناکام پیش گوئیاں کرچکے ہیں۔

ہیرالڈ کیمپنگ کے پیروکاروں سے کہیں بڑا حلقہ ان کے ناقدین کا ہے جو اکثر ان کے عقائد اور مذہی تشریحات پر سوالات اٹھاتے رہتے ہیں۔

قیامت کی پیش گوئیاں وقتافوقتاً منظر عام پر آتی رہتی ہیں۔ حتی کہ کئی بار سائنس دان بھی مختلف موقعوں پرخلا میں بھٹکتے ہوئے کئی بڑے اجرام فلکی کے زمین سے ٹکرانے کے نتیجے میں قیامت برپا ہونے کی پیش گوئیاں کرچکے ہیں۔ مگر ہر بار کرہ ارض ایسے کسی ممکنہ حادثے سے بچ جاتا رہاہے۔

ماہرین فلکیات کا کہناہے کہ ہمارانظام شمسی مزید کئی ارب سال تک قائم رہے گا اور کرہ ارض پر زندگی کے رنگ اور رعنائیاں اپنی بہار دکھاتی رہیں گی۔

XS
SM
MD
LG