رسائی کے لنکس

افغانستان: حملوں میں دو امریکی فوجی، 12 رضاکار ہلاک


فائل

فائل

افغان حکومت کے ایک عہدیدار نے دعویٰ کیا ہے کہ گزشتہ 48 گھنٹوں کے دوران افغان فوج اور پولیس کی کارروائیوں میں ملک کے مختلف علاقوں میں 50 شدت پسند مارے گئے ہیں۔

افغانستان کے مختلف علاقوں میں طالبان شدت پسندوں کے مبینہ حملوں میں دو امریکی اور سات افغان فوجیوں سمیت درجنوں افراد ہلاک ہوگئے ہیں۔

کابل کے پولیس سربراہ حشمت استانکزئی کے مطابق ہفتے کی صبح دارالحکومت کابل میں وزارتِ دفاع کی ایک بس پر خود کش حملے میں سات افغان فوجی ہلاک ہوئے۔

اس حملے سے کچھ دیر قبل ہی مسلح حملہ آوروں نے افغان سپریم کورٹ کے ایک اعلیٰ عہدیدار کو ان کے گھر کے نزدیک فائرنگ کرکے قتل کردیا تھا۔

پولیس کے مطابق عدالتِ عظمیٰ کے سیکریٹریٹ کے سربراہ عتیق اللہ رؤفی اپنے گھر سے دفتر جانے کے لیے نکل رہے تھے جب حملہ آوروں نے انہیں نشانہ بنایا۔

افغان طالبان کے ایک ترجمان نے ذرائع ابلاغ کو بھیجے جانے والے ایک موبائل پیغام میں رؤفی کے قتل کی ذمہ داری قبول کی ہے تاہم ان کے قتل کی وجوہات کا علم نہیں ہوسکا ہے۔

دریں اثنا امریکی محکمۂ دفاع نے تصدیق کی ہے جمعے کی شب کابل کے نواح میں قائم بگرام کے فوجی اڈے کے نزدیک ہونے والے بم دھماکے میں مرنے والے دونوں فوجی اہلکار امریکی تھے۔

افغانستان میں تعینات غیر ملکی افواج کے مشن 'ایساف' نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ بم سڑک کے کنارے نصب کیا گیا تھا جو اس وقت پھٹا جب وہاں سے غیر ملکی فوجیوں کے لے جانے والی گاڑیوں کا ایک قافلہ گزر رہا تھا۔

دوسری جانب افغانستان کے جنوبی صوبہ ہلمند میں بارودی سرنگیں صاف کرنے پر مامور 12 اہلکاروں کو مسلح افراد نے گولی مار کر قتل کردیا ہے۔

ہلمند کے پولیس حکام نے دعویٰ کیا ہے کہ پولیس نے کارکنوں پر حملے کے بعد فرار ہونے والے طالبان شدت پسندوں کا تعاقب کرکے چار حملہ آوروں کو ہلاک اور تین کو حراست میں لے لیا ہے۔

افغان حکومت کے ایک عہدیدار نے ذرائع ابلاغ کو بتایا ہے کہ گزشتہ 48 گھنٹوں کے دوران افغان فوج اور پولیس کی کارروائیوں میں ملک کے مختلف علاقوں میں 50 شدت پسند مارے گئے ہیں تاہم اس دعوے کی آزاد ذرائع نے تصدیق نہیں کی ہے۔

یاد رہے کہ جیسے جیسے افغانستان سے غیرملکی افواج کے انخلا کی تاریخ قریب آرہی ہے، دارالحکومت کابل اور افغانستان کے دیگر علاقوں میں طالبان شدت پسندوں کے حملوں یں نمایاں اضافہ ہوگیا ہے۔

رواں سال کے ابتدائی چھ ماہ کے دوران افغانستان بھر میں طالبان کے حملوں کےنتیجے میں لگ بھگ پانچ ہزار افغان پولیس اور فوجی اہلکار 1500 عام شہری ہلاک ہوئے تھے۔

XS
SM
MD
LG