رسائی کے لنکس

ہلاک ہونے والوں میں 10 فوجی اہلکار، سات عام شہری اور 35 شدت پسند شامل ہیں۔

لیبیا سے متصل تیونس کے سرحدی علاقے میں نامعلوم شدت پسندوں کے حملے اور فوج کی جوابی کارروائی میں کم از کم 53 افراد ہلاک ہوگئے ہیں۔

حکام کے مطابق درجنوں مسلح افراد نے پیر کو علی الصباح بن جوردن نامی قصبے میں واقع پولیس اور فوج کی چوکیوں پر حملہ کیا تھا۔

حکام نے صحافیوں کو بتایا ہے کہ قصبے میں تعینات سکیورٹی اہلکاروں اور حملہ آوروں کے درمیان کئی گھنٹوں تک مقابلہ جاری رہا۔

ہلاک ہونے والوں میں 10 فوجی اہلکار، سات عام شہری اور 35 شدت پسند شامل ہیں۔

تیونس کے مقامی ٹی وی چینلوں پر نشر کی جانے والی جائے واقعہ کی ویڈیوز میں ایک سڑک پر پڑی لاشیں ، اسلحہ اورگولیوں سے چھلنی گاڑیاں دکھائی گئی ہیں۔

حکام کے مطابق کئی گھنٹوں تک جاری رہنے والی جھڑپ کے بعد بیشتر حملہ آوروں کو ہلاک کردیا گیا ہے اور فوج نے قصبے کا کنٹرول سنبھال لیا ہے۔

تیونس کے صدر الباشی خالد السبسی نے حملے پر گہرے دکھ کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان کا ملک "وحشیوں" کے ساتھ حالتِ جنگ میں ہے۔

حملے کے کئی گھنٹوں بعد دارالحکومت سے جاری اپنے بیان صدر السبسی نے کہا کہ حملہ جس منصوبہ بندی اور منظم انداز سے کیا گیا اس کی ملکی تاریخ میں کوئی مثال نہیں ملتی۔

انہوں نے کہا کہ شدت پسندوں کے حملے کا مقصد علاقے پر قبضہ کرکے وہاں متبادل حکومت کے قیام کا اعلان کرنا تھا۔

لیبیا کی سرحد کے نزدیک واقع بن جوردن کے قصبے اور اس کے نواح میں شدت پسندوں اور سکیورٹی فورسز کے درمیان گزشتہ ایک ہفتے کے دوران یہ دوسرا مقابلہ ہے۔

لیبیا میں گزشتہ کئی برسوں سے جاری خانہ جنگی نے وہاں داعش سمیت دیگر شدت پسند گروہوں کو قدم جمانے کا موقع فراہم کیا ہے جو ماضی میں تیونس کو بھی نشانہ بناتے رہے ہیں۔

تیونس میں گزشتہ سال ہونے والے دو بڑے دہشت گرد حملوں میں لیبیا سے آنے والے شدت پسند ملوث پائے گئے تھے۔ ملک کے مرکزی عجائب گھر اور ایک معروف ساحلی تفریح گاہ پر ہونے والے ان حملوں میں 60 افراد ہلاک ہوگئے تھے جن میں سے بیشتر غیر ملکی تھے۔

لیبیا کی سرحد سے شدت پسندوں کی در اندازی روکنے کے لیے تیونس کی حکومت نے حالیہ چند ماہ کے دوران کئی اقدامات کیے ہیں جب کہ برطانیہ نے بھی سرحدی علاقے میں سکیورٹی یقینی بنانے کے لیے اپنے فوجی مشیران تیونس بھیجنے کا اعلان کیا ہے جو مقامی سکیورٹی اداروں کی معاونت کریں گے۔

XS
SM
MD
LG