رسائی کے لنکس

شمالی وزیرستان میں فضائی کارروائی، 35 شدت پسند ہلاک


فائل

فائل

فضائی حملے اتوار کو افغانستان کی سرحد سے متصل شمالی وزیرستان کے علاقے دتہ خیل اور اس کے نواح میں کیے گئے

پاکستانی فوج نے قبائلی علاقے شمالی وزیرستان میں دہشت گردوں کے مبینہ ٹھکانوں پر بمباری کی ہے جس میں، فوج کے بیان کے مطابق کم از کم 35 شدت پسند ہلاک ہوگئے ہیں۔

پاک فوج کے شعبہ تعلقاتِ عامہ کی جانب سے جاری کیے جانے والے بیان میں کہا گیا ہے کہ فضائی حملے اتوار کو افغانستان کی سرحد سے متصل شمالی وزیرستان کے علاقے دتہ خیل اور اس کے نواح میں کیے گئے۔

شمالی وزیرستان میں گزشتہ سال جون سے پاکستانی فوج ایک بڑا فوجی آپریشن کر رہی ہے جسے "ضربِ عضب" کا نام دیا گیا ہے۔

حکام کا کہنا ہے کہ کئی ماہ سے جاری اس فوجی آپریشن میں اب تک دو ہزار مشتبہ شدت پسند مارے جاچکے ہیں جب کہ دہشت گردوں کے ساتھ لڑائی میں 200 سے زائد فوجی اہلکار بھی ہلاک ہوئے ہیں۔

پاکستانی فوج کی جانب سے تازہ ترین فضائی حملے ایسے وقت میں کیے گئے ہیں جب امریکہ کے صدر براک اوباما پاکستان کے پڑوسی ملک اور روایتی حریف بھارت کے دورے پر ہیں جہاں انہوں نے بھارت کو افغانستان میں امریکہ کا "قابلِ اعتماد شریکِ کار" قرار دیا ہے۔

امریکہ کا دعویٰ ہے کہ شمالی وزیرستان میں بین الاقوامی شدت پسند تنظیم 'القاعدہ' اور افغان طالبان کے دھڑے حقانی نیٹ ورک کے ٹھکانے موجود ہیں جو سرحد پار کرکے افغانستان میں امریکی مفادات کو نشانہ بناتے ہیں۔

امریکی حکام نے تسلیم کیا ہے کہ "ضربِ عضب" کے نتیجے میں شمالی وزیرستان میں شدت پسندوں کے نیٹ ورک کو خاطر خواہ نقصان پہنچا ہے۔

لیکن امریکہ نے تاحال یہ نہیں کہا کہ اس فوجی کارروائی کے نتیجے میں شدت پسندوں کی پاک افغان سرحد کے دونوں جانب حملے کرنے کی صلاحیت مکمل طور پر ختم ہوگئی ہے۔

XS
SM
MD
LG