رسائی کے لنکس

مناسب سکیورٹی نہ ہونے کے باعث پنجاب میں درجنوں اسکول سیل

  • عشرت سلیم

پنجاب کے وزیر تعلیم رانا مشہود نے وائس آف امریکہ سے گفتگو میں کہا کہ صوبے میں ہر جگہ تعلیمی اداروں کی سکیورٹی کا جائزہ لیا جا رہا ہے اور سکولوں کی بندش آخری تدبیر ہے۔

پنجاب کے وزیر تعلیم رانا مشہود نے کہا ہے کہ راولپنڈی ڈویژن میں درجنوں سکولوں کو مناسب سکیورٹی نہ ہونے کے باعث سیل کر دیا گیا ہے۔ ان میں بڑی تعداد سرکاری تعلیمی اداروں پر مشتمل ہے۔ تاہم رانا مشہود کا کہنا تھا کہ سکولوں کو سیل کرنا اس مسئلے کا حل نہیں۔

شائع شدہ اطلاعات کے مطابق بند کیے گئے اسکولوں کی تعداد 230 سے زائد بتائی گئی تاہم صوبائی وزیر تعلیم کا کہنا تھا کہ اصل تعداد اس سے کم ہے۔

گزشتہ ہفتے بدھ کو چارسدہ میں باچا خان یونیورسٹی پر دہشت گرد حملے کے بعد پورے ملک کے تعلیمی اداروں میں خوف ہراس کا ماحول پایا جاتا ہے جبکہ پنجاب حکومت نے صوبے کے تمام سکولوں اور کالجوں کو یکم فروری تک بند رکھنے کا حکم جاری کر رکھا ہے۔

اگرچہ حکومت نے سخت سردی کو تعلیمی اداروں کی بندش کی وجہ قرار دیا ہے مگر عام تاثر یہی ہے کہ سکیورٹی خدشات کے باعث ایسا کیا گیا۔

ادھر فوج کے زیر انتظام چلنے والے تمام سکولوں اور کالجوں کو بھی یکم فروری تک بند کر دیا گیا ہے جبکہ ملک کے دیگر حصوں میں بھی کئی نجی سکولوں کی انتظامیہ نے اپنے طور پر سکولوں کو بند کر رکھا ہے۔

پنجاب کے وزیر تعلیم رانا مشہود نے وائس آف امریکہ سے گفتگو میں کہا کہ صوبے میں ہر جگہ تعلیمی اداروں کی سکیورٹی کا جائزہ لیا جا رہا ہے اور سکولوں کی بندش آخری تدبیر ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ سکولوں کو چھٹیوں کے دوران سکیورٹی کے متعلق عمومی ضابطہ کار کے مطابق اقدامات مکمل کرنے کا کہا جا رہا ہے۔

تاہم انہوں نے یہ بھی کہا کہ سکولوں کو سیل کرنا اس مسئلے کا حل نہیں ہے اور اس سلسلے میں مقامی انتظامیہ کو ہدایات بھی جاری کی گئی ہیں کہ وہ سکولوں کو سیل نہ کریں۔

’’ایک سال سے ہم نے ان کو کہا ہوا تھا کہ وہ اپنے اپنے (انتظامات) پورے کریں۔ اس میں انتظامیہ بھی ذمہ دار ہے۔ سیل کرنا اس کا حل نہیں۔ اس کا (حل) یہ ہے کہ عمومی ضابطہ کار کو دیکھا جائے اور باقاعدہ اس کی ٹائم لائن بنائی جائے۔‘‘

20 جنوری کو باچا خان یونیورسٹی پر ہونے والے حملے میں متعدد طلبا سمیت 21 افراد ہلاک اور درجنوں زخمی ہو گئے تھے جبکہ حملے کی ذمہ داری قبول کرنے والے طالبان گروہ نے کہا تھا وہ مزید ایسے حملے کرے گا۔

ماہر تعلیم اور انسانی حقوق کی کارکن فرزانہ باری نے وائس آف امریکہ سے گفتگو میں کہا کہ ہم اپنے تعلیمی اداروں کو بند کر کے سکیورٹی خطرے کا مقابلہ نہیں کر سکتے کیونکہ ملک میں لاکھوں تعلیمی ادارے کام کر رہے ہیں اور انہیں بند کرنا دہشت گردوں کو کامیابی دلانے کے مترادف ہے۔

انہوں نے کہا کہ اگر کسی مخصوص تعلیمی ادارے پر حملے کی انٹیلی جنس معلومات ہوں تو حکومت کو اس ادارے کی سکیورٹی بڑھانی چاہیئے۔

’’عمومی طور پر پاکستان میں لوگوں کو تربیت دینے کی ضرورت ہے۔ یہ نہیں کہ آپ ان کے ہاتھوں میں بندوقیں پکڑا کے ان کو تربیت دیں۔ ان کو یہ تربیت دینے کی ضرورت ہے کہ وہ اپنے گلی محلے میں نظر رکھیں۔ جہاں ان کو مشکوک سرگرمی نظر آئے، مسجد کے قریب یا مدارس ہوں تو وہ اس کی اطلاع دیں اور اگر خدانخواستہ حملہ ہو تو کس طرح وہ اپنے آپ کو محفوظ کریں۔ لیکن ہم یہ نہیں کر سکتے کہ تعلیمی ادارے بند کر دیں یا بچوں اور نوجوانوں کے ہاتھوں میں بندوقیں پکڑا دیں۔ اس سے مسئلہ حل نہیں ہو گا۔‘‘

فرزانہ باری نے یہ بھی کہا کہ حکومت کو دہشت گردوں اور ان کے سہولت کاروں کو جڑ سے ختم کرنا ہو گا تب ہی ملک میں امن قائم ہو گا۔ انہوں نے کہ یہ سہولت کار ہر جگہ موجود ہیں اور اس جنگ میں کامیابی کے لیے ان سب کی شناخت اور خاتمہ بہت ضروری ہے۔

دریں اثنا وزیر اعظم محمد نواز شریف نے جمعے کو ایک اعلیٰ سطحی اجلاس میں کہا کہ ہم ملک سے آخری دہشت گرد کے خاتمے تک جنگ جاری رکھیں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ معصوم بچوں کو ان کی درسگاہوں میں قتل کرنے والوں اور ان کے سہولت کاروں کو انصاف کے کٹہرے میں لایا جائے گا۔

XS
SM
MD
LG