رسائی کے لنکس

تاریخ میں پہلی بار صدارتی حکم کو کالعدم قرار دیتے ہوئے، جسٹس (ر) نسیم حسن شاہ نے ماضی میں نواز حکومت کو بحال کیا تھا۔۔ سابق وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو کے خلاف تاریخی مقدمہ قتل میں وہ جیوری کا حصہ تھے۔ بعدازاں، انہوں نے بھٹو کی پھانسی کے فیصلے کو بھی متنازع قرار دیا تھا

کراچی .. پاکستان کے سابق چیف جسٹس ڈاکٹر نسیم حسن شاہ منگل کی شام لاہور میں انتقال کرگئے۔ ان کی عمر 86سال تھی۔ وہ اپریل 1929ء میں لاہور میں پیدا ہوئے اور یہیں ان کا انتقال بھی ہوا۔ ان کی تدفین بدھ کو عمل میں آئے گی۔

نسیم حسن شاہ کی وجہ شہرت یہ تھی کہ انہوں نے موجودہ وزیراعظم میاں محمد نواز شریف کے پہلے دور حکومت میں قومی اسمبلی کو تحلیل کرنے کا صدارتی حکم، تاریخ میں پہلی مرتبہ، کالعدم قرار دیتے ہوئے نواز حکومت کو بحال کرایا تھا۔ اُس وقت غلام اسحق خان ملک کے صدر تھے۔

ڈاکٹر نسیم حسن شاہ ملک کے ایک اور سابق وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو کے خلاف چلائے جانے والے تاریخی مقدمہٴقتل میں بھی جیوری کا حصہ تھے۔ بعد میں انہوں نے بھٹو کی پھانسی کے فیصلے کو بھی متنازع قرار دیا تھا۔

نسیم حسن شاہ ڈاکٹریٹ آف لاٴ کی ڈگری رکھتے تھے، جو انہوں نے پیرس یونیورسٹی سے حاصل کی تھی۔ انہیں 39 سال کی عمر میں ہائی کورٹ کا جج مقرر کیا گیا، جبکہ اپریل 1993ء سے اپریل 1994ء کی ایک سالہ مدت کے دوران وہ عدالت عظمیٰ میں بطور چیف جسٹس فرائض انجام دیتے رہے۔

چیف جسٹس کے عہدے پر فائز رہنے کے دوران، وہ پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیئرمین بھی رہے۔

XS
SM
MD
LG