رسائی کے لنکس

پریس کانفرنس کے دوران ہی ڈاکٹر صغیر احمد نے متحدہ قومی مومنٹ کی اور سندھ اسمبلی، دونوں کی رکنیت سے مستعفی ہونے کا اعلان کیا۔ اپنی گفتگو میں انہوں نے ایم کیو ایم، پارٹی قیادت یعنی الطاف حسین اور ان کی سیاسی پالیسیوں کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا

کراچی کی سیاست میں 3 مارچ کو سابق ناظم اور ایم کیو ایم کے مرکزی رہنماوٴں مصطفی کمال اور انیس قائم خانی کے پارٹی چھوڑنے اور پریس کانفرنس سے جو طلاطم پیداہوا تھا، اس میں پیر کو ایک مرتبہ پھر ہلچل پیدا ہوگئی۔

دو رہنماوٴں کے بعد اب تیسرے رہنما اور سابق دور حکومت میں وزیر صحت رہنے والے ڈاکٹر صغیر احمد نے بھی ایم کیو ایم کو خیرباد کہہ کر مصطفیٰ کمال کی ’بے نام‘ پارٹی میں شمولیت اختیار کرلی۔

پیر کو ایک مرتبہ پھر کراچی کے ایک بنگلے میں مصطفیٰ کمال اور انیس قائم خانی نے میڈیا کے نمائندوں سے بات چیت کی۔ تاہم، اس بار ان کے ہمراہ سابق وزیر صحت ڈاکٹر صغیر احمد بھی تھے جنہوں نے اعلان کیا کہ وہ مصطفیٰ کمال کے خیالات کی حمایت کرتے ہیں اور خود بھی ایم کیو ایم سے علیحدہ ہو کر مصطفیٰ کمال کی جماعت میں شمولیت اختیار کر رہے ہیں۔

انہوں نے دعویٰ کیا کہ اس سلسلے میں ابھی مزید ’سرپرائز‘ آنے باقی ہیں۔ اتنے لوگ مصطفیٰ کمال کی پارٹی میں شامل ہوں گے کہ گھر میں جگہ کم پڑجائے گی۔ ابھی تو بڑے بڑے لوگ اس قافلے میں شامل ہونا باقی ہیں۔

ڈاکٹر صغیر نے واضح کیا کہ وہ خود چل کر مصطفیٰ کمال کے پاس آئے ہیں اور ان دونوں رہنماوٴں کے شانہ بشانہ وہ مثبت کردار ادا کرنے کے خواہشمند ہیں۔

پریس کانفرنس کے دوران ہی ڈاکٹر صغیر احمد نے متحدہ قومی مومنٹ کی اور سندھ اسمبلی، دونوں کی رکنیت سے مستعفی ہونے کا اعلان کیا۔

اپنی گفتگو میں انہوں نے ایم کیو ایم، پارٹی قیادت یعنی الطاف حسین اور ان کی سیاسی پالیسیوں کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا۔ تاہم، متحدہ قومی موومنٹ نے ڈاکٹر صغیر کی پریس کانفرنس پر اپنا رد عمل ظاہر کرنے سے انکار کر دیا۔ البتہ، کچھ رہنماوٴں نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر اپنے اپنے رد عمل کا اظہار کیا۔

لندن سیکریٹریٹ سے ایم کیو ایم کے کنوینر ندیم نصرت نے ٹوئٹ کیا کہ ”اس پورے ٹی وی ڈرامے کا مقصد اپنی ناکامیوں کا الزام ایم کیو ایم کے سر پر ڈالنا ہے۔“

سوشل میڈیا پر اپنے رد عمل کا اظہار کرنے والوں میں مصطفیٰ عزیز آبادی اور رابطہ کمیٹی کراچی کے رکن واسع جلیل بھی شامل تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ ”یہ وہی ڈرامہ، وہی اسکرپٹ ہے جو ہم نے 1992ء میں دیکھا، یہ ایم کیو ایم حقیقی پارٹ 2 ہے۔“

ایم کیو ایم کے ترجمان نے پریس کانفرنس کے رد عمل میں کہا کہ ’را‘ سے تعلق کا الزام سراسر جھوٹ ہے، مسترد کرتے ہیں۔ ہمارے خلاف پہلے بھی ایسی سازشیں ہوتی رہی ہیں، اس بار بھی کامیابی سے مقابلہ کریں گے۔

XS
SM
MD
LG