رسائی کے لنکس

غصے کی حالت میں کسی کا خاکہ نہیں بناتا: یونس بٹ

  • شہناز عزیز

اُن کا کہنا تھا کہ گوجرانوالہ میں روایت تھی کہ بچے کو پہلے اکھاڑے بھیجتے تھے۔ ’مجھے بھی بھیجا گیا۔ میری صحت دیکھ کر استاد پہلوان نے کہا کہ تمہاری ورزش کے لیے بس اتنا ہی کافی ہے کہ تم روزانہ دو کشتیاں دیکھ لیا کرو‘

معروف مزاح نگار اور اسکرین رائٹر، ڈاکٹر محمد یونس بٹ نے کہا ہے کہ اُن کے خاکوں کا مقصد کسی طور پر کسی کی دل آزاری یا مذاق اڑانا نہیں ہوتا۔بقول اُن کے، ’تخلیق ایک خیال کا نام ہے‘ اور یہ کہ وہ حقائق کو ’بس اپنے اسٹائل میں‘ پیش کرتے ہیں۔

’وائس آف امریکہ‘ سے انٹرویو میں، ڈاکٹر یونس بٹ نے کہا کہ الیکٹرانک میڈیا کے عام ہونے سے، ’لکھنے والا بھی آسودا ہوا۔ پھر گھر والوں کے تیور بھی بہتر ہوئے‘۔

اُنھوں نے کہا کہ وہ غصے کی حالت میں کسی کا خاکہ نہیں بناتے۔

اُنھوں نے اثبات میں جواب دیا، جب اُن سے پوچھا گیا آیا کبھی اپنے بارے میں کوئی خاکہ بنایا ہے۔ یونس بٹ نے بتایا کہ اپنے بارے میں پہلے خاکے میں اُنھوں نے دکھایا تھا کہ کس طرح اُن کی والدہ اُنھیں اسکول لے جایا کرتی تھیں۔ بقول اُن کے، ’محلے والے یہ سمجھتے تھے کہ وہ مجھے اسپتال لے جارہی ہیں‘۔

پھر گوجرانوالہ کے بارے میں اُنھوں نے بتایا کہ وہاں روایت یہ تھی کہ بچے کو پہلے اکھاڑے بھیجتے تھے۔ ’مجھے بھی بھیجا گیا۔ میری صحت دیکھ کر استاد پہلوان نے کہا کہ تمہاری ورزش کے لیے بس اتنا ہی کافی ہے کہ تم روزانہ دو کشتیاں دیکھ لیا کرو‘۔


تفصیل سننے کے لیے آڈیو رپورٹ پر کلک کیجئیے:
XS
SM
MD
LG