رسائی کے لنکس

ڈرون حملے موثر مگر سخت تنقید کا نشانہ

  • کوکب فرشوری
  • ب

ڈرون

ڈرون

2008 ءسے لے کر اب تک پاکستان کے قبائلی علاقوں میں سو کے قریب ڈرون حملے ہوچکے ہیں ۔ ان حملوں میں مبینہ دہشت گردوں کے ساتھ ساتھ بے گناہ شہریوں کی ہلاکت کے باعث پاکستان میں ان حملوں کی شدید مخالفت کی جاتی ہے اور بہت سے مبصرین کے مطابق ڈرون حملے ملک میں امریکہ مخالف جذبات کی ایک بہت بڑی وجہ ہیں۔ کیا ان ڈرون حملوں سے دہشت گردی سے نمٹنے میں مدد مل رہی ہے یا یہ حکمتِ عملی غیر موثر ہے؟

پاکستان میں مبینہ دہشت گردوں کو نشانہ بنانے کے لیے امریکہ کی جانب سے ڈرون حملوں کا استعمال بہت تواتر سے کیا جارہا ہے۔امریکہ کی اس پالیسی پر نہ صرف پاکستان میں ، بلکہ اقوامِ متحدہ اور ایمنسٹی انٹرنیشنل کی جانب سے بھی تنقید کی جارہی ہے۔ اس پالیسی کے ناقدین کا کہنا ہے کہ ڈرون حملوں کا استعمال لوگوں کو قتل کرنے کے مترادف اور اسی لیے بین الاقوامی قوانین کے منافی ہے۔ اقوامِ متحدہ کی ایک حالیہ رپورٹ میں امریکہ سے کہا گیا ہے کہ وہ ان علاقوں میں ڈرون کا استعمال نہ کرے جہاں جنگ کی صورتحال نہیں ہے۔

واشنگٹن کے ایک تھنک ٹینک بروکنگز انسٹی میں دفاعی امور کے ماہر پیٹر سنگر کہتے ہیں کہ میرے خیال میں بنیادی فرق یہ ہے کہ بعض علاقوں میں باقاعدہ جنگ ہورہی ہے جیسا کہ افغانستان، جبکہ بعض علاقوں میں دہشت گردوں کے خلاف کارروائی کی جارہی ہے جہاں ایک انٹیلی جنس ایجنسی خطرناک افراد کو ہدف بنا کر ہلاک کررہی ہے۔

اوباما انتظامیہ نے اب تک اس بات کو تسلیم نہیں کیا ہے کہ پاکستان میں ڈرون حملے سی آئی اے کررہی ہے۔ پاکستان کی جانب سے ان حملوں کی مذمت کی جاتی ہے لیکن بعض مبصرین سمجھتے ہیں کہ ڈرون حملوں کے حوالے سے حکومتی سطح پر پاکستان کو امریکہ سے اپنی بات زیادہ پرزور طریقے سے کرنی چاہیے۔

دفاعی اور کے ایک ماہر ریوئل مارک گرایکٹ کہتے ہیں کہ ان حملوں سے متاثر ہونے والے ملک یعنی پاکستان کی حکومت کو جب ڈرونز کے معاملے پر اپنی بات زیادہ شدت سے اور پرزور انداز میں امریکہ سے کرے تب ہی ان حملوں کے روکے جانے کا امکان ہوسکتاہے۔

جبکہ پاکستان کا کہنا ہے کہ وہ ڈرون حملوں کے حوالے سے امریکہ سے بات کرتا رہتا ہے۔ وزیرِ خارجہ شاہ محمود قریشی کا کہنا ہے کہ ہم نے ڈرون حملوں کے بارے میں امریکی حکومت سے ہر سطح پر بات کی ہے۔امریکی ہمارا نکتہ نظر جانتے ہیں اور ہم ان کا نکتہِ نظر جانتے ہیں۔ ہم سب کو اس بات کا بھی اندازہ ہے کہ ڈرون ٹیکنالوجی مؤثر ثابت ہورہی ہے لیکن اصل سوال ہماری قومی سالمیت کا ہے۔

اور ڈرون پالیسی کے ناقدین کے مطابق ظاہر ہے ایک بہت بڑا سوال ان حملوں میں بے گناہ افراد کی ہلاکت بھی ہے۔ اقوام متحدہ نے امریکہ سے مطالبہ کیا ہے وہ بتائے کہ ان حملوں میں کتنے شہریوں کی ہلاکتیں ہوئی ہیں۔ اقوام متحدہ کی رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ ان حملوں کی تعداد میں اضافے کی وجہ حملے کرنے میں آسانی ہے کیونکہ یہ کمپیوٹر کے ذریعے کیے جاتے ہیں۔ لیکن پیٹر سنگرکہتے ہیں کہ یہ حملے مؤثر ثابت ہورہے ہیں۔

وہ کہتے ہیں کہ پاکستان کے جن علاقوں میں یہ حملے کیے جارہے ہیں وہاں بعض ایسے دہشت گرد چھپے ہوئے ہیں جنہوں نے دہشت گردی کی بہت سی کارروائیں کی ہیں اور مزید کارروائیوں کی منصوبہ بند کررہے ہیں۔ ایسے لوگوں کو اس علاقوں میں گرفتار کرنا بہت مشکل ہےاور ان سے نمٹنے کا واحد راستہ ڈرون حملے ہیں۔

لیکن امریکہ میں یہ رائے بھی موجود ہےکہ ان حملوں سے دہشت گردی کے خلاف جنگ کو نقصان پہنچ رہا ہے۔جیسا کہ کچھ عرصےقبل معروف امریکی اخبار نیویارک ٹائمز میں چھپنے والے ایک آرٹیکل میں کہا گیا تھا امریکہ اور پاکستان دونوں کے مفاد میں ہے کہ ان حملوں کو فوری طور پر روک دیا جائے۔

واشنگٹن میں موجود تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ مستقبل قریب میں ڈرون حملے روکنے جانے کا بظاہر کوئی امکان دکھائی نہیں دیتا، البتہ یہ ممکن ہے کہ ان حملوں میں چھوٹے سائز کے بم استعمال کیے جائیں جس سے صرف مطلوبہ شخص کو ہی نشانہ بنے اور عام شہری ہلاکتیں کم سے کم ہوں۔ بے گناہ لوگوں کی ہلاکتوں میں کمی کرنے کے لیے انٹلی جنس نیٹ ورک کو زیادہ بہتر بنانے اور حملوں میں زیادہ احتیاط برتنے پر بھی زور دیا جارہاہے۔

XS
SM
MD
LG