رسائی کے لنکس

امریکی ڈرون حملہ، سری لنکا کرکٹ ٹیم پرحملے میں ملوث دہشت گرد ہلاک


سری لنکا کرکٹ ٹیم کی بم پر حملہ کرنے والے گروپ کے دو دہشت گرد۔ سن 2009، فائل فوٹو

کم ازکم دس مسلح افراد نے بندوقوں، ہینڈ گرینیڈوں اور راکٹوں سے کرکٹ کے کھلاڑیوں کی بس پر حملہ کیا تھا ۔ اس حملے میں چھ کھلاڑی ، ان کا برطانوی کوچ زخمی اور 8 پاکستانی ہلاک ہوئے تھے۔

سیکیورٹی ذرائع اور اسلامی عسکریت پسندوں کا کہنا ہے کہ افغان میں ایک امریکی ڈرون حملے میں ایک پاکستانی عسکریت پسند ہلاک ہو گیا ہے جس پر سن 2009 میں اس بس پر حملے میں ملوث ہونے کا الزام تھا جس پر پاکستان کا دروہ کرنے والی سری لنکا کی کرکٹ ٹیم کے کھلاڑی سوار تھے۔

حکام کا کہنا ہے کہ پاکستان میں فوج کی جانب سے عسکریت پسندوں کے خلاف کارروائیوں کے نتیجے میں اسلامی عسکریت پسند بڑے پیمانے پر اپنے ٹھکانے افغانستان میں منتقل کر رہے ہیں۔

خبررساں ادارے روئیٹرز نے پاکستان کے انٹیلی جینس ذرائع کے حوالے سے بتایا ہے کہ بغیر پائلٹ کے امریکی ڈرون نے اتوار کے روز افغانستان کے جنوب مغربی صوبے پکتیکا میں ایک کار کو نشانہ بنایا جس پر قاری محمد یاسین جو استاد اسلم کے نام سے بھی معروف ہے، سفر ک ررہا تھا۔

سیکیورٹی ذرائع نے اپنا نام پوشیدہ رکھنے کی شرط پر بتایا کہ اس ڈرون حملے میں خودکش بمباروں کی تربیت کا ماہر قاری یاسین اور تین دوسرے عسکریت پسند ہلاک ہو گئے۔

افغانستان میں امریکی فوجی عہدے داروں نے فوری طور پر اس خبر پر کوئی تبصرہ نہیں کیا۔

پاکستان کے انسداد دہشت گردی کے محکمے نے قاری یاسین کے سر کی قیمت 20 لاکھ روپے مقرر کر رکھی ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ وہ سن 2009 میں پاکستان کے شمال مشرقی شہر لاہور میں اس بس پر حملے میں ملوث تھا جس پر سری لنکا کی کرکٹ ٹیم کے کھلاڑی سوار تھے۔

ایک پاکستانی طالبان کمانڈرجس نے خود کو ابی یعقوب کے نام سے متعارف کرایا، پاکستانی میڈیا کو ٹیلی فون کر کے ڈرون حملے میں قاری یاسین کی ہلاکت کی تصدیق کی۔ اس کا یہ بھی کہنا تھا کہ اس حملے میں تین اور افراد بھی ہلاک ہوئے جن میں سے ایک شمالی وزیرستان کا طالبان کمانڈر امیر محسود تھا۔ اس کا کہنا تھا کہ ڈورن نے افغان صوبے پکتیکا کے ضلع برمل میں ایک گاڑی کو نشانہ بنایا جس میں یہ لوگ سوار تھے۔

ابی یعقوب نے کہا کہ ان ہلاکتوں کا بدلہ لیا جائے گا۔

قاری یاسین کا تعلق پنجابی طالبان سے تھا۔ یہ اصطلاح ان طالبان کے لیے استعمال کی جاتی ہے جن کا تعلق پاکستان کے صوبے پنجاب سے ہوتا ہے۔

جنوبی پنجاب کے علاقے لودھراں سے تعلق رکھنے والے قاری یاسن کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ بم اور دھماکہ خیز مواد تیار کرنے کا ماہر تھا اور وہ خودکش بمباروں کی تربیت بھی کرتا تھا۔

سن 2009 کے حملے کے نتیجے میں پاکستان اہم بین الاقوامی کرکٹ مقابلوں کی میزبانی سے محروم ہو گیا تھا۔

کم ازکم دس مسلح افراد نے بندوقوں، ہینڈ گرینیڈوں اور راکٹوں سے کرکٹ کے کھلاڑیوں کی بس پر حملہ کیا تھا ۔ اس حملے میں چھ کھلاڑیا اور ان کا برطانوی کوچ زخمی اور 8 پاکستانی ہلاک ہوئے تھے۔

اس کے بعد سے پاکستان اپنے ملک کے کھیلوں کے زیادہ تر مقابلے متحدہ عرب امارات میں منعقد کرا رہا ہے۔

پاکستانی پولیس نے پچھلے سال 2009 کے حملے میں ملوث تین دہشت گردوں کو ہلاک کرنے کا دعوی کیا تھا۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG