رسائی کے لنکس

لاپتا طیارے کے تلاش کے چھ ہفتوں بعد بلیو فن 21 نامی ڈرون کو پیر کو سمندر میں بھیجا گیا تھا۔

ملائیشیا کے لاپتہ طیارے کا ملبہ تلاش کرنے کے لیے امریکی بحریہ کے زیر آب بھیجا گیا ڈرون بحر ہند کی انتہائی گہرائی کے باعث واپس بلا لیا گیا۔

اس ڈرون کی زیر آب جانے کی حد ساڑھے چار کلومیٹر تھی۔

آسٹریلوی حکام نے منگل کو بتایا کہ ڈرون کی مدد سے تلاش کی کارروائی کو مختصر کیا گیا ہے۔ توقع تھی کہ یہ سمندر کی تہہ میں 16 گھنٹوں تک ملبے کی تلاش میں مصروف رہے گا لیکن یہ دو گھنٹوں بعد ہی واپس آگیا۔ حکام کے مطابق "ڈرون میں نصب حفاظتی آلات ہی سطح آب پر لے آیا۔"

لاپتا طیارے کے تلاش کے چھ ہفتوں بعد بلیو فن 21 نامی ڈرون کو پیر کو سمندر میں بھیجا گیا تھا۔

کوالالمپور سے عملے اور مسافروں سمیت 239 افراد کو بیجنگ لے جانے والا ملائیشین ایئر لائن کا جہاز ایم ایچ 370 آٹھ مارچ کو پرواز سے ایک گھنٹے بعد ہی لاپتا ہوگیا تھا۔

تلاش میں مصروف حکام پراعتماد ہیں کہ انھیں اس بوئنگ 777 کے ملبے کے مقام سے متلعق معلومات ہیں جو کہ آسٹریلوی شہر پرتھ سے شمال مغرب میں 150 کلومیٹر دور ہوسکتی ہیں۔

روبوٹک آبدوز کو تلاش کے لیے بھیجنے کا فیصلہ اس وقت کیا گیا جب لاپتا طیارے کے بلیک باکس کے ممکنہ سگنلز آنا بند ہوچکے تھے۔

تلاش کی سرگرمیوں کی سربراہی کرنے والے اگنس ہیوسٹن کا کہنا تھا کہ "ہمیں چھ روز میں کوئی سگنلز موصول نہیں ہوئے لہذا اب وقت آگیا ہے کہ پانی کے نیچے اس کی تلاش شروع کی جائے۔"

طیارے کا فلائیٹ ریکارڈ باکس اپنے مقام سے متعلق آگاہی دینے کے لیے سگنلز دیتا ہے لیکن اس کی بیٹریاں ایک ماہ تک کارآمد ہوتی ہیں جب کہ طیارے کو لاپتہ ہوئے 38 روز ہوچکے ہیں۔

آسٹریلیا کے وزیراعظم ٹونی ایبٹ متنبہ کر چکے ہیں کہ پانچ کلومیٹر گہرے پانی اور ایک ہزار کلومیٹر رقبے پر تلاش کے کام میں کافی عرصہ لگ سکتا ہے اور اس کے جلد ختم ہونے کی توقع نہیں۔
XS
SM
MD
LG