رسائی کے لنکس

2050 میں آبادی نو ارب، غذائی قلت کا خطرہ

  • واشنگٹن

ہندوستان میں خُشک سالی

ہندوستان میں خُشک سالی

غذائی ماہرین کا تخمینہ ہے، کہ اس بڑھتی ہوئی آبادی کی مانگ کو پورا کرنے کے لئے غذائی پیداوار میں 70 فی صد کی حد تک اضافہ کرنا ضروری ہوگا

امریکہ اور ہندوستان میں خُشک سالی کی وجہ سےغذائی اجناس کی قیمتیں بڑھتی جا رہی ہیں اور بعض ماہرین ایشیا اور بحرالکاہل کےممالک کو انتباہ کر ہے ہیں، کہ وُہ زراعت میں سرمایہ کاری کو بڑھائیں۔

اورایسے میں جب پیش گوئی یہ ہے کہ عالمی آبادی 2050 تک 9 ، ارب تک پہنچ جائے گی ، ساری دنیا میں خوراک کی کافی مقدار اُگانے پر توجّہ مرکوز ہے ۔ غذائی ماہرین کا تخمینہ ہے، کہ اس مانگ کو پورا کرنے کے لئے غذائی پیداوار میں 70 فی صد کی حد تک اضافہ کرنا ضروری ہوگا۔۔

اگرچہ ہندوستان اور امریکہ میں خشک سالی کی وجہ سے غذائی اجناس مہنگی ہوتی جا رہی ہیں، اقوام متحدہ کی غذائی اور زرعی تنظیم نے کہا ہے ، کہ بیشتراہم غذائی اجناس کا کافی سٹاک اب بھی موجود ہے ، لیکن برطانیہ میں یونیورسٹیوں کے ایک نیٹ ورک نے ایک نئی رپورٹ میں بتایا ہے ، کہ اگلے دس سال میں ایشا کےوسیع علاقوں کوشدید خشک سالی کے طویل دوروں کا سامنا رہے گا۔ جو علاقے خاص طور پر متاثر ہونگے ، اُن میں شمالی چین ، ہندوستان ، افغانستان ،منگولیا اور پاکستان شامل ہیں،جب کہ باقی ماندہ ایشائی ممالک میں طویل مون سون اورسخت بارش کا غالب امکان ہے۔

عالمی موسمیاتی تبدیلی کا خطرہ ایسے وقت آیا ہےجب ایشیا میں گندم کی پیداوار میں تنزُّل آیا ہے۔ سنگا پور کی نان یانگ یونیورسٹی کے پروفیسر پال ٹینگ کہتے ہیں، کہ سیدھا سادہ حساب ہمیں بتاتا کہ جب تک ہم معتد بہ حد تک پیداواریت نہیں بڑھاتے، یا مزید زمیں زیر کاشت نہیں لاتے ، ہم ضروریات پُوری نہیں کر سکیں گے ۔

ایشیا، شُمالی اورلاطینی امریکہ سے دُنیا کی 70 فی صد سویا بین درآمد کرتا ہے۔ اسی طرح وہ مکئی کی عالمی پیداوار کا لگ بھگ چالیس فی صد بھی خریدتا ہے جو بیشتر مال مویشی کے چارے کے طور پر استعمال ہوتا ہے ۔ امریکہ میں پچاس سب سے شدید خشک سالی کی وجہ سے مکئی کی قیمتیں آسمان سے باتیں کر رہی ہیں۔ خشک سالی کے انہیں متاثّرہ علاقوں میں ملک کی 90 فی صد مکئی کاشت ہو تی ہے۔
XS
SM
MD
LG