رسائی کے لنکس

امریکی ڈرگ انفورسمنٹ ایجنسی (ڈی اِی اے) کے جاری کردہ ایک پریس ریلیز کے مطابق، ملزمان ہیروئین افغانستان سے امریکہ درآمد کرنے میں ملوث تھے، جب کہ ان کے تیسرے ساتھی کی تلاش جاری ہے

امریکی ڈرگ انفورسمنٹ ایجنسی (ڈی اِی اے) نے ہیروئین اسمگل کرنے کے الزام میں دو افغان تاجروں کو گرفتار کرکے نیویارک کی وفاقی عدالت کے جج رونالڈ ایل ایلیس کے سامنے پیش کیا ہے، جب کہ اُن کے مبینہ تیسرے ساتھی کی تلاش جاری ہے۔

سرکاری ذرائع کے مطابق، گرفتار ملزمان حاجی لاجواد اور ایمل سعید عالم شاہ عرف حاجی ذکا محمد کو تھائی لینڈ شہر بنکاک کے ایک کافی شاپ سے گرفتار کیا گیا تھا۔

ڈرگ انفورسمنٹ ایجنسی کے جاری کردہ پریس ریلیز کے مطابق، ملزمان ہیروئین افغانستان سے امریکہ درآمد کرنے میں ملوث تھے، اور ان کے تیسرے ساتھی حبیب اللہ کی تلاش جاری ہے۔

محکمے کے ماہرین کا کہنا ہے کہ منشیات کی اسمگلنگ افغانستان میں طالبان کی آمدن کا بڑا ذریعہ ہے، جس کی مدد سے وہ ہتھیار حاصل کرتے ہیں اور یہی ہتھیار امریکی فوجوں کے خلاف استعمال ہوتے ہیں۔ بقول ان کے، ’طالبان نقد رقم کے عوض ہیروئین اگانے اور اسے تیار کرنے کی اجازت دیتے ہیں‘۔

گرفتار دونوں ملزمان نے عدالت میں پیشی کے موقع پر الزام قبول کرنے سے انکار کر دیا ہے، جبکہ عدالت میں پیش کردہ مقدمے میں ان کے خلاف دہشت گردی کی دفعات شامل نہیں کی گئی ہیں۔

گرفتار ملزم سعید عالم شاہ کے بھائی نیاز محمد نے پاکستان سے فون کرکے ’وائس آف امریکہ‘ کو بتایا کہ وہ گذشتہ 25 برسوں سے جاپان میں کاروں کے اسپئر پارٹس کے کاروبار سے وابستہ ہیں، اور دعویٰ کیا کہ اُن کا منشیات کے کاروبار سے ’کوئی تعلق نہیں‘۔

XS
SM
MD
LG