رسائی کے لنکس

داعش کے شدت پسند کرد ملیشیاء ’وائی پی جے‘ کے خلاف لڑتے رہے ہیں اور اس گروہ کی طرف سے کرد ملیشیاء پر اس سے قبل بھی ایسے حملے کیے جاتے رہے ہیں۔

ترکی کی سرحد کے قریب شام کے شہر قمشلی میں دو بم دھماکوں میں کم از کم 31 افراد ہلاک اور درجنوں زخمی ہو گئے ہیں۔

برطانیہ میں قائم تنظیم ’سیئرین آبزرویٹری فار ہیومین رائیٹس‘ کے مطابق ایک بم دھماکے کا ہدف قمشلی میں کردش انتظامیہ کی ایک عمارت تھی جہاں سکیورٹی فورسز کا ایک ہیڈ کوارٹر بھی ہے۔

واضح رہے کہ ترکی کی سرحد کے قریب جس علاقے میں یہ دھماکا ہوا اُس کے اردگرد کا کنٹرول کردش فورسز کے پاس ہے۔

شدت پسند تنظیم ’داعش‘ نے اس حملے کی ذمہ داری قبول کی ہے۔ ’داعش‘ سے وابستہ ’عماقہ‘ نیوز نامی ویب سائیٹ پر جاری ایک بیان کے مطابق اس حملے کا ہدف کرد سکیورٹی فورسز تھیں۔

خبر رساں ادارے ’رائیٹرز‘ نے شام کے سرکاری ٹیلی ویژن کے حوالے سے خبر دی ہے کہ دھماکوں میں سے ایک کاربم دھماکا تھا جب کہ دوسرا موٹر سائیکل میں نصب بارودی مواد کے ذریعے کیا گیا۔

داعش کے شدت پسند کرد ملیشیاء ’وائی پی جے‘ کے خلاف لڑتے رہے ہیں اور اس گروہ کی طرف سے کرد ملیشیاء پر اس سے قبل بھی ایسے حملے کیے جاتے رہے ہیں۔

XS
SM
MD
LG