رسائی کے لنکس

ٹونی بلئیر کی ڈبلن آمد پر احتجاج


ٹونی بلئیر کی ڈبلن آمد پر احتجاج

ٹونی بلئیر کی ڈبلن آمد پر احتجاج

ٹونی بلیئر کی آمد پر ڈبلن کے بک اسٹورپر سکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے تھے۔ لیکن اِن انتظامات کا مظاہرین پرکوئی اثر نہیں پڑاجنھوں نے اُن پر انڈے ، جوتے اور دیگر چیزیں پھینکیں۔

سابق برطانوی وزیرِ اعظم ٹونی بلیئرجب ہفتے کواپنی یادداشتوں پردستخط کی ایک عوامی تقریب میں شرکت کے لیے آئیرلینڈ کے دارالکومت ڈبلن پہنچے تو جنگ مخالف مظاہرین نے اُن پرچیزیں پھینکیں۔

اُن کی آمد پر ڈبلن کے بک اسٹورپر سکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے تھے۔ لیکن اِن انتظامات کا مظاہرین پرکوئی اثر نہیں پڑاجنھوں نے اُن پر انڈے ، جوتے اور دیگر چیزیں پھینکیں۔ تاہم کوئی بھی چیز اُن کو نہیں لگی اور وہ ان سے محفوظ رہے۔

احتجاج کرنے والوں نےکتبے لہرائےاور سکیورٹی کی باڑ کو گِرانے کی کوشش کی لیکن پولیس نے اُنھیں روکا۔

بلیئر کی یادداشتوں کا عنوان ‘اے جَرنی’ ہے جِس میں اُنھوں نے اپنی وزارتِ عظمیٰ کے عشرے کے دوران اختیار کی گئی پالیسیوں کا مضبوط دفاع پیش کیا ہے جِس میں اُن کی حکومت کی طرف سے 2003ء میں امریکی قیادت میں عراق پرچڑھائی کی حمایت کرنا شامل ہے۔ حال ہی میں دیے گئے میڈیا انٹرویوز میں اُنھوں نے اپنی انتظامیہ کے ناقدین کی نکتہ چینی کو رد کردیا۔

عراق کے حوالے سے کردار پر تنازعے کے باوجود بلیئر کو شمالی آئیرلینڈ میں امن قائم کرنے کے عمل میں ادا کیے گئے کردار پر سراہا جاتا ہے۔


XS
SM
MD
LG