رسائی کے لنکس

امریکی ریاست نارتھ کیرولائنا کی ڈیوک یونیورسٹی کے پہلے مسلم چیپلن امام عبداللہ سے ملاقات

  • عمران صدیقی

ڈیوک یونیورسٹی

ڈیوک یونیورسٹی

امریکی ریاست نارتھ کیرولائنا میں قائم ڈیوک یونیورسٹی نے حال ہی میں اپنے پہلے مسلم چیپلن کا تقرر کیا ہے۔ چیپلن بین المذاہب رواداری سمیت کئی اہم کردار ادا کرتا ہے۔ حالیہ عشرے میں دہشت گردی کے واقعات کے باعث مسلمانوں اور اسلام کےبارے میں پیدا ہونے والے شکوک وشہبات کے باعث کئی تعلیمی ادارے اپنے ہاں مسلم چیپلن مقررکرنے پر غور کررہے ہیں تاکہ وہ ان شہبات کے ازالے اور بین المذاہب رواداری کے فروغ کے لیے اپنا کردار ادا کرسکیں۔ امام عبداللہ اپنی یہ ذمہ داریاں کس طرح نبھائیں گے اور انہیں کن چیلنجز کاسامنا ہے؟ یہ جاننے کے لیے میں نے ان سے ڈیوک یونیورسٹی میں ایک خصوصی انٹرویو کیا۔ ان سے میرا پہلا سوال تھا کہ وہ کونسی وجوہات تھیں کہ ڈیوک یونیورسٹی کو مسلم چیپلن مقرر کرنے کی فوری ضرورت محسوس ہوئی؟

امام عبداللہ نے اس کے جواب میں کہا کہ دوطرح کی ضروریات تھیں جس کے باعث ڈیوک یونیورسٹی کو ایک مسلم چیپلن مقرر کرنے کےبارے میں سوچنا پڑا۔ ان میں سے ایک وجہ یونیورسٹی کے زیادہ تر کالجوں اور اداروں میں مسلمانوں کی تعداد میں اضافہ تھا کیونکہ امریکہ میں پیدا ہونے والے اور پروان چڑھنے والے مسلم طالب علموں کی تعداد کیمپس میں بڑھ رہی ہے اور دوسری وجہ تھی کہ اسلام اور مسلمان اس ملک میں توجہ کا مرکز بن رہے ہیں۔ اور عام افراد تک ممیڈیا کے مقبول ذرائع سے ان کے بارے میں کافی معلومات پہنچ رہی ہیں۔ لیکن یونیورسٹی کے پاس کوئی ایسی صاحب علم شخصیت موجود نہیں تھی جو اس طرح کی معلومات کو پرکھ سکے۔ اور یورنیورسٹی نے اس چیز کا ادارک کرتے ہوئے یہ محسوس کیا انہیں ایک کل وقتی مسلم عالم دین کی ضرورت ہے۔

مسلم چیپلن کے بارے میں پوچھے گئے سوال کے جواب میں امام عبداللہ نے کہا کہ جہاں تک مسلم چیپلن کا تعلق ہے تو میرے علم کے مطابق ہماری دنیا میں، یعنی مسلم دنیا میں اس سے ملتا جلتا کوئی پیشہ موجود نہیں ہے۔ مسلم چیپلن سے مراد ہے مذہبی لیڈرشپ کو بعض مخصوص ضروریات کے لیے دوسرے شعبوں کے ساتھ یک جاکرنا۔ مسلم چیپلن ایک ایساامام ہوسکتا ہے جواداروں کی بنیاد پر مسلمانوں کو راہنمائی فراہم کرسکے، نہ کہ صرف مسجد کی سطح پر۔ چنانچہ چیپلن اداروں کی سطح پر کام کرتے ہیں مثلاً یونیورسٹی کے کیمپوں میں، اسپتالوں میں، فوج میں یا جیل خانوں میں۔ وہاں پر وہ کمیونٹی کی مذہبی اور روحانی ضرورتیں پوری کرنے کے ساتھ ساتھ ،ان کے لیے کونسلنگ کاکام بھی کرتے ہیں۔ وہ انہیں درپیش نفسیاتی ، دماغی اور دوسری قسم کے چیلنجز سے مقابلہ کرنے میں بھی مدد فراہم کرتے ہیں۔

اس سوال کے جواب میں کہ آیا مسلم صرف مسلم طالب علموں کی راہنمائی کرتے ہیں یا دوسرے تمام عقیدوں کے طالب علم بھی ان سے رابطہ کرسکتے ہیں تو امام عبداللہ کا جواب تھا کہ چیپلن کا بنیادی کام اپنی کمیونٹی کو مدد فراہم کرنا ہے۔ کیمپس میں مسلم چیپلن کی بنیادی ذمہ داری مسلم اسٹوڈنٹس کی مدد ہے۔ لیکن وہ صرف مسلم اسٹوڈنٹس تک ہی محدود نہیں ہے۔ پہلی بات یہ کہ کیمپس پر ایک بڑی تعداد غیر مسلم طالب علموں کی ہوتی ہے جنہیں اسلام اور مسلمانوں کے بارے میں آگاہی فراہم کرنے کی ضرورت ہوتی ہے۔ چنانچہ مسلم چیپلن ان کے لیے ایک رابطے کے طورپر کام کرتا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ اس کا ایک کردار یہ ہوتا ہے کہ وہ انہیں مشاورت کے ذریعے اطمینان فراہم کرے۔ اپنے اس کردار میں وہ صرف مسلم طلبا تک محدود نہیں رہتا۔ میں جن طالب علموں کی کونسلنگ کرتا ہوں ان میں پچاس فی صد سے زیادہ غیر مسلم ہوتے ہیں۔

امام عبداللہ ڈیوک یونیورسٹی میں اپنی موجودہ حیثیت میں دوسال سے کام کررہے ہیں۔ غیر مسلم طالب علموں کے ذہنوں میں پیدا ہونے والے سوالات کے بارے پوچھے گئے ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ میں یہاں ڈیوک یونیورسٹی میں ایک مسلم چیپلن کے طورپر، ایک امام کی حیثیت سے، ایک فیکلٹی کے ناطے، جو بھی خدمات سرانجام دیتا ہوں، اس میں سے اپنا پچاس فی صد سے زیادہ وقت غیر مسلم طالب علموں پر صرف کرتا ہوں۔ جن کے پاس مختلف حوالوں سے اسلام اور مسلمانوں کے بارے میں سوالات موجود ہوتے ہیں۔ ایک بڑی اکثریت کا ردعمل بڑا مثبت ہوتا ہے۔ جو کچھ وہ اسلام اور مسلمانوں کے بارےمیں سن رہے ہیں، اس حوالے سے ان میں بہت تجسس موجود ہوتا ہے، اور وہ اسلام اور مسلمانوں کے بارے میں جاننا چاہتے ہیں۔ جوکچھ انہیں ٹی وی اوراخباروں کے ذریعے مسلمانوں اور اسلام کے بارے میں معلوم ہورہاہوتا ہے ، وہ اس پریقین کرنے کی بجائے کھلے دل و دماغ کے ساتھ اس بارے میں مسلمانوں کی زبان سے سننا اور جاننا چاہتے ہیں۔ واضح اکثریت کا ردعمل بڑا مثبت ہے اور اسلام اور مسلمانوں کے بارے میں خود ان کی زبانی جاننے میں گہری دلچسپی کا یہ رجحان بہت مددگار ثابت ہورہا ہے۔

امام عبداللہ کا کہنا تھا کہ نائین الیون کے نتیجے میں کئی جعلی ماہرین وجود میں آئے۔ ایسے لوگ جو صرف ایک ہفتے کے لیے مسلم ممالک میں گئے تھے، ماہرین بن بیٹھے۔یہ بڑا افسوس ناک ہے کہ ایسے افراد جن کے پاس مطلوبہ علم نہیں ہوتا، وہ میڈیا پراسلام اور مسلمانوں کے حوالے سے پیچیدہ مذہبی، نسلی اور سیاسی موضوعات پر گفتگو کرتے ہیں، اور وہ مسلمانوں کی زبانیں تک نہیں جانتے، ان کے پاس گریجویٹ سطح کی ڈگری نہیں ہوتی، ان کے پاس ضروری تربیت اور تعلیم موجود نہیں ہوتی۔ چنانچہ وہ ایک طرح کی کھوکھلی صحافتی معلومات ہوتی ہیں، وہ ایک طرح سے ناقص انفارمیشن ہوتی ہےجواسلام اور مسلمانوں کے بارے میں پھیلائی جاتی ہے۔

امام عبداللہ کا کہناتھا کہ وہ اپنے دائرہٴکار میں رہتے ہوئے ان غلط فہمیوں کا ازالہ کرنا کرناچاہتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ میں اسلام اور مسلمانوں کے بارے میں صحیح علم اور معلومات فراہم کروں گا۔میں غیر ضروری طورپر چیز وں کی حساسیت کی طرف نہیں جاؤں گا۔ میں غیر ضروری طور پر یہ نہیں بتاؤں گا کہ اسلام کیا نہیں ہے۔ میں یہ بتاؤں گا کہ اسلام کیا ہے۔ میں اس بارے میں بات نہیں کروں گاکہ کون مسلمان نہیں ہوسکتا بلکہ یہ بتاؤں گا کہ مسلمان کیا ہوتے ہیں۔ یہی میری توجہ کا مرکز ہے۔ میں اپنا زیادہ تر وقت یہ جاننے پر صرف کرتا ہوں کہ مذہبی طورپراور فرد کی حیثیت سےاسلام اور مسلمانوں کی حقیقی بنیاد کیا ہے۔ کیونکہ غیر ضروری طورپر اسلام اورمسلمانوں کےبارے میں سٹیریوٹائپ چیزیں پھیلائی جارہی ہیں اوردہشت گردی اور تشدد کے حوالے سے منفی تعلق کو اجاگر کیا جارہا ہے۔

ڈیوک یونیورسٹی میں مسلم کمیونٹی کے بارے میں امام عبداللہ کا کہنا تھا کہ یہاں کیمپس میں پانچ سوسے زیادہ طالب علم اور فیکلٹی کے ارکان، مسلمان ہیں۔ اور دلچسپ بات یہ ہے کہ یہ پانچ سو افراد دنیا میں موجود ایک ارب 40 کروڑ مسلمانوں کی رنگارنگ ثقافتوں کی نمائندگی کرتے ہیں۔

ڈیوک یونیورسٹی میں اسلامیات کے کورسز کے بارے میں پوچھے گئے سوال پر انہوں نے کہا کہ ہمارے کورسز زیادہ تر مختلف نقطہ ہائے نظر کی تعلیمات اور نظریات تک محدود ہیں۔ مگر عالمی حقیقتوں کو اپنے سامنے رکھتے ہوئے ہمیں اپنے مستقبل کے مذہی راہنما مثلاً امام، اسکالر اورعلما وغیرہ، اس انداز میں تیار کرنے ہیں کہ وہ صرف اپنے مذہب تک ہی محدود نہ ہوں۔ ان کے پاس اسلام اور قران کی تعلیمات اور پیغمبر اسلام کی سنت کے بارے میں معلومات موجود ہوں۔ وہ کسی ایک جغرافیائی خطے تک محدود نہ ہوں۔ کیونکہ خدا دنیا بھر کے مسلمانوں کو ایک دوسرے کے قریب لارہاہے۔ چنانچہ اسلام کے بارے میں تعلیم دینے کے لیے اپنے ہم عصر مسلمانوں سے متعلق ہماری سوچ میں وسعت ہونی چاہیے۔ اگر میں شیعہ یامختلف علاقوں مخصوص حالات سے تعلق رکھنے والے مسالک کو اپنے سامنے رکھوں گا تو میں مسلم کمیونٹی کو زیادہ بہتر لیڈرشپ فراہم کرسکوں گا، جس کی موجودہ دور میں اسے ضرورت ہے۔

ڈیوک یونیورسٹی میں ایک مسلم لائف سینٹر بھی قائم کیا گیا ہے۔ اس مرکز کےبارے میں امام عبداللہ کا کہناتھاکہ سینٹر فار مسلم لائف، ڈیوک یونیورسٹی کا ایک اور منفرد پروگرام ہے۔ آپ کے پاس ایک ایسا مرکز موجود ہے جو مسلمانوں کی پوری زندگی اور ان کے مسائل پرنظر رکھتا ہے، اور جو مختلف عقائد سے تعلق رکھنے والے لوگوں اور مسلمانوں کو ایک جگہ اکٹھے ہوکر بات چیت کا موقع فراہم کرتا ہے۔

یونیورسٹی کے اسلامی مرکز کی کارکردگی کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ہم اس جگہ کوروحانی، مذہی، تعلیمی اور ثقافتی سرگرمیوں کے لیے استعمال کرتے ہیں۔ یہاں آنے والے آدھے سے زیادہ لوگ غیر مسلم ہوتے ہیں۔ مقامی عیسائی اور یہودی کمیونٹی سے تعلق رکھنے والے افرادبھی یہاں آتے ہیں۔ وہ سب لوگ یہاں آتے ہیں جواسلام اور مسلمانوں کے بارے میں تھوڑا بہت جاننے کی خواہش رکھتے ہیں۔ یہاں طالب علم ان کے لیے مختلف کتاب کلب ترتیب دیتے ہیں۔ اور ان کی دلچسپیوں کے حوالے سے گروپ بناتے ہیں۔ ہم انہیں مختلف اسلامی ممالک کے کھانے پکانا سکھاتے ہیں۔ مثلاً جنوبی ایشیائی کھانے، ترک کھانے، ہمارے پاس بہت شاندار کچن موجود ہے۔ ہم ہفتے میں دوبار قران کی محفلوں کا انتظام کرتے ہیں۔ ہم یہ چاہتے ہیں کہ طالب علم اس مقدس کتاب کے مفہوم کو سمجھنے کی کوشش کریں اور دوسری چیز جس پرگفتگو میں لوگ بہت دلچسپی لیتے ہیں وہ ہے مسلمانوں کی ثقافت اور اسلامی دنیا کے سیاسی اور جعرافیائی حقائق۔ وہ اس پر گفتگو کے لیے یہاں اکھٹے ہوتے ہیں۔

امام عبداللہ نے مسلم نوجوانوں کے لیے اپنے پیغام میں کہا کہ یہ اسلام اور مسلمانوں کے لیے حقیقتا ایک مشکل وقت ہے۔ اس لیے جب ہم خود کو اور اپنی نوجوان نسل کو تعلیم و تربیت فراہم کریں تو ہمیں مستقبل میں آنے والی تبدیلیوں پر بھی نظر رکھنی چاہیے۔ صرف ماضی اور حال کو پیش نظر رکھتے ہوئے تعلیم فراہم کرنا کافی نہیں ہے۔ہمیں انہیں مستقبل کے حقائق سے آگاہ کرنا چاہیے کہ مستقبل ہم سے کیا تقاضا کرتا ہے۔ ان حقائق پر گہری نظر رکھنے اور بغور مطالعے کی ضرورت ہے۔ اور اس حوالے سے ہمارا ردعمل بہت ٹھوس ہونا چاہئیے۔

امام عبداللہ دوبار پاکستان بھی جاچکے ہیں اور وہاں دوبارہ جانے کی خواہش رکھتے ہیں پاکستان کا ذکرکرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ مجھے اس ملک کے کھانے، ثقافت اور موسیقی بہت پسند ہے۔ علامہ اقبال میرے پسندیدہ شاعر ہیں۔ اور گوشت کا سالن اور بریانی میرے پسندیدہ کھانے ہیں۔ میں وہاں جانے کے ہر موقعے کا خیرمقدم کروں گا۔

XS
SM
MD
LG