رسائی کے لنکس

افغانستان میں ڈچ فوجوں کی موجودگی کے انتخابات پر ممکنہ اثرات

  • ہنری رجوِل

افغانستان میں ڈچ فوجوں کی موجودگی کے انتخابات پر ممکنہ اثرات

افغانستان میں ڈچ فوجوں کی موجودگی کے انتخابات پر ممکنہ اثرات

نیدرلینڈز میں اگلے ہفتے عام انتخابات ہوں گے۔ یہ انتخابات اس لیے ہو رہے ہیں کیوں کہ پچھلی مخلوط حکومت افغانستان میں ڈچ فوجیوں کی موجود گی میں توسیع کے سوال پر ختم ہو گئی تھی ۔رپورٹر ہنری رجوِل کو امسٹر ڈم میں اور نیدرلینڈ کے بقیہ حصے میں سفر کے دوران پتہ چلا کہ افغانستان میں ڈچ فوجیوں کی موجودگی کے بارے میں رائے عامہ ملی جلی ہے۔ ووٹرز کو اصل تشویش اقتصادی مسائل کے بارے میں ہے۔

دارالحکومت سے 50میل دور ہیگ میں پارلیمینٹ کا اجلاس ہوتا ہے ۔ فروری میں جب مخلوط حکومت میں شامل دو بڑی پارٹیوں کےدرمیان افغانستان میں نیٹو کے مشن کی مدت میں توسیع کے سوال پر اتفاق نہ ہو سکا، تو حکومت ختم ہو گئی، اور نئے انتخابات ضروری ہو گئے ۔

زووِل کے قصبے میں ایک سپاہی کی بیوی کی طرح ، بہت سے لوگوں کا خیال ہے کہ ان کا ملک نیٹو اتحاد کے لیے اپنے حصے سے زیادہ خدمات انجام دے چکا ہے ۔ وہ کہتی ہیں’’جب ہم امریکیوں سے بات کرتے ہیں، تو ہمیں اندازہ ہو جاتا ہے کہ ہم جو کچھ کر رہے ہیں وہ اس کے مداح ہیں۔ ہماری شرکت بہت زیادہ ہے۔لیکن بسا اوقات میں سوچتی ہوں کہ ہماری حقیقت کیا ہے ۔ دنیا کے نقشے پر ہم ایک چھوٹے سے نقطے کی طرح ہیں اور ہم ہر جگہ بہت سے کا م کر رہے ہیں۔‘‘

نیدرلینڈز کے تقریباً دو ہزار فوجی افغانستان میں تعینات ہیں۔قیام امن اور تعمیر نو کے مشن میں ہمارے 20 فوجی مارے جا چکے ہیں۔اب تک ان کے قیام میں توسیع کے سوال پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہو سکا ہے ۔ اس لیے وہ اگست میں وہاں سے نکلنا شروع ہو جائیں گے ۔

مارسِل ڈی ہاس ڈچ فوج میں لیفٹیننٹ کرنل ہیں اور آج کل کلنجنائل انسٹیٹوٹ فار انٹرنیشنل فار انٹرنیشنل ریلیشنز سے وابستہ ہیں۔ وہ کہتےہیں کہ مستقبل میں افغانستان کے آپریشن میں ڈچ فوجیوں کی شرکت کا دارومدار پیسے کی دستیابی پر ہو گا۔’’مالیاتی بحران کی وجہ سے تقریباً تمام پارٹیاں دفاعی بجٹ میں کمی کرنا چاہتی ہیں۔ پھر ہمارے سامنے مسئلہ یہ ہے کہ سیاسی اور فوجی کارروائیوں میں ہماری شرکت بہت زیادہ ہے ۔اب یہ سلسلہ جاری رکھنا مشکل ہے کیوں کہ موجودہ بجٹ میں ہم تمام آپریشنز کے اخراجات ادا نہیں کر سکتے۔‘‘

ہیگ میں ڈچ پارلیمینٹ کے باہر ، اخبار ڈی وولکسکرانٹ کے ایڈیٹر کہتے ہیں کہ افغانستان میں نیدر لینڈز کے رول کی جگہ اب لوگوں کی تمامتر توجہ داخلی مسائل پر ہے۔ ’’اب قومی مسائل ہیں جن میں سب کچھ داؤ پر لگا ہوا ہے۔ ملک کی اقتصادی حالت اور اقتصادی بحران۔اب افغانستان کی صورتِ حال کا کوئی نام بھی نہیں لیتا۔ فیصلہ ہو چکا ہے ۔ انتخابی مہم میں افغانستان کا ذکر بھی نہیں کیا جاتا کیوں کہ ووٹرز کو اس میں کوئی دلچسپی نہیں ہے ۔‘‘

اگرچہ بیشتر لوگ ووٹ ڈالتے وقت معیشت کو پیش نظر رکھیں گے، لیکن امسٹرڈم کی سڑکوں پر افغانستان کے مشن کے بارے میں لوگوں کی کوئی ایک رائے نہیں ہے۔ ایک شخص نے کہا کہ یہ جنگ شروع ہی سے غیر مقبول رہی ہے۔ بیشتر لوگ چاہتے ہیں کہ نیدر لینڈز کے لوگ جلد از جلد اپنی مداخلت ترک کر دیں۔ ایک خاتون نے کہا کہ میرے خیال میں ہمیں وہاں رکنا چاہیئے کیوں کہ وہاں لوگ بہت اچھا کام کر رہے ہیں۔ میرے خیال میں انہیں اپنا کام مکمل کرنا چاہیئے ۔ ایک اور شخص نے کہا کہ میرے خیال میں ہمیں وہاں رکنا چاہیئے ۔ہمارے لیے وہاں بہت خیر سگالی پیدا ہوئی ہے اور اب ہم وہاں سے نکل رہے ہیں۔ میرے خیال میں یہ پاگل پن ہے۔

بجٹ میں کٹوتی کی وجہ سے ڈچ حکومت بیرونی ملکوں میں اپنے فوجی آپریشنز میں تخفیف کرنے پر مجبور ہو سکتی ہے ۔ تجزیہ کارمارسِل ہاس کہتے ہیں کہ اس طرح اپنے اتحادی ملکوں کے ساتھ نیدر لینڈز کے تعلقات متاثر ہو سکتے ہیں۔’’اس طرح بین الاقوامی سطح پر ہمارے اثر و رسوخ میں کمی آئے گی۔ آج کل ہمیں G-20 کے اجلاسوں میں بلایا جاتا ہے۔ مجھے پکا یقین ہے کہ بین الاقوامی سطح پر ، خاص طور سے نیٹو میں، ہمارے سیاسی اثر و رسوخ کو نقصان پہنچے گا۔‘‘

نیدر لینڈز کے علاوہ یورپ میں اور بھی ملک ہیں جو دفاعی اخراجات میں کمی پر غور کر رہےہیں۔ اس کمی سے افغانستان کے آپریشنز متاثر ہو سکتے ہیں۔

جہاں تک ڈچ باشندوں کا سوال ہے، تجزیہ کار کہتے ہیں کہ ہو سکتا ہے کہ اس سے بین الاقوامی امور میں ان کا وہ اثر و رسوخ نہ رہے، لیکن یہ ایسی قیمت ہے جو وہ عالمی اقتصادی بحران پر قابو پانے کے لیے بخوشی ادا کرنے کو تیار ہیں۔

XS
SM
MD
LG