رسائی کے لنکس

ہالینڈ ڈھائی لاکھ پناہ گزینوں کو قبول کرنے کے منصوبے پر کاربند


فائل

فائل

یورپی یونین کا مرکزی گروپ اگر رضاکارانہ طور پر پناہ گزینوں کو قبول کرتا ہے، تو تمام یونین کے 28  ممالک بحثیتِ مجموعی اس کے تمام اخراجات برداشت کریں گے

ہالینڈ جو ان دنوں یورپی یونین کا صدر ہے، رکن ممالک کے ساتھ مل کر ترکی سے ہجرت کرنے والے ڈھائی لاکھ پناہ گزینوں کو قبول کرنے کا منصوبہ بنارہا ہے، بشرط کہ پہلے سے آئے ہوئے لاکھوں پناہ گزینوں کو واپس یونان بھیج دیا جائے۔

سوشلسٹ پارٹی کے رہنماء ڈیڈریک سمسن نے جو وزیر اعظم مارک روٹ حکومت کے کلیدی شراکت دار ہیں اخبار واکس کرانٹ کو بتایا کہ پناہ گزینوں سے متعلق یورپی یونین کا موجودہ موثر نہیں رہا کیونکہ بہت سے رکن ممالک نے پناہ گزینوں کو لینے سے انکار کردیا ہے۔

انھوں نے کہا کہ ڈچ منصوبے کے تحت، ایسے مرکزی اقوام کی ضرورت ہوگی جو پہلے سے آئے ہوئے لاکھوں پناہ گزینوں کو واپس یونان بھیجنے کے بعد بدلے میں ترکی سے آنے والے ڈھائی لاکھ پناہ گزینوں کو قبول کرلیں۔

سیمسن کا کہنا تھا کہ ایک بار ترکی پناہ گزینوں کے لئے محفوظ ملک کا درجہ حاصل کرلے تو پھر ان کی واپسی فوری طور پر ہوسکتی ہے۔

یورپی یونین کا مرکزی گروپ اگر رضاکارانہ طور پر پناہ گزینوں کو قبول کرتا ہے تو تمام یونین کے 28 ممالک بحثیت مجموعی اس کے تمام اخراجات برداشت کریں گے۔

اسی دوران، کشتی الٹنے سے ہلاک ہونے والے کم از کم 18 پناہ گزینوں کی لاشیں جمعرات کو یونانی ساحل ساموس سے برآمد ہوئیں، جن میں سے بیشتر بچوں کی تھیں، جبکہ حکام کے مطابق 10 افراد کو بچالیا گیا ہے۔

کشتی الٹنے سے ہلاک ہونے والے دو بچوں سمیت 7 پناہ گزینوں کی لاشیں بدھ کو بھی جزیرے کوس سے ملی تھیں۔

جنگ سے متاثرہ ممالک سے 10 لاکھ سے زائد لوگوں کا سیلاب گزشتہ برس یورپ پہنچا تھا، جس کی وجہ سے، جنگ عظیم دوم کے بعد ہجرت کا بدترین بحران پیدا ہوا۔ ان میں سے بیشتر ترکی سے انتہائی خطرناک بحری سفر طے کرکے یونان پہنچے تھے۔

XS
SM
MD
LG