رسائی کے لنکس

موجودہ صدر بنگینو اکینو کے ترجمان سونی کولوما نے منگل کو ایک بیان میں کہا کہ "ہمارے عوام نے اپنا فیصلہ دے دیا ہے اور ہم اسے قبول کرتے ہوئے اس کا احترام کرے ہیں۔"

فلپائن کے ایک بڑے جنوبی شہر کے میئر اور جرائم کے خلاف سخت گیر موقف رکھنے والے روڈریگو ڈوٹرٹے ملک کے نئے صدر منتخب ہو گئے ہیں۔

پیر کو ہونے والے انتخابات کے نتائج کا سرکاری طور پر اعلان تو نہیں کیا گیا لیکن ڈوٹرٹے کی فتح اس بنا پر یقینی ہوگئی ہے کہ ان کے قریبی حریف نے منگل کو اپنی شکست تسلیم کر لی۔

موجودہ صدر بنگینو اکینو کے ترجمان سونی کولوما نے منگل کو ایک بیان میں کہا کہ "ہمارے عوام نے اپنا فیصلہ دے دیا ہے اور ہم اسے قبول کرتے ہوئے اس کا احترام کرے ہیں۔۔۔اچھی طرز حکمرانی کا راستہ پہلے ہی استوار ہو چکا ہے جیسا کہ تمام صدارتی امیدواروں نے بھی بدعنوانی کے خلاف بات کی ہے۔"

ڈوٹرٹے کے حریف اور انتخابی دوڑ میں دوسرے نمبر پر آنے والے سابق وزیر داخلہ مار روکسز نے شکست کو تسلیم کرتے ہوئے کہا کہ "ڈگونگ، میں آپ کی کامیابی کی تمنا کرتا ہوں۔ آپ کی کامیابی ہمارے عوام اور ہمارے ملک کی کامیابی ہے۔"

ڈگونگ، ڈوٹرٹے کی عرفیت ہے اور وہ اسی نام سے شہرت رکھتے ہیں۔

نو منتخب صدر کے سخت ترین ناقد سینیٹر انتونیو ٹریلانیس نے امریکی خبر رساں ایجنسی "ایسوسی ایٹڈ پریس" سے بات کرتے ہوئے کہا کہ میئرکو فتح پر کوئی سوال نہیں اٹھتا۔

"میں اس وقت خوشی کے اس ماحول کو خراب کرنے والا نہیں بنوں گا۔ میں آرام سے بیٹھوں گا اور ان (ڈوٹرٹے) کی پالیسیوں کو سنوں گا۔ اس وقت ہمیں مزاح کے نمونے کی نہیں بلکہ ایک صدر کی ضرورت ہے جو قوم سے خطاب کرے گا۔"

71 سالہ ڈوٹرٹے نے اپنی انتخابی مہم میں جرائم اور بدعنوانی کے خاتمے کے عزم کا اظہار کیا لیکن ان کے طرز تخاطب میں ناشائستگی بھی جھلکتی تھی تاہم عوام نے انھیں خوب سراہا۔ انھوں نے مجرموں کی سزائے موت کا وعدہ کیا۔

وہ اپنے جنسی افعال کی بابت کھلے عام تذکروں پر بھی موضوع بحث رہے اور ان کا موازنہ امریکہ میں صدارتی دوڑ کے لیے ریپبلکن جماعت کی نامزدگی کے امیدوار ڈونلڈ ٹرمپ سے کیا جاتا رہا۔

فلپائن کے آئین کے مطابق موجودہ صدر اکینو ایک ہی مرتبہ چھ سال کی مدت کے لیے بطور صدر اپنے فرائض انجام دینے کے بعد اب سبکدوش ہو جائیں گے۔

XS
SM
MD
LG