رسائی کے لنکس

قدرتی آفات اورمؤثر پیشگی اطلاع کے نظام کی ضرورت

  • نیلوفر مغل

قدرتی آفات اورمؤثر پیشگی اطلاع کے نظام کی ضرورت

قدرتی آفات اورمؤثر پیشگی اطلاع کے نظام کی ضرورت

ستان میں آفات سے نمٹنے کے قومی ادارے (این ڈی ایم اے) کے ترجمان، ارشاد بھٹی نے’ وائس آف امریکہ ‘سے خصوصی گفتگو میں کہا کہ ملک کے بہت سے علاقوں میں پیشگی اطلاعات کے نظام کو مزید بہتر بنانے کی ضرورت ہے۔

اِن دِنوں، پاکستان کے جنوبی حصوں میں مون سون کی غیر معمولی بارشوں کا سلسلہ جاری ہے، جِن کے باعث اب تک کم از کم 132افراد ہلاک اور50لاکھ متاثر ہوچکے ہیں۔ محکمہٴ موسمیات کا کہنا ہے کہ آئندہ تین دِنوں میں مزید بارشوں کا امکان ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ زیادہ تر جانی و مالی نقصان پیشگی اطلاعات کے نظام یا Early Warning Systemپر عمل درآمد نہ کرنے کا نتیجہ ہوتے ہیں۔

پاکستان میں آفات سے نمٹنے کے قومی ادارے (این ڈی ایم اے) کے ترجمان، ارشاد بھٹی نے’ وائس آف امریکہ ‘سے خصوصی گفتگو میں کہا کہ ملک کے بہت سے علاقوں میں پیشگی اطلاعات کے نظام کو مزید بہتر بنانے کی ضرورت ہے۔

ارشاد بھٹی کا کہنا تھا کہ دور افتادہ علاقٕوں کوبارش کی بروقت اطلاع دینا بہت مشکل تھا، لیکن کچھ علاقے ایسے بھی تھے جن کو کچھ تگ و دو سے اطلاع فراہم کیا جاسکتا تھا، اگر ابلاغ کے موجود ذرائع کو مؤثر طور پر استعمال کیا جاتا۔

ساتھ ہی، ترجمان کا کہنا تھا کہ متاثرہ یا زد میں آنے کے خطرے میں رہنے والے لوگوں کو باور کرانے کی ضرورت ہے کہ وہ نشیبی علاقوں میں گھر تعمیر نہ کریں، اور اس بات کے آگاہی کی ضرورت ہے کہ کس زمین پر کس طرح کے گھر بننے چاہئیں یا کس طرح کا مٹیرئل استعمال ہونا چاہیئے۔ اِس سلسلے میں، ادارہ ورک شاپ منعقد کر رہا ہے تاکہ لوگوں کو سمجھایا جاسکے۔

دریں اثنا، ادارے کے ذرائع نے اِس سے قبل بتایا کہ اِس وقت صوبہ سندھ میں چالیس لاکھ ایکڑ سے زائد رقبہ زیر آب چکا ہے جب کہ 17 لاکھ ایکڑ پر کھڑی فصلیں بھی بری طرح متاثر ہوئی ہیں ۔ ساٹھ ہزار سے ایک لاکھ کے درمیان مال مویشی سیلابی ریلوں میں بہہ گئے جب کہ کپاس، گنا، سبزیوں ، گنے کی فصلیں تباہ ہو گئیں اور چھ لاکھ نوے ہزار مکانوں کو نقصان پہنچا ہے۔

آڈیو رپورٹ سنیئے:

XS
SM
MD
LG