رسائی کے لنکس

عالمی سطح پر منائے گئے ارتھ آور کا مقصد زمین پر موجود غیر ضروری لائٹس بند کرکے بجلی کی بچت کو فروغ دینا اور زمین کے ماحول پر اس سے ہونےوالے منفی اثرات کو روکنا اور ماحول کو بہتر بنانا ہے

کراچی: دنیا بھر کے دیگر ممالک کی طرح، پاکستان میں بھی زمین سے محبت کے اظہار کیلئے، ایک گھنٹہ روشنیاں گل کرکے 'ارتھ آور' منایا گیا۔

پاکستان کے ساحلی شہر کراچی میں سندھ اسمبلی کی عمارت کے احاطے میں ارتھ آور منانے کی ایک باقاعدہ تقریب کا انعقاد کیا گیا، جس می پاکستان میں ماحولیات کے حوالے سے کام کرنے والےادارے'ڈبلیوڈبلیوایف' کے ارکان اور شوبز سے متعلق شخصیات سمیت سول سوسائٹی کے افراد نے شرکت کی۔

سندھ اسمبلی کی عمارت کے احاطے میں ہونےوالی تقریب کے ارتھ اور پر رات ٹھیک 'ساڑھے آٹھ' بجے سے 'ساڑھے نو' بجے تک تمام برقی روشنیاں گل کرکے موم بتیاں روشن کرکے ارتھ آور منایا گیا۔

کراچی میں ایک گھنٹہ زمین سے محبت کے اظہار کیلئے شمعیں روشن کرکے فضا میں لالٹینیں بھی جلائی گئیں۔

ڈبلیو ڈبلیو ایف پاکستان کے ریجنل ڈائریکٹر رب نواز نے ’وائس آف امریکہ‘ سے گفتگو میں بتایا کہ دنیا بھر میں ارتھ آور منانے کی تقریبات سال 2007ء سے منائی جا رہی ہیں۔ اسی کےساتھ، پاکستان میں بھی اس تقریب کو منانے کا مقصد عام سطح پر لوگوں میں یہ شعور اجاگر کرنا ہے کہ وہ بجلی کی توانائی کا استعمال کم کرکے ماحولیات کو بہتر بنائیں اور ہمارے اردگرد بکھری قدرتی خوبصورتی کو ختم ہونے سے بچائیں اوز اس عمل سے دنیا کو بتائیں کہ پاکستان بھی دنیا بھر کے دوسرے ممالک کی طرح زمین کے ماحولیات کو بہتر بنانا چاہتا ہے‘۔

ان کا کہنا تھا کہ ’ہمارا پیغام زمین پر ہونےوالے 'موسمیاتی تبدیلی' کی اہمیت کو اجاگر کرنا ہے۔ پہلے لوگوں میں اسکا شعور نہیں تھا، مگر اب لوگ باشعور ہو رہے ہیں‘۔

عالمی سطح پر منائے گئے ارتھ آور کا مقصد زمین پر موجود غیر ضروری لائٹس بند کرکے بجلی کی بچت کو فروغ دینا اور زمین کے ماحول پر اس سے ہونےوالے منفی اثرات کو روکنا اور ماحول کو بہتر بنانا ہے۔

دنیا بھر کے ممالک میں اقوام متحدہ کی جانب سے ارتھ آور سال 2007ءسے ہر سال 28 مارچ کو منایا جاتا ہے، جسمیں دنیا بھر کے ہزاروں افراد شریک ہوتے ہیں۔ اس عالمی تحریک کا مقصد ایک گھنٹے تک روشنیاں گل کرکے زمین سے محبت کا اظہار کرنا ہے۔

تبصرے دکھائیں

XS
SM
MD
LG