رسائی کے لنکس

چھوٹے چٹانی اور پتھریلے سیارے کی دریافت

  • برمن
  • بہجت گیلانی

چھوٹے چٹانی اور پتھریلے سیارے کی دریافت

چھوٹے چٹانی اور پتھریلے سیارے کی دریافت

یورپی سائنس دان بتاتے ہیں کہ اُنھوں نے چھوٹے چٹانی اور پتھریلے سیارے کو دریافت کیا ہے جو ایک دور افتادہ ستارے کے مدار میں چکر لگا رہا ہے۔

سائنس داں اِسے سب سےچھوٹا اور زمین سے انتہائی مشابہ قرار دیتے ہیں جہاں زندگی ممکن ہو سکتی ہے۔

یہ اجنبی دنیا ہمارے نظامِ شمسی سے باہر موجود 50سیاروں میں سے ایک ہے جِن میں 16ایسے سیارے بھی شامل ہیں جنھیں Super Earthsکہا جاتا ہے۔

ہمارے نظامِ شمسی سے باہر یہ سیارہ اپنے Parent Starکے مدار میں گردش کررہا ہے۔ اِس ستارے کو HD85512کہا جاتا ہے اور یہ زمین سے 35لائٹ ایئرز کے فاصلے پر ہے۔اِس اجنبی دنیا کو اپنے ستارے کے نام کے بعد Bکا لفظ شامل کرکے پہچانا جاتا ہے اور یہ 19سیاروں میں شامل ہے جنھیں سُپر ارتھس کہا جاتا ہے۔

یہ پتھریلی اور چٹانی دنیائیں زمین کے مقابلے میں دس گُنا تک بڑی ہوسکتی ہیں اور حال ہی میں دریافت ہونے والا یہ سیارہ زمین سے تقریباً ساڑھے تین گُنا بڑا ہے۔

جرمنی میںMax Planck Institute for Astronomyاور میساچیوسٹس میں Harvard Smithsonian Center for Astrophysicsسے وابستہ لیزا کالٹنگر کہتی ہیں کہ زمین سےتقریباً دس گنا زیادہ حجم والے سیاروں کے بارے میں ہمارا خیال یہی ہے کہ وہ پتھریلے اور چٹانی ہیں۔اِسی لیے ممکن ہے کہ ہماری زمین سے مشابہت بھی رکھتے ہوں۔

اِس ستارے کا سورج ہماری زمین کے سورج سے کچھ چھوٹا اور درجہٴ حرارت میں کچھ ٹھنڈا ہے اور یہ 150ملین کلومیٹر کی دوری پر ہے۔ یہ تقریباً وہی فاصلہ ہے جو زمین اور سورج کے درمیان ہے، اور یوں یہ اجنبی سیارہ اُس درجہ بندی میں شامل ہوجاتا ہے جسے ماہرین ِ فلکیات زندگی کے اور رہنے کے قابل قرار دیتے ہیں۔

ماہرینِ فلکیات کا خیال ہے کہ رہائش کے قابل درجہ بندی کا سیارہ اپنے سورج سے مناسب اور درست فاصلے پر ہے یعنی جہاں درجہٴ حرارت نہ تو بے حد سرد ہوگا اور نہ ہی بے حد گرم۔

اُن کا کہنا ہے کہ سیارے کی صورتِ حال ممکن ہے مایہ پانی کی موجودگی بھی برداشت کر سکتی ہو جو کہ زندگی قائم رکھنے کے لیے ضروری ہے۔

ماہرینِ فلکیات کہتے ہیں کہ سیارہ انتہائی دور ہے اور ممکن طور پر اِس کا ماحول ایک چٹانی بنیاد پر پتلی سی تہہ ہے۔ اِس لیے موجودہ دوربین اِس حد تک طاقتور نہیں کہ باریک بینی سے جائزہ لیا جاسکے۔ اِس لیے اُنھیں European Extremely Large Telescope درکار ہے۔

ایک ارب ڈالر سے تیار ہونے والی یہ دوربین دنیا میں اپنی نوعیت کی سب سے بڑی دوربین ہوگی جِس کے ذریعے اہم اور حساس معلومات حاصل کرنا ممکن ہوسکے گا۔

اُن کا کہنا ہے کہ نظامِ شمسی کے باہر کے سیاروں کا پتا چلانے والوں کے لیے یہ ایک خوش کُن وقت ہے۔

اُن کا کہنا تھا کہ حقیقت میں اپنی دوربینوں کی مدد سے نئی نویلی دنیائیں دریافت کر رہے ہیں اور ایسا ہماری نسل کی موجودگی میں ممکن ہوگا۔

اب تک قریبی شمسی نظاموں میں 600سے زائد ایسے سیارے دریافت ہوچکے ہیں جو ہمارے نظامِ شمسی سے باہر ہیں۔ اِن میں سے بیشتر رہائش کی درجہ بندی کےزمرے میں نہیں آتے۔

آڈیو رپورٹ سنیئے:

XS
SM
MD
LG