رسائی کے لنکس

رپورٹ کے مطابق اپریل کے مہینے میں 13 بڑے زلزلے ریکارڈ کئے گئے جن میں سے5 زلزلوں کی شدت ریکٹر اسکیل پر 7.8 ریکارڈ کی گئی۔

برطانوی ادارہ ِموسمیات سے وابستہ ماہرین کا کہنا ہے کہ بظاہر خاموش نظر آنے والی زمین اندر سے کتنی فعال ہو سکتی ہے قدرت کی طرف سے ایسی یاد دہانیوں کی تعداد میں اب تیزی آچکی ہے۔ رواں برس اپریل ایک ایسا مہینہ ثابت ہوا جس کے ریکارڈ توڑ زلزلے کے جھٹکوں نے ساری دنیا کو ہلا کر رکھ دیا۔

ماہرین کے مطابق دنیا اوسطاً ایک ماہ کے دوران ایک سے دو بار ایسے طاقتور زلزلے کے جھٹکوں کو محسوس کرتی ہے جن کی شدت زلزلہ پیما پر 6.5 ہو لیکن اپریل کے مہینے میں زلزلے کے واقعات معمول کی تعداد سے زیادہ رہے۔

سونامی کا انتباہ جاری کرنے والے مرکز پیسیفک سونامی سینٹر (پی ٹی ڈبلیو سی) کی رپورٹ کے مطابق اپریل کے مہینے میں 13 بڑے زلزلے ریکارڈ کئے گئے جن میں سے5 زلزلوں کی شدت ریکٹر اسکیل پر 7.8 ریکارڈ کی گئی جبکہ ایسے بڑے زلزلوں کی وجہ سے اس ماہ کئی بار سونامی کے خطرے کا انتباہ بھی جاری کیا گیا۔

رپورٹ کے مطابق عام طور پر درمیانی شدت یا بڑے زلزلوں کی تعداد ایک ماہ میں بہت کم ہوتی ہے لیکن گذشتہ ماہ کے زلزلوں نے یہاں بھی ریکارڈ قائم کیا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ پہلی اپریل تک زمین بظاہر پر سکون نظر آرہی تھی لیکن پھر2 اپریل کو 8.2 شدت کے زلزلے کے جھٹکوں نے شمالی چلی کو ہلا کر رکھ دیا جس کے بعد اسی ماہ ساوتھ پیسیفک میں سولومن جزیرہ شدید زلزلے کے زوردار جھٹکوں سے کانپ اٹھا۔

تاہم ماہرین کے لیے یہ بات حیرانی کا باعث تھی کہ اپریل میں ریکارڈ کئے جانے والے تمام بڑے زلزلے ان دو طاقتور زلزلوں کا حصہ نہیں تھے بلکہ اس ماہ میں دنیا بھر میں عام زلزلے کے جھٹکوں سے زیادہ بڑے زلزلے محسوس کئے گئے۔ نکارا گوا، میکسیکو اور کینیڈا کی زمین بھی زلزلوں کے جھٹکوں سے لرز اٹھی یہاں تک کہ ساؤتھ اٹلانٹک تک میں زلزلے محسوس کیے گئے۔
XS
SM
MD
LG