رسائی کے لنکس

بھوک سے نمنٹے کے لیےزرعی شعبے پر توجہ دینے کی ضرورت ہے: ماہرین

  • ماریاما ڈیالو

بھوک سے نمنٹے کے لیےزرعی شعبے پر توجہ دینے کی ضرورت ہے: ماہرین

بھوک سے نمنٹے کے لیےزرعی شعبے پر توجہ دینے کی ضرورت ہے: ماہرین

ورلڈ فوڈ پروگرام کے مطابق اس سال افغانستان میں قحط سے متاثرہ 20 سے 30 لاکھ افراد کو عالمی امدادی اداروں کی فراہم کردہ خوراک کی ضرورت پڑے گی ۔ورلڈ فوڈ پروگرام نے جسے مالی مشکلات کی وجہ سے اپنے منصوبوں میں زبردست کٹوتی کرنی پڑ رہی ہے ، خبردار کیا ہے کہ عالمی عطیہ دہندگان نے فوری مالی مدد نہ کی ، تو دنیا کے کئی حصوں میں بھوک کا شکار افراد کی تعداد میں اضافہ ہو جائے گا ۔ بر اعظم افریقہ کے کئی ملک ان دنوں تاریخ کے بد ترین غذائی بحران کا شکار ہیں اور امریکہ میں امدادی اداروں کے ماہرین کا کہنا ہے کہ افریقی ملکوں میں زراعت کو فروغ دینے کے لئے ایسے منصوبوںٕ پر کام کرنے کی ضرورت ہے ، جن کے اثرات دور رس اور طویل مدتی ہوں ۔

کینیا ،ایتھیوپیا ، جبوتی اور صومالیہ کے بیشتر علاقوں میں د و سال سے بارش نہیں ہوئی ۔ اور غذائی قلت کا شکار آبادیاں نقل مکانی کرنے پر مجبور ہیں ۔ نقل مکانی کرنے والوں کو خوراک اور پانی کی تلاش میں کئی کئی دن پیدل سفر کر نا پڑ رہا ہے ۔ جبکہ عالمی امدادی ادارے صومالیہ میں قحط کی وجہ سےجنم لینے والے ایک نئے انسانی بحران سے خبردار کر رہے ہیں ۔ پناہ گزینوں کے عالمی ادارے کے کمشنر اینٹونیو گوٹیریز کا کہناہے کہ اس میں کوئی شک نہیں کہ آج ہمیں صومالیہ میں دنیا کے بد ترین انسانی بحران کا سامنا ہے ۔ یہاں داداب پناہ گزین کیمپ میں ہم دنیا کی بد ترین بھوک کا شکار آبادی دیکھ رہے ہیں ۔

امریکی ادارہ برائے عالمی ترقی (یو ایس ایڈ )کے فوڈ سیکیورٹی کے شعبے کے مشاورتکارموفاٹ گوگی کہتے ہیں کہ مشرقی افریقی ملکوں میں خوراک کے موجودہ بحران کی ایک وجہ آبادی کا مویشیوں پر ضرورت سے زیادہ انحصار ہے ۔

لیکن یو این فاونڈیشن کی نائب صدر میلنڈا کمبل کے مطابق مسئلہ اس سے بھی گہرا ہے ۔ وہ کہتے ہیں کہ اصل مسئلہ حکومتی منصوبہ بندی کی کمی ہے ، جس کا مطلب بہت حد تک حکومت کی طرف سے انفرا سٹرکچر ، تحقیق اور سائنس کی دریافتوں پر توجہ نہیں دی جا رہی، جس کی بےحد ضرورت ہے۔

میلنڈا کیمبل کہتی ہیں کہ افریقی کسان کئی برسوں سے موسم اور سرکاری منصوبہ بندی کے فقدان کی قیمت ادا کر رہے ہیں ۔

لیکن یو ایس ایڈ کے موفاٹ گوگی کہتے ہیں کہ مسئلے کاکوئی فوری حل موجود نہیں ۔ اس سال جون میں امریکہ نے فیڈ دا فیوچر کے نام سے ایک نیا پروگرام شروع کیا جس کا مقصد خوراک کی قلت دور کرنا تھا۔

ملنڈا کمبل کا کہنا ہے کہ بارشوں کی کمی اور قحط کی صورتحال افریقی زراعت پر اثرا نداز ہوتی رہے گی لیکن پیداوار بڑھانے کے طریقے ڈھونڈے جا سکتے ہیں ۔

ان کا کہناتھا کہ آپ زیادہ پانی ذخیرہ کرنے یا زیادہ پانی بچانے کا بندوبست کر سکتے ہیں ۔ ایسی فصلیں اگا سکتے ہیں ، جنہیں کم پانی درکار ہو ، یا جو مویشیوں کی خوراک کی ضرورتیں پوری کر سکیں اور جو زیادہ رقبے پر کاشت نہیں ہو رہیں ۔

اقوام متحدہ کے مطابق مشرقی افریقہ میں بیس لاکھ بچے خوراک کی کمی کا شکار ہیں ، پانچ لاکھ بچوں کی زندگی بچانے کے فوری اقدامات کی ضرورت ہے، جبکہ خشک سالی اور قحط سے متعلق خبردار کرنے کا نظام زیادہ موثر بنانے کی ضرورت ہے ۔

XS
SM
MD
LG