رسائی کے لنکس

جنسی زیادتی کے الزامات کا چرچ کی ساکھ پر اثرات ’’ایک جائزہ‘‘

  • سونجا پیس

دنیا بھر میں عیسائیوں کے رومن کیتھولک فرقے کے لوگ اس اتوارکو ایسٹر کا تہوار منائیں گے۔ لیکن پادریوں کے ہاتھوں نوجوانوں کے ساتھ جنسی زیادتیوں کے الزامات سے چرچ کی ساکھ کو نقصان پہنچا ہے اور پوپ بینیڈکٹ کی قیادت کے بارے میں سوالات پیدا ہوگئے ہیں۔

ویٹیکن میں سینٹ پیٹرز اسکوائر، یہ مقام رومن کیتھولک مذہب کا مرکز ہے ۔ دنیا بھر میں رومن کیتھولک فرقے کے لوگوں کی تعداد ایک ارب سے زیادہ ہے۔ لیکن آج کل رومن کیتھولک چرچ کو پادریوں کے ہاتھوں نوجوانوں کے ساتھ جنسی زیادتی کے الزامات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ یہ الزامات بھی لگائے جا رہے ہیں کہ سینیئر پادریوں نے ان واقعات پر پردہ ڈالنے کی کوشش کی اور پوپ بینیڈکٹ کے رول کے بارے میں بھی جو پوپ بننے سےپہلے کارڈینل جوزف ریٹزنیگر ’’ Ratzinger‘‘ تھے ، سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔

پیٹرایسلی کے ساتھ جب ایک پادری نے جنسی بد سلوکی کی اس وقت ان کی عمر 13 سال تھی۔ وہ کہتے ہیں کہ اس واقعے کی وجہ سے انھوں نے زیادتیوں کا شکار ہونے والے لوگوں کے لیے ایک امدادی گروپ قائم کیا ہے ۔ وہ اب کچھ سوالات کا جواب لینے روم آئے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ’’ہمارے یہاں آنے کا مقصد یہی ہے۔ ہم یہ کہنے آئے ہیں کہ ہماری کمیونٹی کے یہ تمام لوگ جو زیادتیوں کا شکار ہوئے آپ سے کچھ سوالات کا جواب چاہتے ہیں۔ آپ کو ان سے بات کرنی ہوگی‘‘۔

وہ خاص طور سے اس پادری کے کیس میں جس نے 30 سال قبل امریکی ریاست وسکانسن میں 200 بہرے امریکی بچوں کے ساتھ زیادتی کی تھی، کارڈینل کے رول کے بارے میں معلوم کرنا چاہتے ہیں کہ انھوں نے اسے پادری کے عہدے سے کیوں نہیں ہٹایا اور اس کے خلاف تادیبی کارروائی کیوں نہیں کی۔

اب تک پوپ نے آئرلینڈ میں ہونے والی زیادتیوں پر معذرت پیش کی ہے جو حال ہی میں منظرِعام پر آئی ہیں اوراُنھوں نے آئرلینڈ کے کیتھولکس کے نام خط لکھا ہے جس میں جنسی بدسلوکی کے کیسوں میں مناسب کارروائی نہ کرنے پر بشپس پر تنقید کی ہے۔

ماضی میں زیادتیوں کے الزامات یورپ کے دوسرے ملکوں میں بھی سامنے آئے ہیں۔ ان میں ان کا اپنا وطن جرمنی بھی شامل ہے جہاں وہ میونخ میں 1977 سے 1982تک وہ آرچ بشپ تھے۔ اس زمانے میں ریٹزنیگر نے ایک پادری کو جو بچوں کے ساتھ زیادتی کے لیے مشہور تھے، نفسیاتی علاج کے لیے میونخ کی بھیجا تھا۔

سوال یہ ہے کہ کیا انہیں اس بات کا علم تھا کہ اس پادری کو جلد ہی چرچ میں واپس بھیج دیا گیا جہاں ان کا رابطہ پھر بچوں سے ہونے لگا؟ ویٹیکن کا کہنا ہے کہ ریٹزنیگر کو اس کا علم نہیں تھا۔ پادری گوڈیہارڈ برنٹرپ میونخ کے Jesuit College میں پروفیسر ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ انہیں شبہ ہے کہ ریٹزنیگر کو اس بات کا علم تھا۔ ’’ میرے خیال میں ہالیرمان کو دوبارہ پاستر کے طور پر کام کرنے کی اجازت دیے جانے پر براہ راست ریٹزنیگر کو ذمے دار قرارنہیں دیا جا سکتا ۔ شاید بالواسطہ طور پر وہ ذمہ دار ہو سکتے ہیں کیوں کہ بالآخر ہر چیز کی ذمے داری انھیں کی ہے ’’ ریٹزنیگر کے بارے میں مشہور ہے کہ انھوں نے چرچ میں جنسی بد سلوکی کے خلاف قوانین کو زیادہ سخت بنایا۔ لیکن اس دور کے بارے میں جب وہ ویٹیکن کے مین آفس میں کام کرتے تھے ، یہ سوالات باقی ہیں کہ ان جرائم پر پردہ ڈالنے کے بارے میں وہ کس حد تک با خبر تھے‘‘۔

رلیجن نیوز سروس کے فرینکس روکا کہتے ہیں کہ ان کے خیال میں پوپ ان کیسوں کے مضمرات سے اچھی طرح با خبر ہیں ’’مجھے امید ہے کہ وہ جرمنی کی صورتِ حال سے بھی اسی طرح نمٹیں گے جس طرح انھوں نے آئر لینڈ کے کیس میں کیا تھا۔ وہ پوپ کے منصب کی مناسبت سے زبان استعمال کریں گے اور کہیں گے کہ جس طرح اس مسئلے سے نمٹا گیا تھا اسے بہترین طریقہ نہیں کہا جا سکتا‘‘۔

لیکن کچھ لوگوں کے لیے مبہم لفاظی کافی نہیں ہے۔ اس باے میں پیٹرایسلی کہتے ہیں کہ ’’جی نہیں، اس سے کام نہیں بنے گا۔ انہیں ایسے الفاظ استعمال کرنا شروع کردینے چاہئیں جن سے ان چیزوں کی تفصیل سامنے آئے اور یہ بتایا جائے کہ انھوں نے اس سلسلے میں کیا کیا ہے ‘‘۔

طویل مدت کے لیئے چرچ کو اس سے کوئی بڑا نقصان نہیں پہنچے گا۔ فرینکس روکا کہتے ہیں کہ مجموعی طور پر اس کے اثرات اچھے پڑیں گے کیوں اس سے شمالی امریکہ کے ساحلوں سے دور، یورپ میں، اور بالآخر ساری دنیا میں یہ احساس بیدار ہو گا کہ اس معاملے سے زیادہ بہتر طریقے سے نمٹا جانا چاہیئے۔ بہت سے لوگوں کا خیال ہے کہ ویٹیکن سے جلد ہی اس سلسلے میں نئی ہدایات جاری ہوں گی ۔

XS
SM
MD
LG