رسائی کے لنکس

’عالمی شہری کی حیثیت سے، ہم سب کا فریضہ ہے کہ ہم یہ پیغام عام کریں کہ مغربی افریقہ کے لاکھوں لوگوں کو بے سہارا نہ چھوڑا جائے‘: لائبیریا کی صدر کا بیان

بین الاقوامی امدادی ادارے، ’آکسفوم‘ نے یورپی یونین کے وزرائے خارجہ سے مطالبہ کیا ہے کہ ایبولا کے نمٹنے کے لیے کوششیں تیز کی جائیں۔۔۔ جس مرض کے بارے میں آکسفوم کا کہنا ہے کہ ’یقینی طور پر، یہ ہماری نسل کی ایک آفت کا درجہ رکھتی ہے‘۔

عطیات سے متعلق اس برطانوی ادارے کے سربراہ، مارک گولڈ رنگ نے مزید افواج، رقوم اور طبی امداد سیئرا لیون، گِنی اور لائبیریا بھیجنے کی اپیل کی ہے،جو اِس وبائی مرض سے بدترین طور پر متاثر ہوئے ہیں۔

گولڈ رنگ نے کہا ہے کہ وہ ملک جو ایبولا سے نمٹنے کے عزم میں ناکام رہتے ہیں، اُنھیں، بقول ادارے کے، ’انسانی جانوں کے ضایع ہونے کا خدشہ لاحق رہتا ہے‘۔

اتوار کو بی بی سی کو تحریر کردہ ایک کھلے مراسلے میں، لائبیریا کی صدر ایلن جانسن سر لیف نے کہا ہے کہ ایبولا کے خلاف لڑائی ایسی ہے جو ’ساری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لے سکتی ہے‘۔


مز سرلیف کے الفاظ میں، ’عالمی شہری کی حیثیت سے، ہم سب کا فریضہ ہے کہ ہم یہ پیغام عام کریں کہ مغربی افریقہ کے لاکھوں لوگوں کو بے سہارا نہ چھوڑا جائے۔‘

عالمی ادارہٴصحت نے کہا ہے کہ ایبولا کے مرض کے باعث مغربی افریقہ میں اب تک 4500 سے زائد افراد ہلاک ہوچکے ہیں۔ صحت سے متعلق ماہرین نے پیش گوئی کی ہے کہ اِس سال کے اختتام تک مزید ہزاروں افراد ہلاک ہو سکتے ہیں۔

ادارے نے کہا ہے کہ ایبولا پر کنٹرول کے بعد ہی، اس مرض پر عالمی کارکردگی کا ’مکمل جائزہ‘ لیا جائے گا۔

امریکی وزیر دفاع، چَک ہیگل نے فوج کو احکامات جاری کیے ہیں کہ وہ فوری طبی امداد پر مامور ایک 20 رکنی دستہ قائم کرکے اور اُسے تربیت فراہم کرے، تاکہ امریکہ میں ایبولا کے مزید کیسز سامنے آنے کی صورت میں صحت کے پیشہ ور سولین دستیاب ہوں۔ اس ٹیم میں پانچ ڈاکٹر، شدید بیماری کی صورت میں نگہداشت کے لیے 20 نرسیں، اور انفیکشن سے متعلق ضابطوں پر عمل درآمد کو یقینی بنانے کے اہل کار شامل ہوں۔

ہفتے کے روز امریکی صدر براک اوباما نے قومی سلامتی اور صحت عامہ سے متعلق ٹیموں کے ارکان سے ملاقات کی، جس دوران ایبولا کے داخلی کیسز سے نمٹنے کے لیے جاری کارروائی کی تفصیل سے آگہی حاصل کی گئی۔

XS
SM
MD
LG