رسائی کے لنکس

ماہرینِ اقتصادیات کا کہنا ہے کہ سود کی شرح میں اضافے کے اقدام سے شرح افزائش میں کمی واقع ہوگی، اور اس سے افراط زر میں اضافہ ہوسکتا ہے، جس سے معیشت کو دھچکہ پہنچے گا

امریکی مرکزی بینک کے حکام نے سود کی ریکارڈ کم سطح کو تبدیل نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ کئی برس سے جاری سود کی یہ کم شرح فی الحال جاری رہے گی۔

اس بات کا فیصلہ جمعرات کو کیا گیا، جس سے کمزور عالمی معیشت کے بارے میں تشویش کی غمازی ہوتی ہے۔
سود کی شرح میں تبدیلی کی صورت میں یہ اقدام تقریباً ایک دہائی میں یہ پہلی کیا جاتا۔ متعدد اہل کاروں کا کہنا ہے کہ وفاقی محکمہٴخزانہ اِس سال کے اواخر میں شرح میں اضافہ کر سکتا ہے۔

ملکی معیشت کے فروغ کے اقدام کے طور پر، قیمتوں کو مستحکم رکھنے کے لیے اور ملازمت میں تیزی لانے کی غرض سے، مرکزی بینک اپنی سود کی شرح میں تبدیلی کا عمل کیا کرتا ہے۔

معاشی افزائش کی راہ ہموار کرنے کے لیے، مالی بحران کے دوران، وفاقی محکمہٴخزانہ نے شرح سود کو صفر اور ایک فی صد کی چوتھائی کی ریکارڈ سطح پر لانے کا فیصلہ کیا تھا۔ ماہرینِ اقتصادیات کا کہنا ہے کہ سود کی شرح میں اضافے کے اقدام سے شرح افزائش میں کمی واقع ہوگی، اور اس سے افراط زر میں اضافہ ہوسکتا ہے، جس سے معیشت کو دھچکہ پہنچے گا۔

تب سے، بے روزگاری کی 10 فی صد شرح کم ہوکر 5 فی صد رہ گئی ہے، جب کہ افراط زر محکمہٴخزانہ کے اندازوں سے بھی نیچے، یعنی 2 فی صد سالانہ کی سطح پر ہے۔

XS
SM
MD
LG