رسائی کے لنکس

پاکستان میں انتخابی عمل کے نگران ادارے ’الیکشن کمیشن‘ کے سیکرٹری اشتیاق احمد خان نے حالیہ ضمنی انتخابات کے دوران صوبہ سندھ کے ایک حلقے میں ادارے کے عملے کو پولیس کی جانب سے تحفظ فراہم نا کیے جانے پر اپنے عہدے سے استعفی دے دیا ہے۔

وحیدہ شاہ کیس کی سماعت کے موقع پر جمعہ کو عدالت عظمیٰ کے باہر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے اُنھوں نے کہا کہ 10 ماہ قبل بھی اس یہ نوعیت کے معاملے پر اُنھوں نے استعفیٰ دے دیا تھا لیکن الیکشن کمیشن اور وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی نے اُسے مسترد کر دیا تھا۔

’’میں نے کل (جمعرات کو) ہی اپنی ملازمت سے فارغ ہونے کا فیصلہ کر کے (استعفیٰ) کمیشن کو بھیج دیا ہے۔‘‘

اس سے قبل چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے الیکشن کمیشن کی اہلکار کو تشدد کا نشانہ بنانے پر حکمران پیپلز پارٹی کی خاتون رکن وحیدہ شاہ کی’’غیر مشروط‘‘ معذرت کو مسترد کر دیا۔

عدالت نے صوبہ سندھ کے علاقے ٹندو محمد خان میں 25 فروری کو پیش آنے والے اس واقعہ پر شدید ناگواری کا اظہار کیا۔

’’آپ (وحیدہ شاہ) نے پوری قوم کو طمانچہ مارا ہے۔ یہ معاملہ اب صرف عدالت تک محدود نہیں رہا ... ریاست بھی فریق بن گئی ہے۔‘‘

سندھ اسمبلی کی نشست پر ضمنی انتخاب کے دوران وحیدہ شاہ پولنگ عملے سے کسی بات پر اختلاف کی وجہ سے طیش میں آ گئی تھیں اور اُنھوں نے وہاں موجود الیکشن کمیشن کی خاتون اہلکار کے منہ پر تھپڑ مار دیا تھا۔

اُن کا یہ فعل وہاں موجود کیمرہ مین نے عکس بند کر لیا جس کے بعد نیوز چینلز نے ان مناظر کو بار بار نشر کر کے پیپلز پارٹی پر شدید تنقید کا سلسلہ شروع کر دیا۔

XS
SM
MD
LG