رسائی کے لنکس

پاکستان میں انتخابی عمل کے نگران ادارے ’الیکشن کمیشن‘ نے سندھ اسمبلی کے ایک حلقہ کے نتائج کو کالعدم قرار دیتے ہوئے کامیاب ہونے والی پیپلز پارٹی کی امیدوار وحیدہ شاہ کو انتخابی عملے پر تشدد کرنے کی وجہ سے دو سال کے لیے کسی بھی سرکاری عہدے کے لیے نا اہل قرار دے دیا ہے۔

الیکشن کمیشن کے ایک ترجمان افضل خان نے صحافیوں کو بتایا کہ یہ فیصلہ بدھ کو چیف الیکشن کمشنر حامد علی مرزا کی سربراہی میں کمیشن کے پانچوں ممبران کے اجلاس میں کیا گیا۔

’’الیکشن کمیشن کے تین ممبران نے یہ سزا تجویز کی جب کہ دو ممبران، الیکشن کمشنر حامد مرزا اور سندھ کے ہمارے ممبر ریئسانی صاحب کا یہ خیال تھا کہ یہ درخواست قابل سماعت نہیں ہے۔‘‘

اُنھوں نے کہا کہ الیکشن کمیشن کے فیصلے کے خلاف سپریم کورٹ میں اپیل کی جا سکتی ہے۔

وحیدہ شاہ کیس کا عدالت عظمیٰ نے از خود نوٹس لے رکھا ہے اور اس مقدمے ایک سماعت ہو چکی ہے۔

صوبہ سندھ کے علاقے ٹنڈو محمد خان کے حلقے میں 25 فروری کو ہونے والے ضمنی انتخابات کے موقع پر وحیدہ شاہ پولنگ اسٹیشن پر تعینات عملے سے کسی بات پر اختلاف کی وجہ سے طیش میں آ گئی تھیں اور اُنھوں نے وہاں موجود الیکشن کمیشن کی خاتون اہلکار کے منہ پر تھپڑ مار دیا تھا۔

اُن کا یہ فعل وہاں موجود کیمرہ مین نے عکس بند کر لیا جس کے بعد نیوز چینلز نے ان مناظر کو بار بار نشر کر کے پیپلز پارٹی پر شدید تنقید کا سلسلہ شروع کر دیا تھا۔ اس معاملے کا الیکشن کمیشن نے نوٹس لے کر تمام معاملے کی چھان بین شروع کر دی تھی اور بدھ کو اس بارے میں فیصلہ سنایا گیا۔

تبصرے دکھائیں

XS
SM
MD
LG