رسائی کے لنکس

سویڈن کو تفتیش کے لیے اسانج تک رسائی دینے کا فیصلہ


اسانج گزشتہ ساڑھے تین برسوں سے ایکواڈور کے لندن میں واقع سفارت خانے میں پناہ گزین ہیں

اسانج گزشتہ ساڑھے تین برسوں سے ایکواڈور کے لندن میں واقع سفارت خانے میں پناہ گزین ہیں

بیان میں کہا گیا ہے کہ معاہدے کےنتیجے میں دونوں ملکوں کے تعلقات مضبوط ہوں گے اور جولین اسانج سے تفتیش کے قانونی تقاضے پورے کیے جاسکیں گے۔

ایکواڈور کی حکومت سوئیڈن کے حکام کو لندن میں واقع اپنے سفارت خانے میں گزشتہ ساڑھے تین برسوں سے پناہ گزین وکی لیکس کے بانی جولین اسانج تک رسائی دینے پر رضامند ہوگئی ہے۔

ایکواڈور کی حکومت نے اتوار کو اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ دونوں حکومتوں کے درمیان ایک قانونی معاہدہ طے پاگیا ہے جس کے تحت سوئیڈش حکام سفارت خانے کی حدود میں اسانج سے تفتیش کرسکیں گے۔

مذکورہ معاہدے پر دونوں ملکوں کے درمیان گزشتہ چھ ماہ سے مذاکرات جاری تھے۔

ایکواڈور کی وزارتِ خارجہ کی جانب سے جاری بیان کے مطابق مذکرات کامیاب ہونے پر دونوں ملکوں کے حکام نے ایکواڈورکے دارالحکومت کوئٹو میں معاہدے پر دستخط کردیے ہیں۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ معاہدے کےنتیجے میں دونوں ملکوں کے تعلقات مضبوط ہوں گے اور جولین اسانج سے تفتیش کے قانونی تقاضے پورے کیے جاسکیں گے۔

چوالیس سالہ جولین اسانج پر 2010ء میں ان کے دورۂ سوئیڈن کے دوران دو خواتین نے زیادتی اور جنسی بدسلوکی کا نشانہ بنانے کے الزامات عائد کیے تھے جن کی بنیاد پر سوئیڈن کی حکو مت نے اسانج کے وارنٹ گرفتاری جاری کر رکھے ہیں۔

اسانج جون 2012ء سے لندن میں واقع ایکواڈور کے سفارت خانے میں پناہ گزین ہیں جہاں انہوں نے برطانوی حکام کے ہاتھوں اپنی گرفتاری اور سوئیڈن کو حوالگی سے بچنے کے لیے پناہ لی تھی۔

اسانج کا موقف ہے کہ ان کے خلاف مقدمہ من گھڑت ہے اور سوئیڈش حکومت انہیں امریکہ کی ایما پر انتقامی کارروائی کا نشانہ بنا رہی ہے۔

اسانج کے قائم کردہ ادارے 'وکی لیکس' نے پانچ سال قبل امریکی حکومت کی خفیہ دستاویزات انٹرنیٹ پر جاری کرنے کا سلسلہ شروع کیا تھا جو تاحال وقفے وقفے سے جاری ہے۔

ان دستاویزات کی اشاعت پر امریکہ خاصا برہم ہے اور امریکی حکام کا موقف رہا ہے کہ اس عمل سے امریکی مفادات اور سکیورٹی کو شدید خطرات لاحق ہوئے ہیں اور امریکی شہریوں کی زندگیاں خطرات سے دوچار ہوئی ہیں۔

برطانوی حکومت کا کہنا ہے کہ وہ اسانج کے فرار کو روکنے کے لیے لندن کے پوش علاقے میں واقع ایکواڈور کے سفارت خانے کی پولیس کے ذریعے نگرانی پر ایک کروڑ ڈالر سے زائد رقم خرچ کرچکی ہے جس میں مسلسل اضافہ ہورہا ہے۔

XS
SM
MD
LG