رسائی کے لنکس

ڈکیتی کا واقعہ اتوار 19 اکتوبر کو میٹھادر کراچی کے علاقے میں واقع ایدھی سینٹر کے مرکزی دفتر میں عبدالستار ایدھی کی موجودگی میں پیش آیا۔ اطلاعات کے مطابق، انہیں اسلحہ کے زور پر ایک جگہ بیٹھا دیا گیا تھا

کراچی ۔۔۔ پاکستان بھر میں انسانی خدمت کے حوالے سے عالمی شہرت رکھنے والے سماجی کارکن اور ایدھی ٹرسٹ کے روح رواں عبدالستار ایدھی کے فلاحی سینٹر میں ڈکیتی کے ملزم کی شناخت ہوگئی ہے۔ تاہم، اس کا نام اور شناخت کو خفیہ رکھا جا رہا ہے۔ ملزم کو اس کے سابقہ ریکارڈ، عینی شاہدین اور تصاویر کی مدد سے شناخت کیا گیا۔

پاکستان کے مقامی میڈیا خاص کر انگریزی اخبار ’ایکسپریس ٹری بیون‘ کی رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ ملزم ایدھی سینٹر میں کچھ عرصہ کام کرچکا ہے، جبکہ اس کے کچھ ساتھی بھی ڈکیتی کی اس واردات میں شامل ہیں۔

ڈکیتی کا واقعہ اتوار 19اکتوبر کو میٹھادر کراچی کے علاقے میں واقع ایدھی سینٹر کے مرکزی دفتر میں عبدالستار ایدھی کی موجودگی میں پیش آیا۔ اطلاعات کے مطابق انہیں اسلحہ کے زور پر ایک جگہ بیٹھادیا گیا تھا۔

عبدالستار ایدھی کا کہنا ہے کہ واردات میں نقد رقم اور سونا شامل ہے جو لوگوں نے امانتاً ان کے پاس رکھوایا تھا۔ پولیس کا کہنا ہے کہ اس واقعے کی تیزی سے تفتیش جاری ہے۔ گواہوں کے بیانات ریکارڈ کئے جاچکے ہیں، جبکہ سینٹر کے سابقہ اور موجودہ دو درجن سے زائد خواتین و مرد ملازمین کا موبائل فونز کا ڈیٹا اکھٹا کرلیا گیا ہے۔

روزنامہ جنگ نے پولیس حکام کے حوالے سے بتایا کہ علاقے کی جیوفینسنگ سے 15 موبائل فون نمبرز کا سراغ ملا جن میں سے تین واردات کے وقت مسلسل رابطے میں تھے۔ ملزمان 33منٹ میں واردات مکمل کرکے فرار ہوئے۔

پولیس ریکارڈ سے ملنی والی معلومات کے مطابق، واردات کا مرکزی ملزم گذشتہ 16 سال سے وارداتیں کر رہا ہے اور ڈکیتی کے جرم میں جیل بھی جا چکا ہے۔ گلستان جوہر کے رہائشی اس ملزم کی شناخت ظاہر نہیں کی گئی۔

اطلاعات کے مطابق، پولیس کو اہم ثبوت اور معلومات بھی مل گئی ہیں جن کی بنیاد پر مزید ملزمان کی گرفتاری کے لئے شہر کے مختلف علاقوں میں چھاپے مارے جا رہے ہیں۔

XS
SM
MD
LG