رسائی کے لنکس

اپنی موت سے کچھ عرصہ پہلے انہوں نے ’وائس آف امریکہ‘ کو دیئے گئے ایک خصوصی انٹرویو میں کہا تھا کہ ’’میں نے 70 سے زائد ممالک دیکھے، لیکن پاکستانی جیسی قوم نہیں دیکھی‘‘

پاکستان کے مایہ ناز سماجی کارکن عبدالستار ایدھی کو انسانیت کے ساتھ ساتھ پاکستانی عوام اور پاکستانی قوم سے بھی بہت محبت تھی۔ اپنی موت سے کچھ عرصہ پہلے انہوں نے ’وائس آف امریکہ‘ کو دیئے گئے ایک خصوصی انٹرویو میں کہا تھا کہ ’’میں نے 70 سے زائد ممالک دیکھے۔ لیکن، پاکستانی جیسی قوم نہیں دیکھی۔‘‘

اس انٹرویو میں انہوں نے اپنی کتاب زندگی سے جڑی بہت سی ایسی باتوں اور رازوں سے پردہ اٹھایا تھا جس کے بارے میں بہت کم لوگوں کو پتہ تھا۔ قارئین کی دلچسپی کے لئے اس انٹرویو کے کچھ اقتباسات ایک مرتبہ پھر شائع کئے جارہے ہیں۔

صرف دو جماعت پاس تھے

عبدالستار ایدھی 1928ء کو بھارت کے شہر گجرات میں بانٹوا نامی گائوں میں پیدا ہوئے۔ یہاں زیادہ تر افراد کا تعلق متوسط گھرانے سے تھا اور ذریعہ معاش کاروبار تھا۔ ان کے چار بھائی اور دو بہنیں تھیں۔ لیکن، سب سے چھوٹے بھائی عزیز کے علاوہ سب اللہ کو پیارے ہوگئے۔ والدین کی تربیت کے باعث بچپن سے ہی سماجی کاموں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے تھے۔ لیکن، خاطرخواہ تعلیم حاصل نہ کر سکے۔ کہتے ہیں کہ وہ شرارتوں کے باعث تعلیم حاصل نہ کر سکے۔ چھٹی کے وقت اسکول کے باہر کھڑے ہو جاتے تھے اور دیگر لڑکوں کے ہمراہ لڑائی جھگڑا معمول تھا۔ اسکول کے اساتذہ اکثر ان سے ناراض رہتے تھے اور گھر پر شکایات کا تانتا بندھا رہتا تھا۔ اکثر استاد جو سوالات پوچھتے تھے ان کا جواب نہیں دیتے تھے۔ اساتذہ کی جانب سے ایک خاص حکمت عملی کے تحت انہیں کلاس کا مانیٹر بنا دیا جاتا تھا۔ اسکول میں بالکل دل نہیں لگتا تھا۔ مگر گھر والوں کے دبائو پر اسکول جانا پڑتا تھا اور بالاخر دوسری جماعت کے بعد صبر کا پیمانہ لبیریز ہوگیا اور تعلیم کو خیر باد کہہ دیا۔‘‘

پہلی تنخواہ پانچ روپے ماہانہ

گیارہ سال کی عمر میں انہوں نے ایک کپڑے کے تاجر حاجی عبداللہ کی دکان پر نوکری کی جہاں انہیں پانچ روپے ماہانہ دیئے جاتے تھے۔ بعدازاں، دکان کا مالک دیگر لڑکوں سے زیادہ ان پر اعتماد کرتا تھا۔ اس لئے، انہیں مزید ذمہ داریاں بھی سونپی گئیں اور آمدنی میں بھی اضافہ کیا گیا۔

قائد اعظم سے ملاقات

عبدالستار ایدھی نے انٹرویو میں یہ بھی بتایا تھا کہ ’’قائد اعظم محمد علی جناح ایک مرتبہ بانٹوا کے مسلمانوں سے خطاب کیلئے آئے جہاں ان سے ملاقات کا شرف حاصل ہوا۔ ہم سب نے ان کی تقریر کے دوران فلک شگاف نعرے لگائے اور انہیں پارٹی فنڈز کے لئے جمع کیے گئے 35 ہزار روپے پیش کیے۔ اسی دوران، اندرا گاندھی سے بھی ملاقات ہوئی۔ اس دوران، والد نے کہا کہ ہمیں بہتر مستقبل کیلئے پاکستان چلے جانا چاہیے اور انہوں نے اور بھی برادری کے بہت سے لوگوں کو اس بات پر آمادہ کیا۔ چھ ستمبر 1947 کو میمن برادری کے چار ہزار افراد اُچ جانے کے لئے سوار ہوئے۔ اس دوران پانچ روز تک سوکھی روٹی کھا کر گزارہ کرنا پڑا اور کشتیوں میں بیٹھ کر براستہ بحرہ عرب کراچی کے ساحل پر پہنچے۔ اس وقت ان کی عمر 22 سال تھی۔‘‘

ایک 13 سو روپے کا ٹکڑا...

بقول ایدھی صاحب ’’کچھ عرصہ ملیر میں رہنے کے بعد ان کے والد نے جوڑیا بازار کے ساتھ چھاپہ گلی میں ایک چھوٹا سا گھر کرائے پر لے لیا۔ میٹھادر میں ایک 13 سو روپے کا ٹکڑا لیا جو ابھی ان کی اہلیہ بلقیس ایدھی کے نام پر ہے جبکہ ان کے نام صرف چھاپہ گلی کا ایک مکان ہے جس سے ان کے والدین کا جنازہ اٹھایا گیا تھا۔ بچپن سے ایمبولینس چلانا ان کا شوق تھا، کیونکہ اس سے بہت اچھے کام ہوتے ہیں۔ ‘‘

بھیک مانگنے کی عادت

کراچی میں آنے کے بعد جیب میں ایک پائی بھی نہ تھی اور سب سے پہلا مسئلہ یہ تھا کہ پیسہ کہاں سے لایا جائے۔ لیکن یہ گُر ماں باپ نے مجھے سکھایا تھا کہ روڈ پر کھڑے ہو کر بھیک مانگ لینا۔ یہ عادت آج تک اپنائی ہے اور یہی وجہ ہے کہ یہ ادارہ قائم ہوا اور انشااللہ چلتا رہے گا۔ زیادہ تر امور فیصل ایدھی کے سپرد کر دیئے اور وہ احسن طریقے سے اپنی ذمہ داری نبھا رہے ہیں۔ اس کے علاوہ بیٹی کبریٰ بھی یتیم بچوں اور بے سہارا خواتین کی دیکھ بحال کر رہی ہیں۔

ایدھی فاؤنڈیشن آج تک رجسٹرڈ نہیں

انٹرویو کے دوران ایدھی صاحب نے انکشاف کیا تھا کہ ایدھی فائونڈیشن آج تک رجسٹرڈ نہیں کروایا، کیونکہ وہ سمجھتے ہیں کہ اس کی ضرورت نہیں۔ تاہم، اس حوالے سے حیدر آباد کی ایک عدالت میں دو صفحات پر مشتمل ڈکلریشن کیلئے ایک درخواست جمع کروائی گئی تھی جو گجراتی میں تحریر کی گئی اور اس میں اپنے مقاصد سے آگاہ کیا گیا تھا۔ عدالت نے ڈکلریشن دے دی جس کے بعد انہوں نے ایک پرانی ہملٹن ایمبولینس خرید لی اور25 سال تک اس کے ذریعے انسانیت کی خدمت کرتے رہے۔ ایک چار پائی پر سوتے تھے۔ لیکن، کوئی ڈر اور خوف نہ تھا۔ یہ سب خدمات دیکھ کر لوگوں کی ہمدردی اور دلچسپی مزید بڑھی اور ان کی طرف مائل ہونے لگے۔ ایمبولیس کے ذریعے مریضوں کو گھر سے اسپتال اور اسپتال سے گھر منتقل کرتے تھے۔ ریڈکراس اور سینٹ جون بھی گئے اور ان کے لائیف ممبر بھی بنے۔ اس دوران، ادارے کو پیسے مل بھی رہے تھے اور مستحقین میں ان کی تقسیم بھی جاری تھی۔ قربانی پر لوگ جانوروں کی کھالیں بھی جمع کروا رہے تھے۔35، 35 ہزار کھالیں جمع ہو گئیں۔رمضان المبارک میں فطرہ بھی دیا جا رہا تھا۔ لہذا، انسانیت کی خدمت دن بدن بڑھتی گئی۔‘‘

’اگر میرے پاس ایسے رضاکار ہوتے تو انقلاب برپا کر دیتا‘

ذوالفقار علی بھٹو کے دور حکومت میں کراچی کے علاقے لیاری میں ’بسم اللہ بلڈنگ‘ منہدم ہوئی۔ وہاں ایدھی کے رضا کار امدادی کارروائیوں میں مصروف تھے کہ بھٹو صاحب پہنچ گئے۔ رضاکاروں کو کام کرتا دیکھ کر، انہیں بلایا اور کہنے لگے کہ اگر میرے پاس ایسے رضاکار ہوتے، تو انقلاب برپا کر دیتا۔ بے نظیر بھٹو بھی اکثر بلقیس ایدھی سے ملنے آتی تھیں اور عطیات دیتی تھیں۔

نوبل انعام کی تجویز

نوبل پرائز کیلئے بے نظیر بھٹو کے دور میں نام بھجوایا گیا تھا۔ لیکن، انہیں اس بات سے غرض نہیں کیونکہ ان کے نزدیک یہاں کے عوام کا پیار ہی سب کچھ ہے۔ انہوں نے بتایا کہ کراچی سے پشاور جاتے جاتے جہاز میں 25 سے 30 ہزار روپے جمع ہو جاتے ہیں، جبکہ پشاور میں تو یہ حال ہے کہ میں اگر اپنی بچیوں کے ساتھ کہیں بیٹھ جائوں تو خواتین اپنا سونا اتار کر بھی دینے میں گریز نہیں کرتیں۔

ستر سال سے ایک ہی رنگ کا لباس

عبدالستار ایدھی نے بتایا کہ وہ ستر سال سے ایک ہی رنگ کا لباس زیب تن کرتے رہے ہیں۔’’باچا خان کی بیلچہ تحریک سے بہت متاثر تھے اور باچا خان سے متاثر ہو کر ملایشیا پہنانا شروع کیا۔ انہیں باچا خان ایوارڈ بھی دیا گیا۔‘‘

ایوارڈ یاد نہیں کتنے ملے

مسکان بھرے چہرے سے ’وی او اے‘ کو بتایا کہ ’’یاد نہیں اب تک کتنے ایوارڈ حاصل کیے ہیں اور کس کس نے دیئے۔ البتہ، بیٹی کبریٰ کی الماری بھر چکی ہے۔ بچے، عورتیں، نوجوان سب ’ابو‘ کہہ کر پکارتے ہیں جو اچھا لگتا ہے۔‘‘

ڈاکوؤں کی جانب سےامدادی رقم کے ڈھیر

ایک مرتبہ بلوچستان گئے تو راستے میں ڈاکو آگئے۔ لیکن، جب انہوں نے پہچانا تو فوراً ناصرف معافی مانگ لی، بلکہ امدادی رقم کے بھی ڈھیر لگادیئے اور خود انہیں بحفاظت کوئٹہ پریس کلب پہنچایا۔

ٹرسٹ کا ایک پیسہ ذاتی استعمال میں نہیں لیا

انہوں نے بتایا ’’ایدھی ٹرسٹ کے اخراجات گھر سے بالکل الگ ہیں اور ٹرسٹ کا ایک پیسہ بھی ذاتی طور پر استعمال نہیں کرتا‘‘۔ انہیں چار ایوارڈ ملے جس میں شیخ زید بن سلطان ایوارڈ بھی شامل ہے جس کی مالیت 10 لاکھ روپے ہے۔ تمام ایوارڈ کی مالیت تقریبا 32 کروڑ روپے ہے۔ ذاتی جائیداد میں میٹھا در والا مکان جو شروع میں 1300 روپے کا خریدار گیا تھا وہ بلقیس ایدھی کے نام پر ہے جبکہ چھاپہ گلی والا چھوٹا سا مکان جس سے والدین اور بہن بھائی کا جنازہ اٹھا تھا میرے نام پر ہے۔ گھر کے خرچے کیلئے پہلے دکانیں تھیں وہاں سے بھی کرایہ آتا تھا۔ اگر اخراجات سے کچھ پیسہ پچتا ہے تو وہ بھی ایدھی ٹرسٹ میں ڈال دیا جاتا ہے۔‘‘

دل پھینک

ایدھی صاحب عشق کے معاملے میں دل پھینک ثابت ہوئے ہیں۔ ہنستے ہوئے بتایا کہ زندگی میں جو لڑکی بھی پسند آئی اظہار محبت کرنے میں دیر نہ کی۔ بارہ سے تیرہ لڑکیوں کو شادی کی پیشکش کی جن میں سے چار نے مثبت جواب دیا اور چاروں سے شادیاں کیں۔ دو بلقیس سے پہلے اور ایک بلقیس ایدھی کے بعد۔ بلقیس ایدھی لاوارث بچوں کی دیکھ بحال کرتی تھیں اور وہیں پسند آگئیں۔ انہیں شادی کی پیشکش کی جو انہوں نے قبول کر لی۔

سوکھی روٹی سے ناشتہ

اپنی روز مرہ زندگی سے متعلق بتاتے ہیں کہ روزانہ صبح چار بجے اٹھ جاتے ہیں، تلاوت اور ترجمہ سنتے ہیں اور پھر ناشتہ کرتے ہیں۔ ناشتے میں سوکھی روٹی دودھ کے ساتھ کھاتے ہیں جس کے بعد دوائی لیتے ہیں۔35 سال سے ذیابیطس کے مرض میں مبتلا ہیں۔ مگر آج تک اس کا ایلوپیتھک علاج نہیں کرایا۔ آج تک ایک بھی فلم نہیں دیکھی۔ میوزک سے دلچسپی محدود ہے۔ محمد رفیع اور نورجہاں پسندیدہ سنگرز ہیں۔ سب سے پسندیدہ گانا محمد رفیع کا گایا ہوا ’’اس دل کے ٹکڑے ہزار ہوئے، کوئی یہاں گرا کوئی وہاں گرا‘‘ سنا کرتے تھے۔

XS
SM
MD
LG