رسائی کے لنکس

کراچی: ایدھی کی آنکھوں نے دو 'نابیناؤں' کی دنیا روشن کر دی


فائل

فائل

"ایدھی صاحب نے پوری زندگی تو خدمت خلق کے لئے صرف کی مگر وفات کےبعد بھی دوسروں کو یہ سوچ دی ہے کہ وہ اپنے اعضاء کے ذریعے دوسروں کی زندگی کو بیتر بنا سکتے ہیں"، یہ بات ماہر امراض چشم، ڈاکٹر ادریس نے وی او اے سے گفتگو کرتے ہوئے کہی

کراچی: اپنی پوری زندگی انسانیت کے لئے وقف کرنے والے معروف سماجی رہنما، عبدالستار ایدھی نے مرنے کے بعد بھی اپنے کارِ خیر کے جذبے کو جاری رکھا: اس بار اپنی آنکھوں کا عطیہ دے کر۔

ہفتے کے روز ایدھی کی عطیہ کردہ آنکھیں بینائی سے محروم دو افراد کو آپریشن کے ذریعے لگا دی گئیں۔ یہ آپریشن سندھ انسٹیوٹ آف یورولوجی اینڈ ٹرانسپلانٹیشن (ایس آئی یو ٹی) کے ماہر ڈاکٹروں پر مشتمل ایک ٹیم نے انجام دیا۔ پوری دنیا کو خدمت خلق کا درس دینے والے عبدالستار ایدھی نے بعد از مرگ اعضاء کو عطیہ کرنے کے جذبے کو پروان چڑھایا۔

عبدالستار ایدھی کی آنکھوں نے بینائی سے محروم دو افراد کی اندھیری زندگی کو روشن کر دیا ہے۔ دو نابیناؤں کو آنکھوں کی بصارت حاصل ہوگئی ہے۔

ترجمان ’ایس آئی یو ٹی‘، لیاقت خان نے ’وائس آف امریکہ‘ کی نمائندہ کو بتایا کہ "ایدھی خاندان نے ان کی وصیت کے مطابق ان کی وفات کےبعد اس خواہش کو پورا کیا۔

اُنھوں نے کہا کہ "ہم ایدھی صاحب کے اس جذبے کی قدر کرتے ہیں جنھوں نے مرنے کے بعد دنیا کو اعضا عطیہ کرنے کا پیغام دیا۔ ہم امید کرتے ہیں کہ ایدھی صاحب کے اس جذبے کو فروغ ملےگا۔‘‘

انھوں نے مزید بتایا کہ "ایدھی صاحب ایس آئی یو ٹی میں شامل ان 2000 عطیہ دہندگان کی فہرست میں شامل تھے جو بعد از مرگ اپنے اعضاء عطیہ کرنے کے خواہشمند تھے"۔

تفصیلات کے مطابق دو مختلف مریضوں کو آج عبدالستار ایدھی کی آنکھوں کے دونوں قرنئے لگادئے گئے ہیں، جن میں سے ایک خاتون اور مرد ہیں۔

پاکستان میں شعبہ چشم کے ماہر ڈاکٹر اور پاکستان آپتھومولوجی سوسائٹی کے صدر، ادریس ایدھی نے ’وائس آف امریکہ‘ کی نمائندہ سے گفتگو میں کہا کہ "ایدھی صاحب نے پاکستان ہی نہیں پوری دنیا کو ایک بہت بڑا پیغام دیا ہے کہ وہ بعد از مرگ اعضاء عطیہ کریں۔ یہی نہیں بلکہ تمام مسلمان برادری کے لئے بھی یہ ایک پیغام ہے کہ جس نے پوری زندگی تو خدمت خلق کے لئے صرف کی، مگر وفات کے بعد بھی یہ پیغام دیا کہ وہ اپنے اعضا کے عطیے کے ذریعے دوسروں کی زندگی کو بہتر بناسکتے ہیں"۔

اُنھوں نے مزید بتایا کہ"پاکستان میں بہت شدید ضرورت ہے کہ لوگ بعد از مرگ قرنیہ عطیہ کریں تاکہ ہزاروں بصارت سے محروم افراد بھی بینائی کے قابل بن سکیں‘‘۔

وصیت کے مطابق، وفات کے بعد جب ایدھی صاحب کا جسد خاکی اسپتال سے سردخانے منتقل ہوا تو اس وقت ڈاکٹروں نے ان کی آنکھوں کا آپریشن کیا اور ان کی آنکھوں کے قرنیوں کو صحیح سلامت بطور امانت اپنے پاس محفوظ کرلیا۔

پچھلے کئی برسوں سے، گردے کے مرض کے باعث، ایدھی صاحب کراچی میں گردے کے سب سے بڑے نجی اسپتال، ایس آئی یو ٹی کے زیر علاج تھے۔ چند روز قبل، انھیں معمول کے ’ڈائیلیسز‘ کے لئے اسپتال داخل کیا گیا تھا جہاں ان کی حالت بگڑنے کے بعد وہ دار فانی کوچ کر گئے۔

XS
SM
MD
LG