رسائی کے لنکس

'کشمیر کا حل ضروری، لیکن تعلیم کو سیاست کی نذر نہ کیا جائے'


پچھلے پانچ ماہ کے دوران بھارتی زیر انتظام کشمیر میں مبینہ طور پر ’نامعلوم افراد‘ کی جانب سے 28سکولوں کو آگ لگائی گئی۔ ہنگامی صورتحال کے باوجود سالانہ امتحانات میں حکام کے مطابق 95 فیصد طلباء نے شرکت کی۔

زبیر ڈار

بھارتی زیر انتظام کشمیرمیں پچھلے پانچ ماہ سےجاری ہنگامی صورتحال کی وجہ سے جہاں تمام معمولات زندگی درہم برہم ہوئے ، وہاں بار بار لگنے والے کرفیو اور سکولوں کی بندش سے تعلیمی شعبہ بری طرح متاثر ہوا ہے۔

کشمیر کے محکمہ تعلیم کے حکام کا کہنا ہے کہ پچھلے پانچ ماہ کے دوران مبینہ طور پر ’نامعلوم افراد‘ کی جانب وادی کے28 سکول جلا ئے جا چکے ہیں۔ 12 سکول مکمل طور پر جبکہ 16 سکولوں کو جزوی طور پر جلایا گیا ہے ۔ بھارتی میڈیا کے مطابق جلنے والے سکولوں میں کم سے کم 20 سرکاری اور 2 پرائیویٹ سکول شامل ہیں۔ سکول جلنے کے واقعات کی وجہ سے 4 ہزار طلباء متاثر ہوئے ہیں، جبکہ املاک کو پہنچنے والے نقصان کا تخمینہ کم از کم 75 ہزار ڈالر لگایا جا رہا ہے ۔

ریاستی حکومت نے کشمیر کی ہنگامی صورتحال کے باوجود مظاہروں کا سلسلہ روکنے کے لئے وادی کے سکولوں میں نومبر میں معمول کے مطابق سالانہ امتحانات منعقد کروانے کا اعلان کیا تھا ، جس میں محکمہ تعلیم کے ریاستی حکام کے مطابق 95 فیصد طلباء نے شرکت کی ہے۔

طلباء اور طالبات نے امتحانات کے انعقاد پر خوشی کا اظہار کیا۔

ایک طالب علم نے اردو وی او اے سے بات کرتے ہوئے کہا کہ پچھلے پانچ مہینوں میں ان کی تعلیم کا بہت حرج ہوا ہے۔ طلباء اپنے مستقبل کے بارے میں فکر مند ہیں ۔اور امید کرتے ہیں کہ صورتحال جلد بہتر ہو جائے گی۔

محکمہ تعلیم کے ترجمان وحید الرحمان پارہ کا کہنا تھا کہ امتحانات کو سیاست کی نظر نہیں ہونا چاہئے ۔

ان کے بقول، ’’ہم اپنے بچوں کا مستقبل محفوظ بنانے پر یقین رکھتے ہیں۔ امتحانات کا انعقاد ضروری تھا ۔ ہم نے دیکھا کہ 95 فی صد طلباء نے امتحان میں شرکت کی ۔ اور اس خواہش کا اظہار کیا کہ سکول کھلنے چاہئیں ۔ ہم اس سے انکار نہیں کرتے کہ کشمیر کا مسئلہ حل کرنے کی ضرورت ہے ، لیکن ہم طویل عرصے تک اپنے بچوں کو متاثر ہونے نہیں دے سکتے‘‘۔

بھارتی اخبارات کی بعض رپورٹس کے مطابق سکول جلانے کے واقعات میں تیزی امتحانات کے انعقاد سے متعلق ریاستی حکومت کے اعلان کے بعد ہی دیکھنے میں آئی ہے۔ سکولوں کو آگ لگانے کے واقعات میں کون سے عناصر ملوث ہیں، اب تک واضح نہیں ہوا ، لیکن حکام کے مطابق تفتیش جاری ہے ۔

رواں سال جولائی میں کشمیری جنگجو برہان وانی کی ہلاکت کے بعد بھارتی زیر انتظام کشمیر میں شروع ہونے والے مظاہروں کے بعد حالات اب تک معمول پر نہیں آئے ہیں ۔ مظاہرین اور سکیورٹی فورسز میں آئے روز ہونے والی جھڑپوں میں کم از کم چھیانوے افراد اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں، جن میں زیادہ تعداد طلباء کی ہے۔

مسئلہ کشمیر کب حل ہوگا ، شائد کوئی نہیں بتا سکتا ۔ لیکن بھارتی زیر انتطام کشمیر میں بھارت سے آزادی کے خواہش مند عناصر کو قابو میں رکھنے کے لئے 8 لاکھ بھارتی فوجی تعینات ہیں۔

تبصرے دکھائیں

XS
SM
MD
LG