رسائی کے لنکس

مدارس میں اصلاحات سے متعلق ایک اور اجلاس

  • عشرت سلیم

دارالعلوم حقانیہ اکوڑہ خٹک

دارالعلوم حقانیہ اکوڑہ خٹک

حکومت مدارس کے اندراج اور ان کی آمدن اور سرگرمیوں کی نگرانی پر مذہبی رہنماؤں اور مدارس کی تنظیموں سے کئی ملاقاتیں کر چکی ہے، مگر اسے اصلاحات کے اس میں مزاحمت کا سامنا ہے۔

پاکستان کے وزیر مملکت برائے تعلیم و داخلہ امور محمد بلیغ الرحمٰن نے جمعرات کو اسلام آباد میں مفتی منیب الرحمٰن اور اتحاد تنظیم وفاق المدارس کے دیگر عہدیداروں سے ملاقات کی جس میں انسداد دہشت گردی کے قومی لائحہ عمل کے تحت مدارس میں اصلاحات پر بات چیت کی گئی۔

ملاقات میں مدرسوں کے تعلیمی بورڈز سے الحاق، نصاب، امتحانی نظام، اساتذہ کی قابلیت اور مدرسوں کی نگرانی کے معاملات زیر غور آئے۔

اس بات پر قومی اتفاق رائے پایا جاتا ہے کہ مدرسوں کے طلبا کو مذہبی تعلیم کے ساتھ ساتھ عمومی تعلیم بھی دی جانی چاہیئے تا کہ تعلیم مکمل کرنے کے بعد وہ ملازمتوں کے حصول کے قابل ہوں۔

حکومت کا مؤقف رہا ہے کہ بعض مدرسے انتہا پسندی کے فروغ اور دہشت گردی میں ملوث ہیں اور ان کے خلاف کارروائی ضروری ہے۔

سابق سیکرٹری داخلہ تسنیم نورانی نے وائس آف امریکہ سے گفتگو میں کہا کہ قومی لائحہ عمل میں بنیادی نکات کی نشاندہی کی گئی ہے جن میں مدارس کے اندراج اور ان میں اصلاحات کا نقطہ بھی شامل ہے مگر حکومت کی طرف سے اس پر خاطر خواہ پیش رفت نہیں کی جا سکی۔

ان کا کہنا تھا کہ ملک بھر میں ہزاروں مدرسے موجود ہیں اور ان کے اندراج اور نگرانی کا کوئی یکساں نظام موجود نہیں۔ اس کے علاوہ مدرسوں کے نصاب اور تعلیمی نظام میں اصلاحات کا عمل خاصا محنت طلب کام ہے جس کے لیے اب تک کوئی واضح حکمت عملی وضع نہیں کی گئی۔

’’حکومت اس پر کوئی جارحانہ اقدام اس لیے نہیں کر رہی کیونکہ کچھ لوگ خفا ہو سکتے ہیں۔ اس پر جب تک پوری توجہ، اہداف مقرر کر کے بلاخوف کام نہیں ہو گا اس پر کوئی خاطر خواہ نتیجہ نہیں نکلے گا۔‘‘

ایک سرکاری بیان کے مطابق حکومت اور مدارس کے نمائندوں کے درمیان جمعرات کو ہونے والے اجلاس میں دو کمیٹیاں تشکیل دینے پر اتفاق ہوا، جو مدرسوں میں اصلاحات پر اپنی سفارشات مرتب کریں گی اور ان کے جلد سے جلد نفاذ کا لائحہ عمل تجویز کریں گی۔

حکومت مدارس کے اندراج اور ان کی آمدن اور سرگرمیوں کی نگرانی پر مذہبی رہنماؤں اور مدارس کی تنظیموں سے کئی ملاقاتیں کر چکی ہے، مگر اسے اصلاحات کے اس عمل میں مزاحمت کا سامنا ہے۔

اگرچہ کچھ مدارس کے خلاف کارروائی کی گئی ہے مگر ناصرف مذہبی سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں نے ان کارروائیوں پر تحفظات کا اظہار کیا ہے بلکہ بدھ کو وفاق المدارس العربيہ پاکستان نے مدرسوں کی ناموس اور آزادی کے تحفظ کے لیے مہم کا اعلان کیا ہے۔

بدھ کو وزارت داخلہ نے ایک تحریری بیان میں قومی اسمبلی کو بتایا کہ حکومت نے اب تک 102 مدرسوں کو دہشت گردی اور انتہا پسندی پھیلانے میں ملوث ہونے پر بند کیا ہے۔

حکومت کی طرف سے بار ہا یہ کہا جاتا رہا ہے کہ وہ انسداد دہشت گردی کے قومی لائحہ عمل پر عمل درآمد کو یقینی بنائے گی لیکن عہدیدار اس بارے میں دبے لفظوں میں مشکلات کا اظہار بھی کر چکے ہیں۔

XS
SM
MD
LG