رسائی کے لنکس

’پاکستان اور امریکہ خلوص نیت سے مذاکرات کے لیے تیار‘

  • یاسر منصوری

’پاکستان اور امریکہ خلوص نیت سے مذاکرات کے لیے تیار‘

’پاکستان اور امریکہ خلوص نیت سے مذاکرات کے لیے تیار‘

2011ء کو پاک امریکہ تعلقات کے تناظر میں ایک مشکل سال تسلیم کرتے ہوئے رچرڈ ہوگلنڈ نے کہا کہ اُن کے خیال میں غیر موافق صورت حال کے باوجود امریکہ اور پاکستان کے غالباً 75 فیصد تعلقات معمول کے مطابق قائم رہے۔ عوامی رابطوں سے متعلق مشترکہ منصوبوں کو سفارت کاری کا اہم جُز قرار دیتے ہوئے اُنھوں نے کہا کہ ان کی عدم موجودگی میں اچھے اور مضبوط تعلقات برقرار رکھنا کہیں زیادہ کٹھن ہوتا۔

پاکستان میں امریکی سفارت خانے کے ڈپٹی چیف آف مِشن نے کہا ہے کہ اسٹریٹیجک سطح پر حالیہ مشکلات کے بعد دونوں ملک ’’خلوص نیت‘‘ سے مذاکرات کر کے مستقبل کا لائحہ عمل وضع کرنے کے لیے تیار ہیں۔

رچرڈ ہوگلنڈ (Richard E. Hoagland) نے وائس آف امریکہ سے گفتگو میں کہا پاکستانی پارلیمان میں دوطرفہ روابط کے خد و خال کا از سرِ نو جائزہ لینے کا عمل تکمیل کے آخری مراحل میں ہے۔

’’میں سمجھتا ہوں جوں ہی پارلیمان کا مشترکہ اجلاس ختم ہو گا پاکستانی قیادت ہماری (امریکی) قیادت سے کہے گی کہ (اب) ہم تیار ہیں، آئیں بیٹھ کر گفت و شنید کے ذریعے یہ طے کریں کہ ہم نے آئندہ کیا کرنا ہے۔‘‘

رچرڈ ہوگلینڈ

رچرڈ ہوگلینڈ

2011ء کو پاک امریکہ تعلقات کے تناظر میں ایک مشکل سال تسلیم کرتے ہوئے رچرڈ ہوگلنڈ نے کہا کہ اُن کے خیال میں غیر موافق صورت حال کے باوجود امریکہ اور پاکستان کے غالباً 75 فیصد تعلقات معمول کے مطابق قائم رہے۔

عوامی رابطوں سے متعلق مشترکہ منصوبوں کو سفارت کاری کا اہم جُز قرار دیتے ہوئے اُنھوں نے کہا کہ ان کی عدم موجودگی میں اچھے اور مضبوط تعلقات برقرار رکھنا کہیں زیادہ کٹھن ہوتا۔

’’یہ یقیناً کوئی راز کی بات نہیں کہ گزشتہ 60 سالوں میں پاک امریکہ تعلقات میں اُتار چڑھاؤ آتا رہا ہے، ہم نے اچھے وقت بھی دیکھے ہیں اور بُرے بھی، لیکن مشکل کی گھڑی میں ایسے منصوبوں کے تسلسل نے دونوں ملکوں کے لوگوں کو ایک دوسرے کو گہرائی سے سمجھنے کا موقع فراہم کیا۔‘‘

امریکہ جن شعبوں میں پاکستان کی معاونت کر رہا ہے اُن میں تعلیم کو خاص اہمیت حاصل ہے، اور امریکی ادارہ ’یو ایس ایجوکیشنل فاؤنڈیشن اِن پاکستان‘ (یو ایس ای ایف پی) اپنے انتہائی مقبول پروگرام ’فُل برائٹ‘ کے تحت ہر سال بیسیوں طلبا و طالبات کو امریکی یونیورسٹیوں میں اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے کے مواقع فراہم کر رہا ہے۔

یو ایس ای ایف پی سے منسلک عہدے داروں کے مطابق رواں سال 200 سے زائد پاکستانی امریکہ جائیں گے جب کہ 2013ء میں اس پروگرام سے استفادہ کرنے کے خواہش مند افراد سے درخواستیں وصول کرنے کا سلسلہ بھی شروع کر دیا گیا ہے۔

فُل برائٹ پروگرام 2013ء کے باقاعدہ افتتاح سے متعلق تقریب میں شرکت کے بعد اس کے مہمان خصوصی رچرڈ ہوگلنڈ نے وائس آف امریکہ سے گفتگو میں کہا کہ ایسے منصوبے جن کے تحت پاکستانی امریکہ جب کہ امریکی پاکستان میں آ کر رہتے ہیں دونوں عوام کو ایک دوسرے کی تہذیب و ثقافت، روایات، مذہبی اقدار اور دیگر خصوصیات سے آگاہی کا موقع فراہم کرتے ہیں۔

’’جب آپ کو لوگوں کے بارے میں گہری آگاہی ہو تو طویل المدتی بنیاد پر اُن کے ساتھ چلنے کے امکانات بڑھ جاتے ہیں۔‘‘

یو ایس ای ایف پی کی ایگزیکٹیو ڈائریکٹر ریٹا اختر نے اعلیٰ امریکی سفارت کار کے موقف کی تائید کرتے ہوئے کہا کہ طالب علموں کے تبادلے کا فُل برائٹ پروگرام دونوں ملکوں کی عوام میں ایک دوسرے سے متعلق غلط فہمیوں کو دور کرنے میں انتہائی مددگار ثابت ہو رہا ہے۔

ریٹا اختر

ریٹا اختر

’’ہم ایسے افراد کو چنتے ہیں جو (امریکہ جا کر وہاں) پاکستان کی مثبت تصویر پیش کریں اور اچھے سفیر ثابت ہوں۔ میں سمجھتی ہوں کہ یہ لوگ وہاں جا کر پاکستان کے دوستوں میں اضافہ کر رہے ہیں جو انتہائی ضروری ہے۔‘‘

1980ء کی دہائی میں فُل برائٹ کے تحت خود پاکستان میں تعلیم حاصل کرنے والی ریٹا اختر کا کہنا ہے کہ اُن کی اس ملک سے دوستی پکی ہے۔ اُنھوں نے بتایا کہ فُل برائٹ پروگرام سے منسلک افراد کو اس بات کا ادراک ہے کہ اس منصوبے سے پاک امریکہ تعلقات میں کیا تبدیلی آ رہی ہے۔

ریٹا اختر کا کہنا تھا کہ اُن کا ادارہ خواتین اور معذور افراد کے علاوہ پاکستان کے دور افتادہ علاقوں جیسے کہ قبائلی علاقہ جات، بلوچستان اور گلگت بلتستان سے تعلق رکھنے والے افراد کی خصوصاً حوصلہ افزائی کرتا ہے کہ وہ اس کے تعلیمی منصوبوں سے استفادہ کریں۔

اُنھوں نے بتایا کہ یو ایس ای ایف پی کو اپنے منصوبوں کے لیے رقوم کی فراہمی بین الاقوامی ترقی سے متعلق امریکی ادارے ’یو ایس ایڈ‘ سے ہوتی ہے اور موجودہ معاشی حالات میں فنڈز کی دستیابی یقینی بنانا قدرِ مشکل ہے۔

’’مگر وہ (یو ایس ایڈ) اور ہم بھی سمجھتے ہیں کہ یہ بہت اچھا ترقیاتی منصوبہ ہے اور ہمیں پوری امید ہے کہ یہ اس ہی سطح پر جاری رہے گا۔‘‘

XS
SM
MD
LG