رسائی کے لنکس

امریکی تعلیمی نظام میں اصلاحات کتنی کامیاب

  • آمنہ خان

امریکی تعلیمی نظام میں اصلاحات کتنی کامیاب

امریکی تعلیمی نظام میں اصلاحات کتنی کامیاب

طالب علموں کی قابلیت جانچنے کا پیمانہ تو ہیں امتحانات مگر کیا امتحانوں کے نتائج سامنے رکھ کر کامیاب اور ناکام اساتذہ میں بھی تفریق کی جاسکتی ہے؟ اور کیا اسی بنیا د پر تعلیمی اداروں کو اچھے اور برے میں تقسیم کیا جا سکتا ہے؟ اس تناظرمیں امریکہ کے تعلیمی نظام میں اصلاحات متعارف کرائی گئی ہیں۔

امریکہ کے سرکاری سکولوں کی اصلاح کے لئے صدر بش کےدور میں متعارف کرائے گئے ایک قانون’ کسی بچے کو پیچھے نہیں چھوڑا جاسکتا‘ کا بنیادی مقصد یہ تھا کہ اگر سرکاری فنڈز حاصل کرنے والے کسی سکول کے طلبہ کی کارکردگی اچھی نہ ہو، تو طلبہ کی کارکردگی بہتر بنانا اسکول کی ذمہ داری ہو گی ورنہ ان کو فراہم کی جانے والی سرکاری رقوم روک لی جائیں گی ۔ لیکن واشنگٹن کے تھنک ٹینک ہیرٹیج فاؤنڈیشن کی لنڈسی برک کے مطابق یہ قانون امریکہ کے شعبہ تعلیم کی اصلاح میں ناکام ثابت ہوا ہے ۔

ان کا کہناہے کہ یہ قانون امریکہ کی دونوں سیاسی جماعتوں میں زیادہ مقبول نہیں ہے۔ اس میں بہت سختیاں ہیں، اور طلبہ کی کارکردگی میں بہتری کا بھی کوئی خاص ثبوت نہیں۔

اس قانون کے تحت سکولوں کو سرکاری رقوم کی فراہمی کے لئے طلبہ کی کارکردگی کو بنیاد بنایا گیا تھا۔ لیکن بعض امریکی ریاستوں میں یہ الزام سامنے آیا کہ وہاں طلبہ کو جان بوجھ کر رعایتی نمبروں سے پاس کیا جا رہا تھا یا اس قانون کو کسی اور طرح استعمال کیا جا رہا تھا ۔ بروکنگز انسٹی ٹیوشن کے گروروائٹ ہرسٹ کہتے ہیں کہ امریکہ کےا سکولوں میں بھی طلبہ کا ہر سال کے شروع اور آخر میں امتحان لیا جائے۔ تو اساتذہ اور سکولوں کی کارکردگی کا جائزہ امتحانوں کے نتائج کے ذریعے لیا جا سکتاہے ۔

بروکنگز انسٹی ٹیوشن کے اسکالر گرور وائٹ ہرسٹ کا کہناہے کہ جب طلبہ کسی ٹیچر کی کلاس میں داخل ہوتے ہیں تو آپ کے پاس ان کے امتحانوں کے نتائج موجود ہوتے ہیں۔ ان کا اُس دوسرے امتحان کے نتائج سے موازنہ کیا جاسکتا ہے جو طلبہ سال کے آخر میں دیتے ہیں۔ اعداد و شمار کے درست موازنے سے اساتذہ کی کارکردگی کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ ان امتحانوں میں ایک ہی طرح کے امتحانات کی مدد سے نہ صرف امریکہ بھر میں مختلف سکولوں کی کارکردگی کا موازنہ کیا جا سکتا ہے۔ بلکہ دوسرے ملکوں کے نظام تعلیم کی نسبت امریکی نظام تعلیم کو پرکھا بھی جا سکتا ہے۔

لیکن قابل اساتذہ کی نشاندہی کے بعد اگلا قدم کیا ہو؟ ہیرٹیج فاؤيڈیشن کی لنڈسی برک کہتی ہیں کہ اچھی کارکردگی پر اساتذہ کی حوصلہ افزائی کے لئے انعام دیا جانا چاہیے۔

ان کا کہناہے کہ میرا خیال ہے کہ اگر ہم کارکردگی کی بنیاد پر ایسی ترغیبات اپنائیں جن سے اساتذہ کو طلبہ کی کارکردگی میں بہتری لانے پر انعام دیا جائے تو نہ صرف طلبہ کی کارکردگی بہتر نہیں ہو گی، بلکہ دوسرے پیشوں سے بھی لوگ شعبہ تعلیم کا رخ کریں گے، اور اساتذہ کا میعار بھی بہترہوگا۔

برک کہتی ہیں کہ امریکی ریاست فلوریڈا میں امتحانوں میں کارکردگی کے لیے اعلی میعار قائم کرنے سے طلبہ کو بہت فائدہ ہو اہے۔

وہ کہتی ہیں کہ فلوریڈا میں طلبہ کی کارکردگی کوایف سی اے ٹی نامی ایک امتحان کے ذریعے جانچا جاتا ہے۔ طلبہ کی کارکردگی کی بنیاد پر ان کے سکولوں کو اےسے ایف تک ایک گریڈ دیا جاتا ہے۔ اگر چار سال کے عرصے میں کوئی سکول دو مرتبہ فیل ہو، تو اس کے طلبہ کو اپنی مرضی کا کوئی دوسرا سکول چننے کی اجازت ہوتی ہے۔

لیکن بعض مبصرین کے مطابق کچھ علاقوں میں برے سکولوں کی تعداد اتنی زیادہ ہے کہ طلبہ کو بہتر سکول کا انتخاب میسر ہی نہیں۔ واشنگٹن کے تھنک ٹینک کیٹو انسٹی ٹیوٹ کے نیل میک کلوسکی کا کہنا ہے کہ ریاست فلوریڈا میں کچھ جماعتوں میں بہتری کے آثار نمایاں ہیں لیکن مزید تحقیق کے بغیر اس ریاست میں شعبہ تعلیم کی اصلاح کے اقدامات کے بارے میں کچھ کہنا مشکل ہے۔

تحقیق اور اعداد و شمار سے یہ ثابت ہوا ہے کہ طلبہ اور ان کے والدین کو سکولوں کے انتخاب کا اختیار دینے سے نہ صرف طلبہ کی کارکردگی بہترہوئی ہے، بلکہ بہت سے پرائیویٹ سکولوں کے قریب واقع سرکاری سکولوں کی کارکردگی میں بھی بہتری آئی ہے۔ اسکولوں کے آپس میں مقابلے کی وجہ سے ان کا میعار بہتر ہو جاتا ہے۔

ان کا کہنا ہے کہا سکولوں کو ان کی کارکردگی کی بنیاد پر سرکاری رقوم دینے کے بجائے اگر والدین کو اپنے بچوں کا سکول منتخب کرنے کا اختیار دیا جائے۔ اور انہیں تعلیم کا خرچ پورا کرنے کے لیے ٹیکس میں سالانہ چھوٹ دی جائے تو اسکولوں کو ذہین طلبہ حاصل کرنے کے لیے خود ہی اپنا میعار بہتر کرنا پڑے گا۔

XS
SM
MD
LG