رسائی کے لنکس

تعلیمی اداروں کو دھمکیاں، کالج اور کوچنگ سینٹر بھی شامل


ایک بچے کے والد کا کہنا ہے ’12جنوری سے 5 فروری تک 25 دن کی درمیانی مدت میں صرف سات یا آٹھ دن ہی وہ اپنے بچے کو اسکول بھیج سکے ہیں۔ ہفتہ اور اتوار کی چھٹیوں کے علاوہ دو دن شہر میں ہڑتال اور جمعرات کو عام تعطیل بھی رہی، جبکہ باقی دن وہ احتیاط کی غرض سے بچے کی چھٹیاں کراتے رہے'

کراچی کے تعلیمی اداروں میں موسم سرما کی 11جنوری کو ختم ہونے والی تعطیلات سے اب تک خوف کی فضاء برقرار ہے، جبکہ گلشن اقبال بلاک سات میں واقع اسکول پر ہونے والے دستی بم حملے نے اس فضاء کو مزید خوفناک بنادیا ہے۔

بیشتر لوگوں نے احتیاط کی غرض سے بچوں کو چھٹیاں کرانا شروع کردی ہیں جس سے تعلیم کو ناقابل تلافی نقصان پہنچ رہا ہے۔ دوسری جانب، اسکولوں کے ساتھ ساتھ اب کالجز بھی لپیٹ میں آگئے ہیں۔

گلشن اقبال بلاک سیون کے ہی ایک اسکول میں پڑھنے والے بچے خضر کے والد محسن شاہ نے وائس آف امریکہ کو بتایا کہ’12جنوری سے 5 فروری تک 25 دن کی درمیانی مدت میں صرف سات یا آٹھ دن ہی وہ بچے کو اسکول بھیج سکے ہیں۔ ہفتہ اور اتوار کی چھٹیوں کے علاوہ دو دن شہر میں ہڑتال اور جمعرات کو عام تعطیل بھی رہی جبکہ باقی دن وہ احتیاط کی غرض سے بچے کی چھٹیاں کراتے رہے۔ اس طرح کب تک چلے گا یہ سمجھ نہیں آتا۔ بچوں کی پڑھائی کا حرج ہورہا ہے اور اس کے کتنے برے نتائج نکلیں گے اس کا انداز لگانا مشکل نہیں۔۔لیکن بس مجبوری میں کڑوا سچ گلے سے اتارنا پڑ رہا ہے۔‘

اسکولوں کے بعد کالجز اور کوچنگ سنیٹرز بھی نشانے پر
اسکولوں کے بعد اب کالجز اور کوچنگ سنیٹرز کو بھی دھمکی آمیز خطوط ملنے لگے ہیں۔ اس کی تازہ ترین مثال نارتھ ناظم آباد میں واقع عبداللہ گرلز کالج ہے جہاں نامعلوم افراد ایک وارننگ لیٹر چھوڑ کر فرار ہوگئے۔ کالج کے پرنسپل تنویر خالد کے مطابق خط میں لکھا ہے کہ ’کفن تیار رکھو‘۔

اس سے قبل سچل تھانے کی حدود میں واقع کچھ اور تعلیمی اداروں کو بھی اسی نوعیت کے دھمکی آمیز خط موصول ہوئے جس کے بعد ٹیچر، اسکول کا عملہ، طالب علم اور والدین میں خوف و ہراس پھیل گیا۔ مجبوراً عارضی طور پر ان اداروں کو بند کرنا پڑا۔

ایس ایچ او شعیب احمد شیخ کے مطابق، موصول ہونے والا دھمکی آمیز خط سندھی اور انگریزی زبان میں تحریرتھا۔ ان کا کہنا ہے کہ خط موصول ہونے کے بعد ناصرف تعلیمی اداروں کا سیکورٹی پلان نئے طریقے سے ترتیب دے دیا گیا، بلکہ ان اداروں پر تعینات پولیس نفری بھی بڑھا دی گئی ہے۔

ادھر آئی جی سندھ غلام حیدر جمالی نے بھی والدین کو یقین دلایا ہے کہ ’اسکولوں کی سیکورٹی ہماری اولین ترجیح ہے۔ تمام تعلیمی اداروں کو 24 گھنٹے سیکورٹی فراہم کریں گے۔‘

کوچنگ سینٹر کو دھمکی دینے والے طالب علم گرفتار
پولیس نے گلستان جوہر میں جمعرات کو دو ایسے طالب علموں کو بھی گرفتار کرنے کا دعویٰ کیا جن کے بارے میں بتایا جارہا ہے کہ انہوں نے کوچنگ سینٹرز کو دھمکی آمیز خطوط لکھے تھے۔ ان طالب علموں کے ساتھ ساتھ ایک اور ملزم بھی اس کام میں ملوث ہونے کی بناء پر حراست میں لیا گیا ہے۔ تاہم ملزمان کا کہنا ہے کہ وہ تفریح کی غرض سے ایسا کررہے تھے۔

ایس ایس پی ایسٹ پیر محمد شاہ کا کہنا ہے کہ یہ تینوں افراد کوچنگ اسٹاف کو مختلف طریقوں سے ہراساں بھی کرتے رہے ہیں۔ پولیس نے ملزمان سے اسلحہ برآمد کرنے کا بھی دعویٰ کیا ہے۔

XS
SM
MD
LG