رسائی کے لنکس

پاکستان کے موجودہ حالات کے تناظر میں ننھے بچوں کی نفسیات کو سمجھنا بہت ضروری ہے ۔۔۔ ایسا کہنا ہے وردہ کاظمی کا جو جدہ کے ایک معروف سکول سے بطور ماہر ِ تعلیم منسلک ہیں اور اگلے چند برسوں میں پاکستان جا کر اپنا سکول قائم کرنے کا ارادہ رکھتی ہیں۔

’’بدلتے وقت نے بچوں کی تعلیم کا انداز دنیا بھر میں بدل ڈالا ہے اور اب ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم پاکستان میں بھی چھوٹی عمر سے ہی بچوں کی تعلیم کا انداز بدلیں‘‘ ۔۔۔ پاکستان کی نوجوان نسل سے ایسی باتیں سن کر محسوس ہوتا ہے کہ میرے اور آپ کے اُس پاکستان کے حالات ابھی اتنے بھی برے نہیں ہوئے جہاں پچھلے چند سالوں میں جمہوریت بہترین ’انتقام‘ ٹھہری ہے ۔۔۔ پاکستانی نوجوان پر امید ہیں اور اپنے ملک کے نظام میں تبدیلی لانے کے خواہاں بھی۔ اور اس سمت میں پہلا قدم اُن غلطیوں کی نشاندہی کرکے اٹھا رہے ہیں جہاں بہتری کی ضرورت اور گنجائش موجود ہے۔

وردہ تنویر کاظمی کا شمار بھی ایسے ہی پاکستانیوں میں ہوتا ہے جن کا ماننا ہے کہ پاکستان کا مستقبل بدلنے کے لیے پاکستان کے حال پر توجہ دینا ضروری ہے۔ اور اُن کے نزدیک پاکستان کا حال وہ ننھے منے بچے ہیں جنہیں کل کو اس ملک کی باگ ڈور سنبھالنی ہے۔

لاہور کے ہوم اکنامکس کالج سے ’ہیومن ڈیویلپمنٹ اینڈ فیملی سٹڈی‘ میں ماسٹرز کرنے کے بعد وردہ نے لندن سے ’مانٹیسری ٹیچنگ‘ میں ایک سال کا ڈپلومہ حاصل کیا۔ اس کے بعد وہ لندن کے اسکولوں سے وابستہ رہیں اور پاکستان آکر بھی تعلیم کے شعبے میں ہی کام کیا۔

وردہ کو اس کے بعد سعودی عرب میں کام کرنے کا موقع ملا اور گذشتہ چند برسوں سے وہ جدہ میں ہی مقیم ہیں۔ وردہ کہتی ہیں کہ بچوں کے ساتھ کام کرنا، انہیں مختلف چیزیں سکھانا اور ان کی نفسیات کو سمجھنے کا تجربہ نہ صرف بطور معلمہ ان کے کام آیا بلکہ اِس تجربے نے انہیں زندگی کا ایک نیا رخ دیکھنے میں بھی مدد دی۔ وردہ اگلے چند برسوں میں اپنے کام میں مکمل مہارت اور بین الاقوامی اداروں سے حاصل ہونے والے تجربے کو پاکستان میں ایک ایسے اسکول کی صورت میں سامنے لانے کا ارادہ رکھتی ہیں جو بین الاقوامی معیار کا حامل ہو۔

وردہ کہتی ہیں کہ پاکستان کے موجودہ سیاسی و معاشی حالات اور روز بروز بگڑتے منظرنامے میں بچوں پر زیادہ توجہ دینے کی اہمیت پہلے سے کہیں زیادہ ہو چکی ہے۔ صرف اساتذہ کا ہی نہیں بلکہ والدین کا بھی فرض ہے کہ وہ بچوں کی تعلیم و تربیت کے ساتھ ساتھ ان کی نفسیات پر بھی بھرپور توجہ دیں۔ کیونکہ ہر بچہ نفسیاتی طور پر دوسرے بچے سے مختلف ہوتا ہے اور بعض اوقات اُسے دوسرے بچوں کی نسبت زیادہ توجہ درکار ہوتی ہے۔

وردہ کاظمی کہتی ہیں کہ پاکستان میں چند اسکولوں نے ننھے بچوں کے لیے جدید خطوط پر کام شروع کیا ہے لیکن حکومتی سطح پر ابھی بہت کچھ کرنا باقی ہے۔ ان کے مطابق سرکاری اسکولوں کا فرسودہ نصاب اور اساتذہ کا رویہ بدلے بغیر تعلیم کے شعبے میں کامیابی حاصل کرنا ممکن نہیں۔

وردہ کا کہنا ہے کہ اگر ہم نے بطور معاشرہ بچوں کی طرف اپنی ذمہ داری نہ سمجھی تو الیکٹرانک میڈیا کی بھرمار کے اس زمانے میں جہاں بچے وقت سے پہلے بڑے ہو رہے ہیں، ہمیں بہت سے مسائل کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ پاکستان میں بہت سے بچے جارحانہ انداز اپنائے دکھائی دیتے ہیں جبکہ ٹی وی اور کمپیوٹر کے سامنے بیٹھ بیٹھ کر بچوں میں موٹاپے جیسے مسائل بھی بڑھتے جا رہے ہیں۔ وردہ کاظمی یہ بھی کہتی ہیں کہ بہت سے بچے توجہ نہ حاصل ہونے پر ’ڈپریشن‘ کا شکار ہو جاتے ہیں اور بچوں میں ’ڈپریشن‘ ان کی پوری زندگی کو تباہ کرسکتا ہے۔

​’بطور خاتون معلمہ سعودی عرب میں کام کرنے کا تجربہ کیسا رہا؟‘ ۔۔۔ میرے اس سوال کے جواب میں وردہ کا کہنا تھا کہ، ’’سعودی عرب ایک خاتون کو اتنی ہی آزادی سے کام کرنے کی اجازت دیتا ہے جیسا کہ کوئی بھی دوسرا ملک۔ بس سعودی عرب کے قوانین قدرے مختلف ہیں جس کی پابندی کرنی پڑتی ہے لیکن قوانین تو ہر ملک کے جدا ہوتے ہیں جن کا پابند ہونا ضروری ہوتا ہے۔‘‘

وردہ کاظمی کی گفتگو سنیئے اس آڈیو رپورٹ میں ۔۔۔
XS
SM
MD
LG