رسائی کے لنکس

حالیہ مہینوں میں کوئٹہ میں دہشت گردی کے بڑھتے ہوئے واقعات پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے، وزیر اعظم نے کہا کہ بلوچستان میں مزید دہشت گردی برداشت نہیں کی جائے گی

وزیر اعظم نواز شریف نے کہا ہے کہ ملک کے کسی بھی حصے میں دہشت گردی اور شدت پسندی ناقابلِ برداشت ہے، اور اُن کے چین کے مجوزہ دورے سے واپسی کے بعد وہ ملک بھر کی سیاسی جماعتوں کے سربراہوں اور پارلیمانی نمائندوں کی مشاورت سے دہشت گردی اور شدت پسندی سے نمٹنے کے لیے جامع پالیسی وضع کریں گے۔

اُنھوں نے یہ بات منگل کے روز صوبائی دارالحکومت میں ہونے والے ایک اعلیٰ اجلاس کی صدارت کے بعد میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے کہی۔

وزیر اعظم نے کہا کہ اِس حوالے سے چاروں صوبائی حکومتوں سے بھرپور تعاون کیا جائے گا۔

حالیہ مہینوں میں کوئٹہ میں دہشت گردی کے بڑھتے ہوئے واقعات پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے، میاں نواز شریف نے کہا کہ بلوچستان میں مزید دہشت گردی برداشت نہیں کی جائے گی۔

اُنھوں نے کہا کہ صوبائی حکومت کی درخواست پر بلوچستان میں انتظامیہ اور پولیس میں دیانتدار اور اچھے اہل کار تعینات کیے جائیں گے تاکہ پولیس اور انتظامیہ نئی روح اور توانائی کے ساتھ کام کرسکیں۔

اس کے ساتھ ساتھ، خفیہ اداروں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ ڈاکٹر عبد المالک بلوچ کی حکومت سے بھرپور تعاون کریں۔ آئی بی اور آئی ایس آئی کو ہزارہ ٹاؤن میں گذشتہ دِنوں ہونے والے خودکش بم حملے کو ایک ٹیسٹ کیس کے طور پر اس کی مکمل تحقیقات کرکےرپورٹ پیش کرنے کی ہدایات بھی دی گئی ہیں۔

قدرتی وسائل سے مالا مال پاکستان کے اس جنوبی مغربی صوبہٴ بلوچستان میں ایک عشرے سے دہشت گردی کے واقعات جاری ہیں، تاہم حالیہ چھ ماہ کے دوران شیعہ ہزارہ برادری پر انتہائی مہلک حملے کئے گئے ہیں، جِن میں اب تک 250سے زائد افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔
XS
SM
MD
LG