رسائی کے لنکس

رائے دہی کا سہ روزہ عمل بدھ کے روز مکمل ہوا، جس کے ابتدائی نتائج سے ظاہر ہوتا ہے کہ سیسی کو 93 فی صد سے زیادہ ووٹ پڑے۔ صباحی نے صرف تین فی صد ووٹ حاصل کیے ہیں

مصر کی فوج کے سابق سربراہ، عبدالفتاح السیسی نے صدارتی دوڑ میں اپنے حریف حمدین صباحی کے مقابلے میں بھاری اکثریت سے کامیابی حاصل کر لی ہے۔

رائے دہی کا سہ روزہ عمل بدھ کے روز مکمل ہوا، جس کے ابتدائی نتائج سے ظاہر ہوتا ہے کہ سیسی کو 93 فی صد سے زیادہ ووٹ پڑے۔ صباحی نے صرف تین فی صد ووٹ حاصل کیے ہیں، اور اُنھوں نے یہ کہتے ہوئے اپنی ہار مان لی ہے کہ، ’میں عوام کی رائے کو تسلیم کرتا ہوں‘۔

پولنگ سے قبل ہی سیسی کی کامیابی یقینی تھی، لیکن اُنھوں نے ووٹرو سے زیادہ سے زیادہ تعداد میں ووٹ ڈالنے کی اپیل کی تھی، تاکہ اُنھیں ملکی معیشت کو درست کرنے اور سیاسی کشیدگی سے نبردآزما ہونے کے لیے وسیع تر اختیار مل سکے۔

حکام کا کہنا ہے کہ پولنگ میں مصر کے پانچ کروڑ 40 لاکھ اہل ووٹروں میں سے 46 فی صد نے شرکت کی، جب کہ 2012ء میں محمد مرسی کے انتخاب کے وقت ووٹر ٹرن آؤٹ 52 فی صد تھا۔

یورپی یونین کے مشن کا کہنا ہے کہ انتخابات ’پُرامن اور منظم‘ انداز میں منعقد ہوئے، جن میں ضابطوں کے انحراف کے مختصر مسائل سامنے آئے، مثلاً پولنگ اسٹیشنوں کے سامنے انتخابی مہم چلانے کی شکایات۔

اخوان المسلمین نے ووٹنگ کے بائیکاٹ پر زور دیتے ہوئے سیسی اور اُن کے اتحادیوں پر ’دھاندلی اورغلط حربوں‘ کے استعمال کا الزام لگایا تھا۔

اُس کا کہنا ہے کہ سیسی کی صدارت دراصل فوجی انقلاب کے ذریعے مصر پر قبضہ جمانے کا تسلسل ہے، جس کا آغاز پچھلے برس اُس وقت ہوا جب فوج نے اسلام پسند صدر، محمد مرسی کو اقتدار سے علیحدہ کیا۔

مسٹر مرسی اور اخوان المسلمین کے حامی متعدد افراد کو حکومت مخالف مظاہرین کی ہلاکتوں سے متعلق مقدمے کا سامنا ہے۔

سیسی کا کہنا ہے کہ مصر کے مستقبل میں اخوان المسلمین کا کوئی کردار نہیں ہوگا۔
XS
SM
MD
LG