رسائی کے لنکس

مصری وزارت دفاع کے نزدیک خیمہ زن مظاہرین میں ایسے لوگ شامل ہیں جن کا تعلق زیادہ تر اسلامی جماعتوں سے ہے، جو فوج کی حکمرانی کے فوری خاتمے کا مطالبہ کررہے ہیں

اس ماہ کے اواخر میں مصر میں ہونے والے یادگار صدارتی انتخاب سے قبل تناؤ کے ماحول میں پھر سے اضافہ ہوتا جارہا ہے ، اور جمعے کے روز قاہرہ میں مصر کی وزارتِ دفاع کے نزدیک مظاہرین اور فوج میں جھڑپ ہوئی۔

قاہرہ کے عباسیہ ضلعے میں احتجاج کرنے والوں نے فوج پر پتھر پھینکے، جنھوں نے جواباً مظاہرین پر تیز دھار والا پانی برسایا۔ آتشزنی کے واقعات میں ملوث کچھ مظاہرین کو ٹیلی ویژن پر دکھایا گیا۔

یہ ہنگامہ آرائی دو روزقبل قاہرہ میں ہونے والی اُس لڑائی کے بعد واقع ہوئی ہے جس میں 11افراد ہلاک اور 100سے زائد زخمی ہوئے تھے، جس کے بعد اسلامی جماعتوں سے تعلق رکھنے والے چوٹی کے دو امیدواروں نے احتجاج کرتے ہوئے اپنی انتخابی مہم منسوخ کردی تھی۔

مصری وزارت دفاع کے نزدیک خیمہ زن مظاہرین میں ایسے لوگ شامل ہیں جن کا تعلق زیادہ تر اسلامی جماعتوں سے ہے، جو فوج کی حکمرانی کے فوری خاتمے کا مطالبہ کررہے ہیں۔

مصر کے صدارتی انخابات مئی کی 23اور 24تاریخوں کو ہونے والے ہیں۔ اِس ہفتے، فوجی حکمرانوں نے اِس بات کا عہد کیا کہ یہ انتخابات منصفانہ طور پر منعقد کیے جائیں گے۔

XS
SM
MD
LG