رسائی کے لنکس

مصر: احتجاج جاری، بحران کے خاتمے کے لیے فوج کی کوششیں


مصر: احتجاج جاری، بحران کے خاتمے کے لیے فوج کی کوششیں

مصر: احتجاج جاری، بحران کے خاتمے کے لیے فوج کی کوششیں

حکمراں فوجی کونسل پیر سے شروع ہونے والی پارلیمانی ووٹنگ میں فساد پھیلانے کی ہرگز اجازت نہیں دے گی: فیلڈ مارشل حسین تنتاوی

ایک عبوری سویلین حکومت کے قیام کا مطالبہ کرتے ہوئے مظاہرین اتوار کے دِن قاہرہ کے مرکزی علاقے میں جمع ہوئے، ایسے میں جب مصر کے فوجی حکمران نے خبر دار کیا ہے کہ جاری سیاسی ہنگامہ آرائی فوری طور پر بند نہ ہونے کی صورت میں ’انتہائی سنگین‘ نتائج برآمد ہوسکتے ہیں۔

فیلڈ مارشل حسین تنتاوی نے یہ بھی کہا کہ حکمراں فوجی کونسل پیر سے شروع ہونے والی پارلیمانی ووٹنگ میں فساد پھیلانے کی ہرگز اجازت نہیں دے گی۔

اُنھوں نے کہا کہ ملک ایک فیصلہ کُن مرحلے پر پہنچ چکا ہے۔ایک راستا ’مصر کو سلامتی سے ہمکنار کرنے ‘کے لیے کامیاب انتخابات کی طرف جاتا ہے جب کہ دوسرا خطرناک سمت اختیار کرنے کا ہے، جس کی مسلح افواج اجازت نہیں دیں گی۔

تنتاوی کا انتباہ ایسے میں سامنے آیا ہے جب قاہرہ کے تحریر چوک پر ہزاروں مظاہرین کا اجتماع مزید عوامی جہدوجہد کے لیے اکٹھا ہوچکا ہے، تاکہ مصر کی فوج فوری طور پر اقتدار ایک قومی نجات دہندہ حکومت کے حوالے کی جائے جو اُس وقت تک حکومت سنبھالے رکھے، جب تک ایک صدر کا انتخاب نہیں ہوجاتا۔

احتجاجی مظاہروں کی قیادت کرنے والے کئی ایک انقلابی نوجوان گروپوں نےتجویز دی ہے کہ امن کے نوبیل انعام یافتہ محمد البرداعی ایک سویلین انتظامیہ کی سربراہی سنبھالیں، جِس میں مختلف سیاسی مفادات سے تعلق رکھنے والے معاونین اُن کا ساتھ دیں۔اور مجوزہ ادارہ مصر کو جمہوری دور کی طرف لے جانے کے لیے نگرانی کے فرائض انجام دیتے ہوئے حکمراں فوجی کونسل کی جگہ لے۔

البرداعی نے ہفتے کے روز کہا کہ وہ مصر کی صدارت کےعہدے کے لیے الیکشن سے دستبردار ہو جائیں گے، اگر اُنھیں باضابطہ طور پر ایسی حکومت کی قیادت کرنے کے لیےکہا جاتا ہے۔
مسلح افواج کی سپریم کونسل نے ہفتے کو البرداعی اور دوسرے صدارتی امیدوار اور عرب لیگ کے سابق سربراہ امر موسیٰ سے بات چیت کی ہے۔ دونوں کا کہنا تھا کہ بات چیت کا تعلق موجود ہ بحران کو ختم کرنے سے تھا۔

XS
SM
MD
LG