رسائی کے لنکس

قاہرہ: دو سال قید کے بعد آیہ حجازی اور سات دیگر افراد بری


آیہ حجازی، اُن کے شوہر اور چھ دیگر ملزمان مئی 2014ء سے زیر حراست تھے، جب قاہرہ کی پولیس نے بغیر عدالتی وارنٹ کے اُن کے ادارے پر چھاپہ مارا، جس دوران اُن کا لیپ ٹاپ کمپیوٹر اور دیگر آلات ضبط کیے گئے

مصر کی ایک عدالت نے ایک مصری نژاد امریکی خاتون اور سات دیگر افراد کو بری کر دیا ہے، جو تین برس سے قید تھے، جن پر انسانی اسمگلنگ کا الزام تھا۔ اُن کی فائونڈیشن قاہرہ میں بے آسرہ بچوں کی امداد کرتی ہے۔


آیہ حجازی، اُن کے شوہر اور چھ دیگر ملزمان مئی 2014ء سے زیر حراست تھے، جب قاہرہ کی پولیس نے بغیر عدالتی وارنٹ کے اُن کے ادارے پر چھاپہ مارا، جس دوران اُن کا لیپ ٹاپ کمپیوٹر اور دیگر آلات ضبط کیے گئے۔


ساتوں ملزمان پر انسانی اسمگلنگ، بچوں کے ساتھ زیادتی اور اُنھیں حکومت مخالف احتجاج کے لیے استعمال کرنے کا الزام تھا۔


اِن گرفتاریوں کے بعد حقوقِ انسانی کے سرگرم گروپوں کی جانب سے آواز بلند ہوئی، جن میں الزامات کے من گھڑت ہونے کا دعویٰ کیا گیا تھا، جس کا مقصد حکومت کی جانب سے متمدن معاشرے کے افراد کے خلاف سخت گیری سے پیش آنے کا جواز فراہم کرنا بتایا گیا۔


اتوار کے روز رہائی سے قبل، عدالتی کارروائی میں متعدد بار تاخیر ہوئی، جس کا سبب، انسانی حقوق کے گروہوں کے مطابق، بلاجواز بہانے تلاش کرنا تھا، جیسا کہ عدالتی سماعت کے دوران کمپیوٹر 'آن' ہونے میں دیر کی شکایت۔


ہیومن رائٹس واچ کی بین الاقوامی تنظیم سے منسلک ایک سینئر اہل کار نے گذشتہ ماہ حجازی اور دیگر ملزمان کے مقدمے کو ''انصاف کے ساتھ مذاق'' قرار دیا تھا۔


تنظیم سے تعلق رکھنے والے، جو اسٹارک نے اس بات پر بھی احتجاج کیا تھا کہ ملزمان کو اپنے وکیلوں سے نجی طور پر ملنے تک کی اجازت نہیں دی جاتی؛ جب کہ ضمانت پر رہائی کی استدعا کو کئی بار مسترد کیا جاتا رہا ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG