رسائی کے لنکس

مصر: سرکاری انتباہ کے باوجود مزید مظاہروں کا اعلان


قاہرہ کے ایک مظاہرے میں معزول صدر محمد مرسی کی حامی ایک خاتون ماسک پہنے فوج کے خلاف نعرے لگارہی ہیں

قاہرہ کے ایک مظاہرے میں معزول صدر محمد مرسی کی حامی ایک خاتون ماسک پہنے فوج کے خلاف نعرے لگارہی ہیں

'اخوان المسلمون' اور اس کی اتحادی جماعتوں نے حکومتی انتباہ کو مسترد کرتے ہوئے جمعے کو ملک کے تمام بڑے شہروں میں 'ملین مارچز' کا اعلان کیا ہے۔

مصر کی عبوری حکومت نے معزول صدر محمد مرسی کے حامیوں کو پیش کش کی ہے کہ اگر وہ دارالحکومت قاہرہ میں اپنے دھرنے ختم کردیں تو حکومت انہیں واپس جانے کے لیے "محفوظ راستہ" فراہم کرے گی۔

لیکن معزول صدر کی جماعت 'اخوان المسلمون' اور اس کی اتحادی جماعتوں نے حکومتی پیش کش کو مسترد کرتے ہوئے جمعے کو ملک بھر میں مزید مظاہروں کا اعلان کردیا ہے۔

مصرکی وزارتِ داخلہ کی جانب سے جمعرات کو سرکاری ٹی وی پر نشر کیے جانے والے ایک بیان میں وزارت نے 'رابعۃ العداویہ' اور 'نہضۃ' کے میدانوں میں جمع افراد کو "دلیل اور قومی مفاد کو مقدم" رکھتے ہوئے فوری طور پر اپنا احتجاج ختم کرنے کا کہا ہے۔

وزارتِ داخلہ نے یہ بیان فوج کی حمایت یافتہ عبوری حکومت کی جانب سے وزارت کو معزول صدر کے حامی مظاہرین کے خلاف کاروائی کا حکم دیے جانے کے ایک روز بعد جاری کیا ہے۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ حکومت کے حکم کے بعد پولیس کے اعلیٰ افسران کے ایک اجلاس میں مذکورہ دونوں مقامات پر جاری دھرنے ختم کرانے کی حکمتِ عملی پر غور کیا گیا۔

منگل کو مصر کی عبوری حکومت نے قاہرہ کے ان دونوں مقامات پر تین ہفتوں سے جاری دھرنوں کو "ملکی سلامتی کے لیے ناقابلِ قبول خطرہ" قرار دیتے ہوئے حکام سے کہا تھا کہ وہ احتجاج ختم کرانے کے لیے "قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے" کاروائی کریں۔

قاہرہ کے مشرقی علاقے میں واقع 'رابعۃ العداویہ' نامی مسجد کے باہر اور قاہرہ یونیورسٹی کے سامنے 'نہضۃ اسکوائر' کے مقامات پر 'اخوان المسلمون' اور اس کی اتحادی جماعتوں کے ہزاروں حامی فوج کی جانب سے صدر مرسی کی معزولی کے بعد سے مسلسل دھرنا دیے ہوئے ہیں۔

عبوری حکومت کی جانب سے کئی بار کے انتباہ کے باوجود پرامن مظاہرین نے محمدمرسی کی بحالی تک اپنا احتجاج ختم کرنے سے انکار کردیا ہے۔

مظاہرین کے انکار کے بعد خدشہ ظاہر کیا جارہا ہے کہ مصری سیکیورٹی ادارے دھرنوں کے خاتمے کے لیے طاقت استعمال کرسکتے ہیں جس سے ملک کی پہلے سے کشیدہ صورتِ حال مزید ابتر ہونے کا اندیشہ ہے۔

گزشتے ہفتے بھی قاہرہ میں احتجاج کرنے ولاے اخوان المسلمون کے حامیوں پر سیکیورٹی اہلکاروں کی فائرنگ کے نتیجے میں 80 سے زائد افراد ہلاک ہوگئے تھے۔

تین جولائی کو مصری فوج کی جانب سے صدر محمد مرسی کو معزول کیے جانے کے بعد سے سیکیورٹی فورسز کے ہاتھوں معزول صدر کے حامیوں کے قتلِ عام کا یہ دوسرا بڑا واقعہ تھا۔

اس سے قبل آٹھ جولائی کو صدارتی محافظوں کے دفتر کے سامنے احتجاج کرنے والے معزول صدر کے حامیوں پر فوجی اہلکاروں کی فائرنگ کے نتیجے میں 50 سے زائد افراد مارے گئے تھے۔

مصر میں محمد مرسی کی معزولی کے بعد سے ملک میں پرتشدد احتجاج میں ہونے والی ہلاکتیں 300 تک جا پہنچی ہیں جس کے بعد کئی مغربی ممالک نے مصر کی عبوری حکومت کو "تحمل" کا مظاہرہ کرنے اور "طاقت استعمال نہ کرنے" کا مشورہ دیا ہے۔

وزارتِ داخلہ کے تازہ انتباہ کے بعد محمد مرسی کی حامی سیاسی جماعتوں کے اتحاد نے اپنے ایک بیان میں الزام عائد کیا ہے کہ سیکیورٹی فورسز تشدد کی آگ بھڑکا کر مظاہرین کا ایک اور قتلِ عام کرنا چاہتی ہیں۔

اتحاد نےاپنا احتجاج جاری رکھنے کا اعلان کرتے ہوئے فوجی اور پولیس اہلکاروں سے اپیل کی ہے کہ وہ مظاہرین پر براہِ راست فائرنگ کرنے کے احکامات ماننے سے انکار کردیں۔

'اخوان المسلمون' نے بھی عبوری حکومت کے احکامات تسلیم نہ کرنے کا اعلان کرتے ہوئے جمعے کو مصر کے تمام بڑے شہروں میں معزول صدر کی حمایت میں 'ملین مارچ' کرنے کا اعلان کیا ہے۔
XS
SM
MD
LG