رسائی کے لنکس

مصر: تبدیلی کے ایک سال بعد

  • ایلزبتھ آروٹ

مصر: تبدیلی کے ایک سال بعد

مصر: تبدیلی کے ایک سال بعد

ایک سال ہوا جب بپھرے ہوئے مصری تبدیلی کے مطالبے کے ساتھ سڑکوں پر نکل آئے تھے ۔ اب ایک سال گذرنے کے بعد آنے والی تبدیلی ان کے تصور سے مختلف ہے۔

گزشتہ سال تحریر اسکوائر پر امڈ آنے والے لاکھوں لوگوں کا تعلق زندگی کے ہر طبقے سے تھا۔ ان میں غریب اور درمیانے طبقے کے لوگ، مسلمان اور عیسائی سبھی شامل تھے۔ لیکن اس عوامی تحریک کے بیج سیکولر خیالات رکھنے والے لوگوں اور نوجوانوں نے بوئے تھے۔ یہ فیس بُک اور ٹوئٹر پر سرگرم نوجوان تھے جنھوں نے تحریک کو منظم کیا اور انقلاب کے علمبر دار بن گئے۔

ایک سال بعد، عوامی ووٹوں سے منتخب ہونے والی مصر کی پہلی پارلیمینٹ پر اخوان المسلمون کا غلبہ ہے جو انقلاب کے ابتدائی دنوں میں منظر سے بڑی حد تک غائب تھی۔ بہت سے سرگرم نوجوان اس صورتِ حال پر نا خوش ہیں۔ حنّان عبد العلیم کا کہنا ہے کہ ’’میں سمجھتا ہوں کہ کونسل کو اقتدار کی قیمت ان لوگوں نے اپنے خون سے ادا کی ہے جو تحریر اسکوائر میں ہلاک ہوئے۔ ہم یہاں اس لیے موجود ہیں کہ انہیں یاد دلائیں کہ یہ کونسل ایک انقلاب کے نتیجے میں وجود میں آئی ہے۔‘‘
جمہوریت کے حامیوں کے لیے، ان کی جدوجہد کے نتائج ملے جلے رہے ہیں۔ انھوں نے مطالبہ کیا کہ لوگوں کی آواز سنی جائے، اور اب وہ جو سن رہے ہیں وہ یہ ہے کہ لوگ اسلام پسندوں کے حامی ہیں۔

لیکن سب لوگ مایوس نہیں ہیں۔ بعض لوگ، جیسے سمیع عبد العظیم پُر اُمید ہیں کہ یہ پارلیمینٹ غیر جانبداری سے اپنا کام کرے گی، اور موجودہ فوجی حکمرانوں سمیت، مخالف قوتوں کا مقابلہ کر سکے گی۔ ان کے مطابق ’’ان لوگوں کو مصر کے عوام نے منتخب کیا ہے ۔ ہمیں ان کی پسند پر اعتماد ہے۔ ہمیں یقین ہے کہ انشا ء اللہ وہ ہماری اُمیدوں کو پورا کریں گے۔ ہمیں اُمید ہے کہ یہ نئی پارلیمینٹ ماضی سے مختلف ہوگی۔ انقلاب کے بعد ہم ایک نئے ماحول میں ہیں۔‘‘

دوسرے سرگرم کارکنوں کا خیال ہے کہ اسلام پسندوں کی برتری بے معنی سی بات ہے۔ انسانی حقوق کے کارکن گاسر رازق کہتے ہیں کہ سیکولر ریاست اور مذہبی ریاست کی بحث بالکل مصنوعی ہے ۔ انھوں نے کہا کہ ’’مصر کبھی بھی سیکولر مملکت نہیں رہا۔ مصر نے ہمیشہ درمیانی راہ اختیار کی ہے۔ مثلاً ، ورثے کی تقسیم کو لیجیے۔ آپ کو ورثہ سول قانون کے مطابق نہیں ملتا۔ ورثے کی تقسیم شریعت کے مطابق، اور چرچ کے بنائے ضابطوں کے مطابق ہوتی ہے۔ کوئی عیسائی مرد کسی مسلمان عورت سے شادی نہیں کر سکتا۔ اس ملک میں سول میرج نام کی کوئی چیز نہیں۔‘‘

بہت سے لوگ کہتے ہیں کہ اصل بات یہ ہے کہ ہم سب کو مل جل کر رہنا ضروری ہے۔ ملک کے مسائل ایسے ہیں کہ اخوان المسلمون نے واضح کر دیا ہے کہ وہ اکیلی یہ ذمہ داری اٹھانا نہیں چاہتی۔ رازق کہتے ہیں کہ یہ اچھی بات ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ’’تقریباً ساٹھ برس سے ہم ایک بہت ظالمانہ اور آمرانہ حکومت میں رہتے رہے ہیں۔ ان ساٹھ برسوں میں، کسی نے یہ نہیں سیکھا کہ اتحاد بنا کر کام کیا جائے۔ کسی نے یہ نہیں سیکھا کہ ہر کھیل کے کچھ قواعد و ضوابط ہوتے ہیں اور میرے خیال میں مصر کو آج اس کی ضرورت ہے۔ مصر میں اسلام پسندوں کو لبرل عناصر کے ساتھ مل کر کام کرنا ہے۔‘‘

بعض لوگ کہتے ہیں کہ پہلا چیلنج اس بات کو یقینی بنانا ہے کہ لوگوں کی آواز سنی جائے۔ ان لوگوں کے لیے، اس کا مطلب یہ ہے کہ فوج کو بیرکوں میں واپس بھیجا جائے۔

ایسا لگتا ہے کہ فوج نے اس سمت میں پہلا قدم اٹھا لیا ہے۔ مصر کے فوجی حکمراں محمد حسین طنطاوی نے اعلان کیا ہے کہ وہ جزوی طور پر ملک سے 30 سال پرانا ہنگامی حالت کا قانون ختم کر دیں گے، جو طویل عرصے سے مصر میں فوجی حکمرانی کا اہم جزو رہا ہے۔

XS
SM
MD
LG