رسائی کے لنکس

مصر میں پارلیمانی انتخابات کی تاریخوں کا اعلان


مصر میں گزشتہ سال مئی میں ہونے والے صدارتی انتخاب کی ایک فائل فوٹو

مصر میں گزشتہ سال مئی میں ہونے والے صدارتی انتخاب کی ایک فائل فوٹو

ملک کے موجودہ صدر عبدالفتاح السیسی کی قیادت میں 2013ء میں محمد مرسی کے خلاف ہونے والی فوجی بغاوت کے بعد مصر میں ہونے والے یہ پہلے عام انتخابات ہوں گے۔

مصر میں حکام نے رواں سال کی آخری سہ ماہی میں پارلیمانی انتخابات کے انعقاد کا اعلان کیا ہے۔

مصر کے الیکشن کمیشن کے سربراہ ایمن عباس نے اتوار کو قاہرہ میں ایک نیوز کانفرنس میں صحافیوں کو بتایا کہ انتخابات کا انعقاد دو مرحلوں میں کیا جائے گا۔

پہلے مرحلے میں ملک کے 14 صوبوں میں 18 اور 19 اکتوبر کو ووٹ ڈالے جائیں جب کہ دوسرے مرحلے میں دارالحکومت قاہرہ سمیت 13 صوبوں میں 22 اور 23 نومبر کو پولنگ ہوگی۔

انتخابات کا انعقاد رواں سال مارچ میں ہونا تھا لیکن مصر کی سپریم کورٹ کی جانب سے بعض انتخابی قوانین کو غیر آئینی قرار دینے کے باعث انتخابات ملتوی کردیے گئے تھے۔

پارلیمانی انتخابات کے نتیجے میں مصر میں ساڑھے تین سال کے تعطل کے بعد پارلیمان کا وجود مکمل ہوسکے گا جس کے نتیجے میں ملک میں سول اقتدار کی مکمل بحالی کا امکان ہے۔

موجودہ صدر عبدالفتاح السیسی کی جانب سے 2013ء میں مصری فوج کے سربراہ کی حیثیت سے ملک کے منتخب صدر محمد مرسی کی حکومت کا تختہ الٹنے اور بعد ازاں خود صدارت سنبھال لینے کے بعد ملک میں ہونے والے یہ پہلے پارلیمانی انتخابات ہوں گے۔

مصر میں 2011ء کے عوامی انقلاب کے بعد انتخابات کے نتیجے میں وجود میں آنے والے پارلیمان کے ایوانِ زیریں کو جون 2012ء میں ایک عدالت نے کالعدم قرار دے دیا تھا جس کےبعد سے ملک میں عوام کے حقیقی نمائندہ ایوان کا وجود نہیں۔

مذکورہ پارلیمان میں سابق حکمران جماعت اخوان المسلمون کی اکثریت تھی جسے 2013ء کی فوجی بغاوت کے بعد کالعدم قرار دے دیا گیا ہے۔

جماعت کے ہزاروں رہنما اور کارکن جیلوں میں قید ہیں جن میں سے سیکڑوں کو مصری عدالتیں موت کی اجتماعی سزائیں سناچکی ہیں۔

ماضی کے آمر صدر حسنی مبارک کے خلاف 2011ء کی کامیاب احتجاجی تحریک کےبعد ہونے والے ہرسطح کے انتخابات میں اخوان المسلمون نے کامیابی حاصل کی تھی۔

لیکن محمد مرسی کے خلاف فوجی بغاوت اور جماعت پر پابندی عائد ہونے کے بعد سے اخوان کی بیشتر قیادت اور سرگرم ارکان یا تو جیلوں میں قید ہیں یا پھر زیرِ زمین یا بیرون ملک پناہ لیے ہوئے ہیں اور سرگرم سیاسی کردار ادا کرنے کے قابل نہیں۔

پارلیمان کی عدم موجودگی میں نظمِ حکومت چلانے کے لیے صدر عبدالفتاح السیسی قانون سازی کا صدارتی اختیار استعمال کر رہے ہیں جس کے تحت انہوں نے کئی ایسے سخت قوانین متعارف کرائے ہیں جنہیں ناقدین بنیادی انسانی حقوق اور شہری آزادیوں کے خلاف قرار دیتے ہیں۔

مصری پارلیمان کا ایوانِ نمائندگا ن 568 نشستوں پر مشتمل ہے جن میں سے 448 پر براہِ راست انتخاب ہوتا ہے۔ باقی 120 نشستیں خواتین، اقلیتوں اور نوجوانوں کے لیے مخصوص ہیں جو کامیاب جماعتوں میں نمائندگی کی بنیاد پر تقسیم ہوتی ہیں۔

مصر کے نئے آئین میں صدر کوبھی پارلیمان کے ارکان نامزد کرنے کا اختیار دیا گیا ہے جن کی تعداد منتخب ارکان کی کل تعداد کا پانچ فی صد تک ہوسکتی ہے۔

XS
SM
MD
LG