رسائی کے لنکس

نئے گورنروں میں سے بیشتر ان صوبوں میں تعینات کیے گئے ہیں جہاں معزول صدر محمد مرسی نے اپنے دورِ حکومت میں غیر فوجی افراد کو گورنر مقرر کیا تھا

فوج کے حمایت یافتہ مصر کے عبوری صدر نے ملک کے 18 صوبوں میں نئے گورنروں کی تقرری کا اعلان کیا ہے جن میں سے نصف سابق فوجی جرنیل ہیں۔

نئے گورنروں میں سے بیشتر ان صوبوں میں تعینات کیے گئے ہیں جہاں فوج کے ہاتھوں معزول ہونے والے اسلام پسند صدر محمد مرسی نے اپنے دورِ حکومت میں غیر فوجی افراد کو گورنر مقرر کیا تھا جن میں سے بعض کا تعلق ان کی جماعت 'اخوان المسلمون' سے تھا۔

عبوری صدر عدلی منصور نے منگل کو دارالحکومت قاہرہ میں نئے گورنروں سے ان کے عہدوں کا حلف لیا۔

حلف برداری کی تقریب کے بعد ایوانِ صدر میں ہونے والے ایک اجلاس میں صدر منصورنے نئے گورنروں کو تاکید کی کہ وہ عوام کو بنیادی سہولتوں کی فراہمی یقینی اور ملک کے گلی کوچوں میں سکیورٹی کی صورتِ حال بہتر بنانے پر اپنی توجہ مرکوز کریں۔

لیکن مصر کی کئی سیاسی جماعتوں اور عوامی حلقوں نے سابق فوجی جرنیلوں کی صوبائی گورنروں کی حیثیت سے تعیناتی پر کڑی نکتہ چینی کرتے ہوئے اس اقدام کو ملک پر فوج کا تسلط قائم کرنے کی کوشش قرار دیا ہے۔

خیال رہے کہ مصر میں سابق فوجی صدر حسنی مبارک کے لگ بھگ تین دہائیوں پر مشتمل دورِ اقتدار کے دوران میں صوبوں کے گورنرکا منصب فوج اور پولیس کے سابق اعلیٰ افسران کے لیے مخصوص سمجھا جاتا تھا جو سابق صدر کے آمرانہ اقتدار کو مستحکم رکھنے میں اہم کردار ادا کرتے تھے۔

'عرب بہار' کے نتیجے میں برسرِ اقتدار آنے والے مصر کے پہلے جمہوری طور پر منتخب صدر محمد مرسی نے اپنے ایک سالہ دورِ اقتدار کے دوران میں کئی صوبوں میں نئے گورنروں کا تقرر کیا تھا جو تمام کے تمام غیر فوجی تھے۔

مصر کی کئی سیاسی جماعتوں نے عبوری حکومت کی جانب سے سابق فوجیوں کو صوبائی گورنر تعینات کرنے کے فیصلے پر کڑی تنقید کی ہے۔

ملک کی دوسری بڑی اسلام پسند جماعت 'النور' نے نئی تقرریوں کو "مایوس کن" قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ یہ فیصلہ بغیر کسی مشاورت کے کیا گیا ہے۔

'النور' کے ایک ترجمان نے کہا ہے کہ سابق فوجی افسران کے انتخاب سے اس خدشے کی تصدیق ہوگئی ہے کہ مصر دوبارہ فوجی اقتدار کی جانب بڑھ رہا ہے۔

سابق صدر مبارک کے خلاف چلنے والی عوامی احتجاجی تحریک میں پیش پیش جمہوریت پسند نوجوانوں کی تنظیم 'اپریل 6 موومنٹ' نے بھی نئی تقرریوں پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان میں بہت سے فوجیوں اور مبارک انتظامیہ کی باقیات کو شامل کیا گیا ہے۔

تنظیم نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ "انقلاب سے قبل ملک میں سیاسی گہما گہمی تباہ کرنے والے پرانے چہروں کو واپس لانا عبوری حکومت کی ایک اور ناکامی ہے"۔

اخوان المسلمون سے علیحدہ ہونے والے سیاست دان عبدالمنعم عبدالفتاح کی جماعت 'اسٹرونگ ایجپٹ' نے بھی نئی تقرریوں کو "مصر کو فوجی ریاست بنانے کی جانب ایک قدم " قرار دیا ہے۔

مصر میں انسانی اور شہری حقوق کی کئی تنظیموں اور بلاگرز نے بھی سابق فوجی افسران کو گورنر تعینات کرنے کے فیصلے پر تنقید کی ہے۔

عبوری حکومت نے نئے گورنروں کی تعیناتی کا اعلان ایک ایسے وقت میں کیا ہے جب دارالحکومت قاہرہ میں معزول صدر مرسی کے حامیوں اور فوج کی حمایت یافتہ عبوری حکومت کے حامیوں کے درمیان نئی جھڑپیں ہوئی ہیں۔

معزول صدر کی جماعت 'اخوان المسلمون' نے الزام عائد کیا ہے کہ اس کے ایک جلوس پر سادہ لباس پولیس اہلکاروں کی فائرنگ کے نتیجے میں تنظیم کا ایک کارکن ہلاک ہوگیا ہے۔

سکیورٹی حکام نے دعویٰ کیا ہے کہ اخوان کا کارکن پولیس اہلکاروں کی فائرنگ سے نہیں بلکہ مرسی کے حامیوں اور مخالفین کے درمیان جھڑپوں کے نتیجے میں ہلاک ہوا۔

اطلاعات کے مطابق جھڑپیں اس وقت ہوئیں جب سابق صدر کے ہزاروں حامیوں پر مشتمل ایک جلوس نے وسطی قاہرہ میں واقع وزارتِ داخلہ کے دفتر کی جانب بڑھنے کی کوشش کی۔

مغربی ذرائع ابلاغ کے مطابق جلوس کے شرکا پر معزول صدر کے مخالفین اور علاقہ مکینوں نے پتھراؤ کیا اور عمارتوں کی چھتوں سےجلوس پر مختلف اشیا پھینکیں۔ جواباً جلوس میں شامل مظاہرین نے بھی حملہ آوروں پر پتھر برسائے۔

بعد ازاں پولیس نے جلوس پر آنسو گیس کی شیلنگ کرکے معزول صدر کے حامیوں کو منتشر کردیا لیکن علاقے کی آس پاس کی گلیوں اور سڑکوں پر کئی گھنٹوں تک جلوس کے شرکا اور معزول صدر کے مخالفین کے درمیان جھڑپوں کا سلسلہ جاری رہا۔
XS
SM
MD
LG